
تحریر: رامین بلوچ
ادب (لٹریچر) ہمیشہ سے مقبوضہ سماج کے شعور کا آئینہ رہا ہے۔ یہ محض جذبات و احساسات کے اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ ایک زندہ اور آزادی دوست قوم کے فکری، سماجی اور سیاسی رویوں کی تشکیل کا محرک بھی ہے۔ تاریخ اس حقیقت کی شاہد ہے کہ جب بھی سامراجی یا استعماری طاقتوں نے انسانی سماج پر غلبہ جمانے کی کوشش کی، جب بھی قوموں کو ان کے حقِ آزادی سے محروم کیا گیا، اور جب بھی ظلم و جبر کے اندھیروں نے انسانی آزادی کے قندیل بجھانے کی سعی کی، تو انہی تاریکیوں سے انقلابی اور مزاحمتی ادب نے جنم لیا۔یہی مزاحمتی ادب غلام قوموں کے ذہنوں میں روشنی کی کرنیں پیدا کرتا ہے، انہیں اپنے وجود، اپنی شناخت اور اپنی آزادی کی جدوجہد کے لیے بیدار کرتا ہے۔ یہ محض الفاظ کی ترتیب یا جمالیاتی اظہار کا نام نہیں، بلکہ ایک فکری اور عملی جدوجہد کا ہتھیار ہے۔ یہ قابض اور مقبوض کے درمیان ایک ایسی فکری جنگ ہے جو میدانِ کارزار میں لڑی جانے والی معرکہ آرائی کی نظریاتی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ اس کے ذریعے مقبوضہ اقوام اپنی تاریخ، روایات اور آدرش کو زندہ رکھتی ہیں اور قابض قوتوں کے جھوٹے بیانیے کو للکارتی ہیں۔
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ ہر آزادی کی تحریک کے پسِ پشت ایک مضبوط فکری تحریک ضرور موجود رہی ہے، اور اس فکری تحریک کی بنیاد اکثر ادب اور لٹریچر نے رکھی۔ہندوستان میں برطانوی استعمار کے خلاف آزادی کی تحریک میں ادب نے ایک بے مثال کردار ادا کیا۔ الجزائر کی آزادی کی تحریک میں فرانز فینن اور دیگر انقلابی دانشوروں نے اپنے ادبی اور فکری کام کے ذریعے فرانسیسی سامراج کے خلاف ایک طاقتور فکری محاذ کھڑا کیا۔کیوبا میں فیدل کاسترو اور چی گویرا کی عملی جدوجہد کے ساتھ ساتھ José Martí کے انقلابی افکار اور لٹریچر نے نظریاتی رہنمائی فراہم کی، جس نے قومی مزاحمت کو جِلا بخشی۔ ویت نام میں ہو چی منہ کے تحریری بیانات اور انقلابی ادب نے امریکی سامراج کے خلاف جدوجہد کو نظریاتی بنیاد فراہم کی اور عوام کو متحرک کرنے کا کام کیا۔اسی طرح افریقہ میں نگیوگی وا تھیونگو جیسے ادیبوں نے ادب کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، تاکہ غلامی کے خلاف ذہنی اور فکری مزاحمت کو پروان چڑھایا جا سکے۔ ان کے قلم نے نوآبادیاتی قوتوں کے جھوٹے بیانیے کو توڑا اور عوام کے دلوں میں آزادی کی شمع روشن کی۔
مزاحمتی ادب دراصل قومی شعور کو بیدار کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ غلام قومیں جب قابض طاقتوں کے پروپیگنڈے اور جھوٹے بیانیے کے زیرِ اثر آجاتی ہیں تو وہ اپنی شناخت کھونے لگتی ہیں۔ ایسے وقت میں مزاحمتی ادب انہیں اپنی اصل تاریخ یاد دلاتا ہے، ان کے زخموں کو لفظوں کا لباس دیتا ہے، اور یہ باور کراتا ہے کہ غلامی کوئی فطری یا دائمی حالت نہیں بلکہ ایک مسلط کردہ ظلم ہے، جسے توڑنا ممکن ہے۔ادب اور سیاست کے درمیان ایک گہرا تعلق ہے۔ سیاست عمل کا نام ہے، جبکہ ادب فکر کی علامت ہے، اور ہمیشہ عمل فکر سے جنم لیتا ہے۔ کوئی بھی نظریاتی تحریک اگر ادبی محاذ پر کمزور ہو تو وہ دیرپا کامیابی حاصل نہیں کر سکتی۔ انقلابی لٹریچر سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کے لیے فکری رہنمائی فراہم کرتا ہے، عوام کو بیدار کرتا ہے مزاحمتی اور انقلابی ادب محض کتابوں کے اوراق پر لکھے گئے الفاظ نہیں، بلکہ یہ ایک زندہ حقیقت ہے جو قوموں کے اجتماعی شعور میں سانس لیتی ہے۔ یہ قابض اور مقبوض کے درمیان ذہنوں اور شعور کی جنگ ہے۔ بندوق سے جسم کو مارا جا سکتا ہے مگر نظریے کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔
دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ ہر عظیم تحریک کے پیچھے ایک گہری فکری تحریک نے جنم لیا، جس نے انسانی ذہنوں کو آزاد کیا، غلامی کے زنجیروں کو توڑا اور اقوام کے دلوں میں مزاحمت کے چراغ روشن کیے۔ اور اس فکری تحریک کا سب سے مؤثر اور پائیدار ذریعہ ہمیشہ ادب اور لٹریچر رہا ہے۔ ادب محض الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ فکر کی تشکیل اور شعور کی بیداری کا ہتھیار ہے۔ غلام قوموں میں سب سے پہلے ان کے اذہان کو غلام بنایا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی زنجیروں کو تقدیر سمجھ کر قبول کرلیں۔ اس ذہنی غلامی کو توڑنے کے لیے شعور کی ضرورت ہوتی ہے، اور شعور کو جگانے کا کام فکری تحریریں کرتی ہیں۔ یورپ میں بادشاہت اور کلیسا کے جبر کے خلاف جو فکری مزاحمت اٹھی، وہ سب سے پہلے ادب اور فلسفہ کے میدان سے ابھری۔ ڈانٹے، شیکسپیئر، والٹیئر، روسو اور جان لاک جیسے مفکرین اور ادیبوں نے انسان کی آزادی، مساوات اور انصاف کے خواب کو الفاظ کا روپ دیا۔روسو کے نظریہ "سوشل کنٹریکٹ” نے فرانسیسی انقلاب کو فکری بنیاد فراہم کی۔والٹیئر نے اپنے نثر اور ڈراموں کے ذریعے ظلم کے خلاف ذہنوں کو بیدار کیا۔شیکسپیئر کے شاہکارڈرامے انسانی آزادی اور ظلم کے خلاف مزاحمت کا استعارہ بن گئے۔یوں یورپ کی سیاسی بیداری کے پیچھے ادب کی طاقت موجود تھی، جس نے اقوام کو شعوری طور پر آمادہ کیا کہ وہ ظالم حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ادب کا کردار صرف مزاحمت تک محدود نہیں بلکہ یہ قوموں کی تعمیرِ نو میں بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
مارکس اور اینگلز صرف سیاسی و معاشی مفکر ہی نہیں تھے بلکہ وہ اعلیٰ ترین جمالیاتی ذوق رکھنے والے عظیم ادیب اور فنونِ لطیفہ کے شائق بھی تھے۔ ان کا تعلق ان مفکرین کی اُس روایت سے تھا جو یہ سمجھتے تھے کہ انسانی سماج کی تشکیل میں فکر و جمالیات، آرٹ اور ادب بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مارکس اور اینگلز نے دنیا کے ادب، موسیقی، مصوری اور لوک ثقافت کے خزانوں کو نہ صرف گہرائی سے سمجھا بلکہ اپنی فکری اور انقلابی تحریروں میں ان سے بھرپور استفادہ بھی کیا۔
مارکس اور اینگلز دونوں نے اپنی جوانی میں شاعری بھی کی۔ اینگلز نے تو ایک وقت ایسا بھی سوچا کہ وہ بطور شاعر اپنی زندگی بسر کریں گے۔ اگرچہ بعد میں وہ انقلابی سیاست اور فلسفہ کی طرف متوجہ ہوئے، لیکن اس ابتدائی ادبی رجحان نے ان کی تحریروں میں ایک غیر معمولی تخلیقی رنگ بھر دیا۔ ان کے جملوں کی روانی، استعاراتی زبان اور فکری گہرائی اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ وہ محض سیاسی مفکر نہیں بلکہ فنونِ لطیفہ کی جمالیات کو بھی بخوبی سمجھنے والے ادیب تھے۔مارکس اور اینگلز کو نہ صرف اپنے عہد کے بڑے ادیبوں کا علم تھا بلکہ وہ ماضی کے کلاسیکی اور کم معروف مصنفین سے بھی بخوبی واقف تھے۔ ان کے پسندیدہ ادیبوں میں ایسکیلس، شیکسپیئر، ڈکنز، فیلڈنگ، گوئٹے، ہائنے، سروینٹس، بالزاک، دانتے، چرنیشوسکی اور دوبرولیوبوف شامل تھے۔ان کے مطالعے کا دائرہ صرف یورپ تک محدود نہیں تھا۔ وہ دنیا کی مختلف قوموں کی رزمیہ داستانوں، لوک کہانیوں، گیتوں، محاوروں اور ضرب الامثال سے بھی والہانہ محبت رکھتے تھے۔ اس دلچسپی کی بنیاد پر وہ سمجھتے تھے کہ عوامی فنون میں قوموں کی تاریخی شعور اور اجتماعی تجربات محفوظ ہوتے ہیں۔
مارکس اور اینگلز کی تحریروں کی ایک نمایاں خصوصیت ان کے ادبی اور دیومالائی حوالہ جات ہیں۔ ان کی تحریروں میں بارہا دیومالائی کردار، مشہور ادبی شخصیات، اور لوک کہاوتیں اس انداز میں آتی ہیں کہ وہ فلسفیانہ دلیل کا حصہ بن کر اس کو مزید جاندار اور مؤثر بنا دیتی ہیں۔
مثال کے طور پر، "سرمایہ” (Capital) میں مارکس نے بالزاک اور شیکسپیئر کے کرداروں کا استعمال کرتے ہوئے سرمایہ دارانہ نظام کے تضادات کو واضح کیا۔ اینگلز نے اپنی تحریروں میں لوک کہانیوں اور محاوروں کو عوامی شعور کی نمائندگی کے طور پر شامل کیا۔
مارکس اور اینگلز کے نزدیک ادب محض تفریح یا ذاتی اظہار کا ذریعہ نہیں تھا، بلکہ یہ قومی طبقاتی شعور کو اجاگر کرنے اور سماجی تبدیلی کی راہ ہموار کرنے کا ایک آلہ بھی تھا۔ وہ ادب کو ایک ایسے آئینے کے طور پر دیکھتے تھے جس میں سماج کی معاشی، سیاسی اور اخلاقی ساخت جھلکتی ہے۔مارکس کا کہنا تھا کہ سامراجی عہد کا ادب اس نظام کے تضادات کو ظاہر کرتا ہے، اور حقیقی ادیب وہی ہے جو ان تضادات کو حقیقت کے ساتھ پیش کرے۔
اینگلز نے "بالزاک” کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ وہ سیاسی طور پر رجعت پسند تھے، لیکن ان کے فن نے فرانسیسی سماج کے تضادات کو بے نقاب کر دیا، جو ایک سچے فنکار کی عظمت کی دلیل ہے۔مارکس اور اینگلز قومک فنون کے زبردست معترف تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ قومک گیت، کہانیاں، اور لوک رزمیے قوموں کی جدوجہد اور اجتماعی خوابوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ لوک فن دراصل عوام کی تاریخی یادداشت اور آزادی کے لیے ان کے جذبے کو زندہ رکھتے ہیں۔مارکس اور اینگلز کی فکری دنیا میں ادب اور آرٹ کو محض ذاتی شوق کے طور پر نہیں بلکہ انقلابی جدوجہد کے ایک لازمی حصے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ان کا یہ یقین تھا کہ ادب انسان کے شعور کو بیدار کرتا ہے، اس کے اندر آزادی کی تڑپ پیدا کرتا ہے، اور سماجی تبدیلی کے عمل کو آگے بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔یوں مارکس اور اینگلز کا نظریہ صرف معیشت اور سیاست تک محدود نہیں بلکہ یہ انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کو اپنے دائرے میں سمیٹ لیتا ہے، اور ادب اس نظریے کا ایک لازمی اور زندہ عنصر ہے۔
