
بلوچستان ضلع کیچ کے علاقے ہوشاپ میں گزشتہ شب پاکستانی فوج کے جانب سے عام آبادی پر مارٹر گولے داغے کے نتیجے میں پانچ بچیاں زخمی ہوگئیں، جن میں سے ایک کمسن بچی یاسمین ناصر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے تربت ٹیچنگ ہسپتال میں جاں بحق ہوگئی۔ دیگر چار زخمی بچیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
علاقائی ذرائع کے مطاب مارٹر گولے فورسز کیمپ کی سمت سے فائر کیے گئے جس سے گھروں کو نقصان پہنچا اور خواتین و بچے متاثر ہوئے۔ تاہم سرکاری سطح پر اس واقعے کے حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔
تربت ٹیچنگ ہسپتال کے ایک اہلکار نے پانچ زخمی بچوں کی آمد اور ایک بچی کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ زخمیوں کو تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
سانحے کے خلاف ہوشاپ کے متاثرہ خاندانوں اور مقامی آبادی نے ایم 8 شاہراہ پر احتجاجی دھرنا دیا، جس کے باعث ٹریفک مکمل طور پر معطل ہو گئی۔ دھرنے میں بڑی تعداد میں مرد، خواتین اور بزرگوں نے شرکت کی۔
مظاہرین نے واقعے کو ’’سنگین انسانی المیہ‘‘ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ معصوم بچیوں کا نشانہ بن جانا ریاستی اداروں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جانا چاہیے۔
