نسرین بلوچ، ماجبین بلوچ اور دیگر بلوچ خواتین کے اغوا اور ڈرون کے استعمال کا مسئلہ برطانوی پارلیمنٹ میں زیرِ بحث

لندن: ویسٹ منسٹر میں ایک اہم پیش رفت کے دوران لیبر پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ جان میکڈونل نے ہاؤس آف کامنز میں بلوچستان کی صورتحال پر باقاعدہ توجہ مبذول کرائی ہے۔ انہوں نے بلوچ خواتین کے اغوا بشمول نسرین بلوچ اور ماجبین بلوچ اور بلوچستان میں داخلی سکیورٹی کارروائیوں کے دوران ڈرون کے مبینہ استعمال کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے میکڈونل نے تین تحریری پارلیمانی سوالات جمع کروائے ہیں اور ایک “اِرلی ڈے موشن” بھی پیش کی ہے۔ یہ تمام نکات اب برطانوی پارلیمنٹ کے سرکاری ریکارڈ کا حصہ بن گئے ہیں اور حکومت کو تین دن کے اندر تحریری سوالات کے جواب جمع کرانا ہوں گے۔ یہ سوالات عوامی طور پر ہاؤس آف کامنز کی سرکاری ویب سائٹ پر موجود ہیں۔

میکڈونل کی اِرلی ڈے موشن میں بلوچستان سے سامنے آنے والی حالیہ رپورٹس پر سخت تشویش ظاہر کی گئی ہے، خصوصاً 5 اکتوبر 2025 کو ضلع خضدار کے علاقے زہری میں ہونے والے ڈرون حملے پر، جس میں چھ شہریوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے، جن میں چار بچے بھی شامل تھے۔ تحریک میں ماجبین بلوچ جو خصوصی ضروریات کی حامل ایک طالبہ ہیں، کی 29 مئی 2025 کو جبری گمشدگی اور 22 نومبر 2025 کو کم عمر لڑکی نسرین بلوچ کے اغوا کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 17 نومبر 2025 کو پاکستانی سکیورٹی اداروں کے ہاتھوں پانچ بلوچ خواتین کی گرفتاری کا مسئلہ بھی اجاگر کیا گیا ہے جس کے بارے میں “اجتماعی سزا” کے خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔ تحریک میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ان واقعات کے تناظر میں مزید مؤثر اقدامات کرے اور وزراء کو اس یقین دہانی کی یاد دہانی بھی کروائی گئی ہے کہ برطانیہ نے بلوچستان میں انسانی حقوق کے خدشات پاکستانی حکام کے ساتھ پہلے بھی اٹھائے ہیں۔

تحریک کے ساتھ ساتھ میکڈونل نے تین تحریری سوالات میں یہ بھی پوچھا ہے:
• کیا وزیرِ خارجہ نے پاکستان کے ہم منصبوں کے ساتھ بلوچستان میں بڑھتی ہوئی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ حال ہی میں اٹھایا ہے؟
• کیا ڈیپارٹمنٹ فار بزنس اینڈ ٹریڈ نے اس خطرے کا جائزہ لیا ہے کہ برطانیہ سے فراہم کردہ فوجی یا سکیورٹی سازوسامان بلوچستان میں ممکنہ خلاف ورزیوں میں استعمال ہو سکتا ہے؟
• کیا کسی ایسے فوجی یا دوہری استعمال (dual-use) کے آلات کی برآمد کی منظوری دی گئی ہے جو ڈرون کارروائیوں یا اندرونی سکیورٹی اقدامات میں کام آ سکتے ہوں؟

یہ پیش رفت برطانوی پارلیمان میں بلوچستان کے حوالے سے مسلسل بڑھتی ہوئی دلچسپی کی مزید عکاسی کرتی ہے۔ بلوچ نیشنل موومنٹ (BNM) کے مطابق جو سال بھر برطانوی قانون سازوں سے رابطے میں رہی ہے اب تک چھ ارکانِ پارلیمنٹ اس مسئلے پر حکومت سے تحریری سوالات کے ذریعے جواب طلب کر چکے ہیں۔ ان میں سام کارلنگ ایم پی، سوجن جوزف ایم پی، مائیک مارٹن ایم پی، جم شیینن ایم پی، کیٹ اوسامور ایم پی اور جان میکڈونل ایم پی شامل ہیں۔ ان ارکان کا مسلسل اظہارِ دلچسپی اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہاؤس آف کامنز میں پاکستان کے ساتھ برطانوی تعلقات اور بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر نگرانی اور مؤثر بحث کا رجحان واضح طور پر بڑھ رہا ہے۔

مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

ماشکیل میں فائرنگ سے دو افراد ہلاک

ہفتہ نومبر 29 , 2025
بلوچستان کے ضلع واشک کے سرحدی علاقے ماشکیل بازار میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہوگئے۔ مقامی ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے ایک گاڑی کو نشانہ بناتے ہوئے اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار دونوں افراد موقع پر ہی دم […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