ادب زندہ اقوام کے شعور، فکر اور جذبات کا سب سے گہرا اور پائیدار مظہر ہے۔ یہ محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک زندہ اور متحرک سماج کے اندر پنپنے والی تاریخ، سیاست، ثقافت اور نفسیات کا عکاس ہوتا ہے۔ وہ سماج ، جہان حالات اذیت ناک ہو، وہاں ادب ایک ایسے ہائی ریزولوشن ڈیجیٹل کیمرے کی مانند ہے جو نہ صرف واقعات کو محفوظ کرتا ہے بلکہ ان سے جنم لینے والے احساسات، ردِعمل، اور آدرش کو بھی اپنی آنکھ میں بند کر لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ادب کسی قوم کے ماضی، حال اور مستقبل کے بیچ ایک مضبوط پل کا کردار ادا کرتا ہے۔قومی و مزاحمتی ادب کا دائرہ اس وقت زیادہ وسیع اور زیادہ شدید ہوجاتا ہے جب کوئی قوم جبر، استبداد، سامراج اور استحصال کے شکنجے میں جکڑی ہو۔ مقبوضہ اقوام کے معروضی حالات ہمیشہ تلخ اور کٹھن ہوتے ہیں۔ ان کے دکھ اور بے بسی کے لمحات، غلامی کی اذیت اور محرومی کی داستانیں ادب کو محض جمالیاتی اظہار تک محدود نہیں رہنے دیتیں بلکہ اسے ایک سیاسی و مزاحمتی ہتھیار میں ڈھال دیتی ہیں۔ اس تناظر میں قومی ادب صرف فرد کے داخلی کرب یا رومانی احساسات کا بیان نہیں کرتا بلکہ وہ مشترکہ شعور کی تعمیر، آزادی کی جدوجہد کے لیے حوصلہ افزائی اور نظریاتی وضاحت کا فریضہ انجام دیتا ہے۔جب کوئی قوم غلامی کے اندھیروں میں جکڑی ہو، جب اس کے وسائل، زبان، ثقافت اور شناخت کو مٹانے کی سازشیں کی جائیں، تو ایسے حالات میں صرف مزاحمت ہی زندہ رہنے کا راستہ بناتی ہے۔ یہی مزاحمت نیشنلزم کی شکل میں ایک منظم نظریہ اور لائحہ عمل فراہم کرتی ہے۔ نیشنلزم محکوم قوم کو یہ شعور دیتا ہے کہ وہ اپنی حالتِ غلامی کو فطری یا مقدر کا کھیل نہ سمجھے بلکہ اس کے خلاف اٹھ کھڑی ہو۔
قومی و مزاحمتی ادب اس شعور کو الفاظ کا قالب دیتا ہے۔ یہ اس خواب کو بیان کرتا ہے جو ایک آزاد اور خودمختار زندگی کے لیے دیکھا جاتا ہے۔ یہ غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کی تڑپ کو زندہ رکھتا ہے اور اس خواب کو حقیقت بنانے کے لیے قربانی کی ترغیب دیتا ہے۔ ادیب اور شاعر اپنی تخلیقات کے ذریعے محض درد کا نوحہ نہیں لکھتے بلکہ وہ امید کا پرچم بلند کرتے ہیں۔
تاریخ کے ہر دور میں جب سامراجی طاقتوں نے قوموں کو محکوم بنایا تو ان کے خلاف سب سے بڑی فکری مزاحمت ادب ہی نے کی۔ غلام قوموں کے لوگ جب اپنی غلامی اور بے بسی کو شعور کی سطح پر محسوس کرتے ہیں تو وہ ابتدا میں صرف کرب اور دکھ بیان کرتے ہیں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہی جذبات تنقیدی شعور میں بدل جاتے ہیں۔یہی تنقیدی شعور قوم کو بتاتا ہے کہ اس کے دکھوں کا اصل سبب کیا ہے، اور وہ اپنی غلامی کے حقیقی ذمہ داروں کو پہچاننے لگتی ہے۔ جب ادب اس شعور کو مضبوط کرتا ہے تو یہ محض کاغذ پر لکھے الفاظ نہیں رہتے بلکہ یہ الفاظ عملی جدوجہد کے لیے راستہ ہموار کرتے ہیں۔ مزاحمتی ادب صرف ادبی میدان میں محدود نہیں رہتا بلکہ یہ سیاسی و عملی تحریکوں کا روحانی اور نظریاتی ستون بن جاتا ہے۔
کسی لکھاری دانشورادیب یا شاعر کی اصل عظمت اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ قابض کے جبر کو بے نقاب کرنے کی ہمت کرے۔ غلامی کے دور میں غیر جانب داری دراصل جبر کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔ لہٰذا حقیقی قومی و مزاحمتی ادب ہمیشہ واضح موقف اختیار کرتا ہے، چاہے اس کے نتیجے میں ادیب کو قید، جلاوطنی یا موت ہی کیوں نہ جھیلنی پڑے۔
یہی وہ قوت ہے جو ادب کو اس کی معراج تک لے جاتی ہے۔ جب الفاظ محض کاغذ پر نہیں رہتے بلکہ وہ گولیوں اور توپوں سے زیادہ طاقتور ہتھیار بن جاتے ہیں۔
قومی و مزاحمتی ادب ایک زندہ قوم کے لیے محض تخلیقی اظہار نہیں بلکہ بقا اور آزادی کی جدوجہد کا فکری ہتھیار ہے۔ یہ غلامی کے اندھیروں میں امید کا چراغ جلاتا ہے اور جبر کے سامنے حوصلے کا قلعہ تعمیر کرتا ہے۔آج بھی، دنیا کے کسی بھی حصے میں جہاں کوئی قوم غلامی یا جبر کا شکار ہے، وہاں کے ادیب اور شاعر اپنے قلم سے وہی کام کر رہے ہیں جو سپاہی محاذ پر ہتھیار سے کرتا ہے۔ یہی وہ ادب ہے جو نہ صرف ماضی کو محفوظ کرتا ہے بلکہ مستقبل کی بنیاد رکھتا ہے۔
یہ ایک مستند تاریخی و مادی حقیقت ہے کہ خیالات، نظریات اور عقیدے نہ تو انسانوں کے دماغ میں خودبخود جنم لیتے ہیں اور نہ ہی وہ کسی ماورائی مافوق الفطرت یا آسمانی ذریعہ سے اچانک نازل ہوتے ہیں۔ بلکہ یہ مخصوص سماجی، معاشی، سیاسی اور تاریخی حالات کے بطن سے پیدا ہوتے ہیں۔ ہر نظریہ ایک مادی بنیاد رکھتا ہے، اور انسان کا شعور اس کے سماجی وجود سے تشکیل پاتا ہے۔مارکس نے کہاتھا”انسان کا شعور اُس کے وجود کا تعین نہیں کرتا بلکہ اُس کا سماجی وجود اُس کے شعور کو تشکیل دیتا ہے۔”جب انسان مخصوص حالات میں رہتا ہے مثلاً غلامی، قبضہ تو ان حالات کے اثرات اس کے ذہن اور خیالات پر پڑتے ہیں۔نظریات اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب انسان کے مادی حالات ایک ضرورت پیدا کرتے ہیں۔کوئی بھی ادب عقیدہ یا نظریہ آسمان سے نازل نہیں ہوتا بلکہ سماجی جدوجہد، اور تاریخی ارتقاء کا نتیجہ ہوتا ہے۔اس طرح کے خیالات انسان کے عملی تجربات اور مادی دنیا کے ساتھ تعلق سے جنم لیتے ہیں۔
مزاحمتی ادب بھی انہی اصولوں کا مرہونِ منت ہے۔ کوئی بھی مزاحمتی نظریہ یا ادبی تخلیق خلا میں پیدا نہیں ہوتی، بلکہ وہ ایک اجتماعی جدوجہد اور تاریخی ارتقاء کا نچوڑ ہوتی ہے۔ غلامی، استحصال، جبر اور سامراجی قبضہ انسان کے شعور پر دباؤ ڈالتے ہیں، اور یہی دباؤ مزاحمت کو جنم دیتا ہے۔ جب ایک قوم پر ظلم و جبر کی انتہا کر دی جائے، اس کی ثقافت، زبان اور وسائل کو لوٹا جائے، تو ان حالات کے خلاف جدوجہد کی ایک فطری ضرورت جنم لیتی ہے۔ یہی ضرورت مزاحمتی ادب کی تخلیق کا بنیادی محرک بنتی ہے۔مزاحمتی ادب تخیل یا رومانویت کی پرچھائی نہیں، بلکہ یہ زندہ سماجی حقیقتوں کی ترجمانی ہے۔ یہ وہ آئینہ ہے جس میں مظلوم اپنی زنجیریں دیکھتا ہے اور ساتھ ہی ان زنجیروں کو توڑنے کا خواب بھی۔ جب تک ظلم و جبر کے نظام باقی ہیں، مزاحمتی ادب زندہ اور تابندہ رہے گا کیونکہ یہ ادب انسان کے اندر آزادی کی ابدی خواہش کو الفاظ میں ڈھالتا ہے۔یہ صرف لفظوں کا جہان نہیں بلکہ انقلاب کا فکری ہتھیار ہے جو مظلوموں کو بیدار کرتا ہے اور ظالموں کو بے نقاب کرتا ہے۔یہ ایک ابدی حقیقت ہے کہ جبر اور مزاحمت ایک ساتھ جنم لیتے ہیں۔
انسانوں کی تاریخ آزادی کی تحریکوں اور قومی مزاحمت کی داستانوں سے بھری ہوئی ہے۔ جب بھی کوئی قوم غلامی، نوآبادیاتی تسلط یا ریاستی جبر کا شکار ہوئی ہے، تو اس کی مزاحمت کے کئی محاذ کھل گئے ہیں: عسکری محاذ، سیاسی محاذ، سفارتی محاذ، اور سب سے گہرا اور دیرپا فکری و محاذ جو لٹریچر کے ذریعے تشکیل پاتا ہے۔
لٹریچر محض فنِ تحریر یا تخلیقی اظہار کا نام نہیں بلکہ یہ قوموں کی اجتماعی شعور سازی، شناخت کی بازیافت، اور آزادی کی نظریاتی بنیاد قائم کرنے کا بنیادی ذریعہ ہے۔لٹریچر کی طاقت کو سمجھنے کے لیے ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ غلامی محض سیاسی اور معاشی نہیں ہوتی بلکہ نفسیاتی اور فکری غلامی بھی ہوتی ہے۔نوآبادیاتی طاقتیں ہمیشہ محکوم قوم کی تاریخ، زبان، اور ثقافت کو مٹانے کی کوشش کرتی ہیں تاکہ غلام قوم اپنی شناخت سے محروم ہو جائے۔
فرانز فینن نے اپنی مشہور تصنیف The Wretched of the Earth میں لکھا:
"جب کوئی قوم اپنی زبان اور لٹریچر سے کٹ جائے تو اس کے لیے آزادی کا خواب محض ایک سیاسی نعرہ رہ جاتا ہے۔”
بلوچستان میں آزادی کی تحریک صدیوں پر محیط ہے، مگر بیسویں صدی کے وسط سے اس نے ایک منظم شکل اختیار کی۔ غیر ملکی قبضہ اور نوآبادیاتی جبر کے مقابلے میں بلوچ لٹریچر نے ایک مزاحمتی بیانیہ تشکیل دیا۔ بلوچ رائٹروںکی تخلیقات نے قوم کے اندر قومی شعور اور مزاحمت کی آگ کو زندہ رکھا۔بلوچ شاعروں گیت آزادی کے سپاہیوں کے لیے ترانے بنے۔ماؤزے تنگ نے کہا تھا:
"قلم اور بندوق دونوں انقلاب کے ہتھیار ہیں، مگر قلم بندوق کو نظریہ دیتا ہے۔”
آزادی کی تحریکوں کی اصل طاقت قوم کے اندرونی شعور اور فکری بیداری میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ ہتھیار، گوریلا جنگ، سیاسی جلسے اور مظاہرے اسی وقت مؤثر ثابت ہوتے ہیں جب ان کے پیچھے ایک واضح نظریہ، فکری سمت، اور قوم کے اجتماعی شعور کی پختگی موجود ہو۔ یہ شعور کسی ایک دن میں پیدا نہیں ہوتا بلکہ برسوں کی فکری محنت، ادبی تخلیقات، اور سیاسی تحریروں کے ذریعے پروان چڑھتا ہے۔بلوچستان سے لے کر ویت نام، الجزائر، فلسطین، اور ہندوستان تک کی تاریخ اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ آزادی کی تحریک کا پہلا مورچہ قلم اور زبان ہوتا ہے۔
کامریڈ کم اِل سنگ، جو کوریا کی آزادی کی تحریک اور بعد ازاں انقلابی ریاست کی تشکیل کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں، بخوبی سمجھتے تھے کہ محض ہتھیار اٹھا لینا قومی آزادی کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ ان کا ماننا تھا کہ آزادی کی تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے مسلح جدوجہد کے ساتھ گہری فکری، نظریاتی اور سائنسی تیاری بھی ناگزیر ہے۔ چنانچہ انہوں نے آزادی پسندوں، سیاسی کارکنوں، گوریلا دستوں، مبلغین اور قیادت سنبھالنے والے سالاروں کو نہ صرف جنگی مہارتیں سکھائیں بلکہ انہیں پڑھنے، لکھنے، سوچنے اور نظریاتی تربیت حاصل کرنے پر بھی زور دیا۔
کم اِل سونگ کے نزدیک ایک سیاسی کارکن یا گوریلا جنگجو محض ایک سپاہی نہیں ہوتا بلکہ وہ قوم کے مستقبل کا معمار ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی جدوجہد کے مقاصد، دشمن کی نوعیت اور عالمی حالات کو گہرائی سے سمجھے۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ ہر گوریلا دستہ محض ایک عسکری یونٹ نہیں بلکہ ایک تعلیمی ادارہ ہونا چاہیے جہاں نظریہ اور عمل کا امتزاج پروان چڑھے۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے اپنی قومی فوج اور انقلابی تحریک میں علمی و ادبی سرکلز کے قیام کو لازمی قرار دیا۔
