
کوئٹہ — بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے احتجاجی کیمپ کو 6003 روز مکمل ہوگئے۔ کیمپ تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کی قیادت میں جاری ہے جہاں لاپتہ افراد کے لواحقین اور انسانی حقوق کے کارکنان روزانہ کی بنیاد پر اپنی موجودگی یقینی بناتے ہیں۔
آج بھی مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے شہریوں، سماجی تنظیموں کے نمائندوں اور طلبہ نے کیمپ کا دورہ کیا، شرکت کی اور اپنے احتجاجی پیغامات ریکارڈ کرائے۔ شرکاء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جبری گمشدگیوں کے مسئلے کے خاتمے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں اور لاپتہ افراد کی بازیابی کو ترجیح دی جائے۔
اسی دوران عارف بلوچ کے لواحقین نے وی بی ایم پی سے رابطہ کرکے شکایت درج کرائی کہ عارف بلوچ کو 30 اکتوبر کو بیسیمہ سے سیکورٹی فورسز نے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کردیا، اور انتظامیہ اہل خانہ کو ان کی خیریت کے بارے میں کسی قسم کی معلومات فراہم نہیں کر رہی۔ اہل خانہ کے مطابق عارف کی گمشدگی نے پورے خاندان کو شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کردیا ہے۔
یہ امر مزید تشویش کا باعث ہے کہ عارف بلوچ کے والد ذاکر اسماعیل 11 فروری 2013 سے جبری گمشدگی کا شکار ہیں۔ عارف بلوچ کئی سالوں سے اپنے والد کی بازیابی کے لیے سرگرم تھے، اور اب خود ان کی گمشدگی نے خاندان کو ایک اور صدمے سے دوچار کردیا ہے۔
وی بی ایم پی سمیت لواحقین نے عارف بلوچ اور ان کے والد ذاکر اسماعیل کی جبری گمشدگی کی مذمت کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔
