جبری گمشدگیاں اور سیاسی قدغنیں ماورائے آئین اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ شاہ زیب بلوچ ایڈووکیٹ

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی ترجمان شاہ زیب بلوچ ایڈووکیٹ نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی ہارڈ اسٹیٹمنٹ بیانیے کے بعد بلوچستان کے حالات مخدوش صورتِ حال اختیار کرتے ہوئے تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔ بالخصوص سیاسی و جمہوری راستوں پر قدغن لگانا غیر آئینی ہے اور انصاف کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے۔ پورے ملک میں بلوچ اور دیگر محکوم اقوام کے سیاسی کارکنوں کو نہ صرف ہراساں کیا جا رہا ہے بلکہ جبری گمشدگی جیسے سنگین ہتھکنڈوں سے بھی ان کارکنوں کو حبسِ بے جا میں رکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی رکن غنی بلوچ کو 25 مئی کی شب کوئٹہ سے کراچی جاتے ہوئے خضدار کے مقام پر فرنٹیئر کور کے یونیفارم میں ملبوس اہلکاروں اور سادہ لباس میں موجود افراد نے ٹرانسپورٹ کمپنی سے اتار کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا، جو تاحال لاپتہ ہیں۔ اسی طرح پارٹی کے دوسرے مرکزی رکن شنا کھیتران بلوچ کو 10 اگست کو مانتان انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے ایف آئی اے حکام نے گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کیا اور وہ بھی تاحال لاپتہ ہیں۔ اس کے علاوہ پارٹی کے بارکھان زون کے ارکان گل میر بلوچ اور سلال بلوچ کو 30 اور 31 جولائی 2025 کی درمیانی شب ضلع بارکھان سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے گرفتار کر کے جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے ہمارے دو ارکان، زکریا بلوچ کو 24 مئی کو ہزارہ گوٹھ کراچی سے اور زاہد بلوچ کو 17 جولائی کو لیاری کراچی سے سادہ لباس میں ملبوس افراد نے جبری طور پر لاپتہ کیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی ایک سیاسی و جمہوری تنظیم ہے جس کا مقصد صرف اور صرف بلوچ سرزمین کی خوشحالی اور بین الاقوامی باہمی تعلقات میں اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے منشور کی روشنی میں محکوم اقوام کے ساتھ تعاون اور جمہوری جدوجہد کو آگے بڑھانا ہے۔ این ڈی پی بلوچ قومی سوال پر اپنے آئینی حق کا مطالبہ کرتی ہے اور بلوچ عوام کے حقِ خود ارادیت کے عالمی اصولوں پر گامزن ہے۔ بلوچ سرزمین کا مشرقی حصہ آج بھی پاکستان کے زیرِ انتظام آئینی نظام سے جڑا ہوا ہے، جہاں بلوچ سیاسی کارکنان آئینی شہریت کا حق رکھتے ہیں۔ بلوچستان کو طویل عرصے سے بغاوتوں کا سامنا ہے لیکن اس کے باوجود ریاستی رویہ استعماری اور جابرانہ کردار ادا کر رہا ہے۔ جبری گمشدگیاں، اظہارِ رائے پر پابندیاں، سیاسی اجتماعات پر کریک ڈاؤن، 3MPO، پی کا ایکٹ اور 90 دن تک عدالت میں پیش کیے بغیر حراست میں رکھنا ایسے اقدامات ہیں جو ماورائے آئین اور عالمی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں۔

پریس کانفرنس کے آخر میں کہا گیا کہ اس پریس کانفرنس کا بنیادی مقصد حکومت کو متوجہ کرنا ہے کہ نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان سمیت تمام بلوچ اور دیگر محکوم افراد کی بازیابی کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ اگر کسی سیاسی کارکن پر الزام ہے تو اسے عدالت میں لا کر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، لیکن جبری طور پر لاپتہ کر کے پورے معاشرے کو اجتماعی سزا دینا نسلی و قومی صفایا کی تعریف میں آتا ہے، جو نہایت افسوسناک اور نوآبادیاتی رویوں کا تسلسل ہے۔

مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

خضدار سے چار نوجوانوں کی جبری گمشدگی اور خواتین پر فائرنگ ریاستی دہشتگردی کی بدترین مثال ہے۔ بی وائی سی

جمعہ اگست 29 , 2025
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ تین روز قبل حب چوکی سے خضدار آنے والی ایک ویگن کو پیر عمر کے مقام پر ایف سی اہلکاروں نے روک کر اغوا کیا۔ خواتین اور بچوں کو زبردستی گاڑی سے اتار دیا گیا جبکہ مرد مسافروں کو […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