ان سرکلز میں مختلف موضوعات پر مباحثے ہوتے، آزادی اور انقلاب سے متعلق تحریریں لکھی جاتیں، اور کارکنوں کو اپنی سوچ کو تخلیقی انداز میں پیش کرنے کی ترغیب دی جاتی۔ ان سرکلوں میں مزاحمتی شاعری، قومی گیت اور سامراج دشمن کہانیاں پڑھی جاتیں تاکہ کارکنوں میں جذبۂ آزادی اور فکری بصیرت دونوں پروان چڑھیں۔ یہ سرکلز محض فکری تربیت کے مراکز نہ تھے بلکہ انہوں نے تحریک میں اجتماعی قیادت اور جمہوری فیصلہ سازی کا رجحان بھی پیدا کیا۔کم اِل سونگ نے گوریلا دستوں کے لیے ایک ایسا تربیتی منصوبہ تیار کیا جس میں فوجی مہارتوں کے ساتھ ساتھ سیاسی و سماجی شعور کی تعلیم کو بھی شامل کیا گیا۔ انہوں نے مختلف جنگی حالات کے مطابق کتابیں اور رہنما مواد شائع کیا، جن میں درج ذیل موضوعات شامل تھے:گوریلا جنگ کے اصول اور چھاپہ مار حکمتِ عملی ،دفاعی اور حملہ آور تکنیکوں کی عملی مشق،ہتھیاروں کی تیاری اور دیکھ بھال کے مقامی ذرائع،جغرافیائی حالات کے مطابق جنگی منصوبہ بندی، مثلاً پہاڑی یا برفانی علاقوں کی کارروائیاں،عوامی تنظیم سازی اور سیاسی تبلیغ کے اصول، ریاستی جبر قبضہ اور سامراجی پروپیگنڈا کا فکری جواب دینے کی حکمتِ عملی۔ یہ تربیت کارکنوں کو محض سپاہی کے درجے سے بلند کرکے عوامی رہنما بنانے کے لیے ترتیب دی گئی تھی تاکہ وہ گاؤں اور قصبوں میں جا کر عوام کو منظم کرسکیں اور ان کے مسائل کو سمجھ کر جدوجہد میں شریک کرسکیں۔
کم اِل سونگ نے اپنی پارٹی کے لیے ایک جامع نصاب تیار کیا، جو کارکنوں کے مختلف درجات کے مطابق الگ الگ ترتیب دیا گیا تھا۔ ہر مطالعہ کے بعد اجتماعی مباحثہ لازمی ہوتا تھا تاکہ کارکن اپنی آرا کا اظہار کر سکیں اور ایک دوسرے سے سیکھ سکیں۔ اس طریقۂ کار کا مقصد یہ تھا کہ کسی فرد کی سوچ جامد یا مطلق نہ ہو بلکہ اجتماعی فکری عمل کے ذریعے ترقی کرے۔ یہ مباحثے کارکنوں میں تنقیدی شعور اور اجتماعی دانش کو فروغ دیتے، جو ایک مضبوط انقلابی تحریک کے لیے ناگزیر عناصر ہیں۔کم اِل سونگ کے اس تعلیمی و تربیتی ماڈل کے نتیجے میں کوریا کی آزادی تحریک نے ایک مضبوط نظریاتی بنیاد حاصل کی۔ عوام اور گوریلا دستوں کے درمیان گہرا اعتماد اور ربط قائم ہوا، اور جنگجوؤں کی حیثیت محض عسکری قوت سے بڑھ کر انقلابی دانشور کے طور پر ابھری۔ ان کے قائم کردہ علمی و ادبی سرکل، فوجی و سیاسی تربیتی پروگرام، اور جامع نصاب اس حقیقت کی علامت ہیں کہ آزادی کا خواب اسی وقت حقیقت بن سکتا ہے جب جدوجہد کو علم، فکر اور سائنسی منطق کی روشنی سے منور کیا جائے۔کم اِل سونگ کی یہ حکمتِ عملی آج بھی دنیا کی مختلف آزادی پسند تحریکوں کے لیے ایک نظریاتی اور عملی ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے، جو بتاتی ہے کہ کامیاب انقلابی جدوجہد کے لیے ہتھیار کے ساتھ شعور کا مسلح ہونا بھی ضروری ہے۔
انقلابی و مزاحمتی لٹریچر تحریکِ آزادی کا ایک فعال، سرگرم اور متحرک جزو ہے۔ قلم بھی ایک فکری مورچہ ہے، جس طرح بندوق گوریلا کا سنگر ہوتی ہے، اسی طرح قلم بھی ایک سنگرش ہے۔ مزاحمتی لٹریچر ایک زندہ اور فعال تخلیقی و فکری محاذ ہے، جو قوموں کے وقار، آزادی اور امن کے خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے میں مددگار بنتا ہے۔ یہ ادب جبر کے اندھیروں میں امید کا چراغ ہے، جو مقبوضہ قوموں کو راہنمائی فراہم کرتا ہے اور قابض طاقتوں کے خلاف ان کی صفوں کو منظم کرتا ہے۔تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جب بھی نوآبادیاتی جارحیت اپنے عروج پر پہنچتی ہے، تو ادب اس کے خلاف ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر ابھرتا ہے۔ اس لیے انقلابی اور مزاحمتی لٹریچر کی اہمیت ہمیشہ زندہ اور ناگزیر رہے گی، کیونکہ یہ محض الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ ایک مکمل فکری اور عملی تحریک ہے جو آزادی کی جدوجہد کا حصہ بن کر قوم کو غلامی کی زنجیروں سے نجات دلاتی ہے۔
مزاحمتی ادب کسی قوم کے فکری اور جذباتی سفر کا عکاس ہوتا ہے۔ جب کوئی قوم غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہو، اس کے وسائل لوٹے جا رہے ہوں اور اس کی شناخت کو مٹانے کی کوششیں کی جا رہی ہوں، تو اس کے ادیب اور شاعر اپنے قلم کو تلوار بنا لیتے ہیں۔ جنگِ آزادی کے زمانے میں تخلیق ہونے والا ادب محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک فکری ہتھیار، ایک نظریاتی قلعہ اور جذبۂ مزاحمت کا استعارہ بن جاتا ہے۔ اس کا مقصد صرف واقعات کو قلم بند کرنا نہیں ہوتا بلکہ قوم کے دلوں میں آزادی کی شمع روشن کرنا اور انہیں غلامی کے اندھیروں سے نکالنے کے لیے فکری رہنمائی فراہم کرنا ہوتا ہے۔جنگِ آزادی کے دوران لکھا گیا ادبی مواد قوم کے اندر ایک نیا حوصلہ اور جوش پیدا کرتا ہے۔ مضامین، شاعری اور قومی موسیقی عوام کے دلوں میں مزاحمت کی شعلہ بھڑکاتے ہیں۔ یہ لٹریچر قوم کو ان کی آزادی اور تاریخ سے آگاہ کرتا ہے، اور یہ پیغام دیتا ہے کہ غلامی انسان کی سب سے بڑی توہین ہے جبکہ آزادی ایک فطری حق ہے۔
جنگِ آزادی کے بارے میں لکھی گئی کتابیں، مضامین اور شعری تخلیقات اس جنگ کی وجوہات، پس منظر اور حقائق کو واضح کرتی ہیں۔ اس لٹریچر کے ذریعے آنے والی نسلوں کو یہ سمجھنے کا موقع ملتا ہے کہ غلامی کیوں مسلط ہوئی، آزادی کے راستے میں کون سی رکاوٹیں حائل ہوئیں اور کس طرح قربانیوں کے نتیجے میں قومیں آزاد ہوئیں۔ یہ ادب تاریخ کا زندہ گواہ بن کر سامنے آتا ہے اور قوم کے ماضی کو محفوظ کرتا ہے۔یہ لٹریچر دشمن کے خلاف ایک نفسیاتی ہتھیار کا کردار بھی ادا کرتا ہے۔ انقلابی شاعری اور گیت نہ صرف قوم میں جوش و ولولہ پیدا کرتے ہیں بلکہ دشمن کے حوصلے بھی پست کرتے ہیں۔ جب غلام قوم کے شاعر، ادیب، دانشور، مصنف اور مورخ اپنی تخلیقات میں آزادی کی للکار دیتے ہیں تو یہ پیغام دشمن کے کانوں تک بھی پہنچتا ہے اور وہ یہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ اب عوام غلامی قبول کرنے کو تیار نہیں۔لٹریچر اور جنگِ آزادی کا تعلق نہایت گہرا اور لازمی ہے۔ یہ محض کتابوں کے اوراق پر درج الفاظ نہیں بلکہ ایک زندہ اور متحرک قوت ہے جو غلامی کے اندھیروں میں روشنی کی کرن بن کر ابھرتی ہے۔ آزادی کے لیے دی جانے والی قربانیاں، انقلابی نظریات اور قومی جدوجہد کا تسلسل اسی لٹریچر کے ذریعے آنے والی نسلوں تک پہنچتا ہے۔
کہا جا سکتا ہے کہ بندوق میدانِ جنگ میں آزادی کا علم بلند کرتی ہے، مگر قلم اس آزادی کو دائمی اور زندہ رکھنے کا کام کرتا ہے۔ لٹریچر ہی وہ طاقت ہے جو نہ صرف آزادی کی بنیاد رکھتا ہے بلکہ قوم کو شعور، یکجہتی اور قابض کے ہر ہتھکنڈے کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ذہنی اور فکری طور پر مسلح کرتا ہے۔
