
تحریر رامین بلوچ
زرمبش مضمون
انسان ایک ریڑھ دار مخلوق ہے، مگر اس کا وجود محض حیاتیاتی ہیئت یا جسمانی ساخت تک محدود نہیں۔ وہ صرف گوشت پوست کا ڈھانچہ نہیں، بلکہ ایک ایسی ہستی ہے جس میں مادہ، شعور اور زندگی ایک دوسرے کے ساتھ جُڑ کر ایک کائناتی ہم آہنگی پیدا کرتے ہیں۔ یہی امتزاج انسان کو حیوانِ ناطق کے درجے سے بلند کر کے ایک شعوری اور تخلیقی مخلوق بناتا ہے۔انسان جس دنیا میں سانس لیتا ہے، وہ دنیا یک رُخی یا یک رنگی نہیں، بلکہ تضادات، تنوعات اور مختلف حقیقتوں کا امتزاج ہے۔دنیا کی تاریخ انسانوں کے میل جول، ان کے اختلافات اور ان کے اتحاد کی کہانی ہے۔ انسان فرد کی حیثیت سے جتنا اہم ہے، اُتنا ہی قوم، گروہ اور اجتماعی وحدت کی صورت میں بھی ناگزیر ہے۔ ہر قوم اپنی مخصوص لسانی، جغرافیائی، تاریخی، تہذیبی اور ادبی شناخت کے ساتھ دنیا کے نقشے پر موجود ہے۔ یہ شناختیں محض ظاہری علاماتیں نہیں بلکہ وہ تہذیبی و فکری بنیادیں ہیں جن پر علم، فلسفہ، فن اور سیاست کا پورا ڈھانچہ کھڑا ہے۔
انسان اپنی ذات میں کثرت رکھتا ہے، لیکن اس کثرت کو ایک وحدت دینے والا اصول شناخت ہے۔ شناخت ہی انسان کو محض حیوانِ ناطق سے آگے بڑھا کر "معنی خیز وجود” بناتی ہے۔ اگر یہ لسانی اور تہذیبی دائرے نہ ہوتے تو انسان کی داخلی اور خارجی حقیقت ادھوری رہ جاتی۔ شناخت وہ آئینہ ہے جو فرد کو اپنی اصلیت اور کائنات کے ساتھ رشتہ سمجھنے کی قوت عطا کرتا ہے۔علم کا ارتقا کبھی خلا میں نہیں ہوتا۔ سائنس، قانون، فلسفہ اور ادب سب کسی نہ کسی ثقافتی اور قومی زمین پر نمو پاتے ہیں۔ یونانی فلسفہ اپنی زبان اور تہذیبی پس منظر کے بغیر ممکن نہ تھا۔ اسلامی فلسفہ قرآن کی لسانی و فکری شناخت پر پروان چڑھا۔ یورپی نشاۃ ثانیہ اپنی مخصوص تاریخی و جغرافیائی حقیقت کے ساتھ نمودار ہوئی۔ یعنی ہر علمی و فکری دھارا اپنی شناختی بنیاد کے بغیر سانس نہیں لے سکتا۔سیاسی وحدت بھی شناخت پر استوار ہے۔ ایک قوم اپنی زبان، جغرافیہ، تاریخ اور تہذیب کے ساتھ ریاستی و انقلابی قوت میں ڈھلتی ہے۔ شناخت ہی آزادی کی تحریکوں کو جواز دیتی ہے۔ جہاں شناخت کو دبایا جائے وہاں مزاحمت جنم لیتی ہے۔ اس لیے شناخت صرف ثقافتی مظہر نہیں بلکہ سیاسی و انقلابی قوت بھی ہے۔فن اور ادب بھی شناخت کی زمین پر پھلتا پھولتا ہے۔ شاعری ہو یا موسیقی، مصوری ہو یا فن پارہ سب ایک مخصوص لسانی و تہذیبی پس منظر میں ہی معنی خیز ہوتے ہیں۔ اگر یہ تنوع مٹ جائے تو فن اپنی روح کھو دے گا، اور انسان ایک بے رنگ، بے بو، یکساں دنیا میں قید ہو جائے گا۔ شناخت ہی تخلیق کو رنگ دیتی ہے، اور کثرت ہی اس کائنات کو جمال عطا کرتی ہے۔
دنیا کے مختلف قوم ، نسل،رنگ، زبانیں، خطے اور تہذیبیں دراصل انسانی شعور کی مختلف پرتیں ہیں۔
انسانی تاریخ، تہذیب اور فکر کی پوری عمارت شناخت کی اینٹوں سے تعمیر ہوئی ہے۔ شناخت نہ ہو تو نہ سائنس وجود پا سکتی ہے، نہ فلسفہ، نہ قانون اور نہ فن۔ لہٰذا شناخت کو دبانے کے بجائے اسے تسلیم کرنا اور اس کے تنوع کو کائناتی ہم آہنگی میں بدلنا ہی انسانیت کا اصل مستقبل ہے۔ متنوع شناختیں دراصل انسان کی داخلی و خارجی حقیقت کق منعکس کرتے ہیں، اور انہی میں انسانی آزادی، تخلیق اور علم کا سرچشمہ پوشیدہ ہے۔شناخت گویا انسان کے وجود کی بنیاد ہے۔ جب ایک قوم اپنی زبان میں خواب دیکھتی ہے تو اس کے الفاظ اس کی داخلی دنیا کے خدوخال تراشتے ہیں۔ جب وہ اپنی تاریخ کو یاد کرتی ہے تو اس کے شعور میں اجتماعیت کی آگ جلتی ہے۔ جب وہ اپنے جغرافیے کے ساتھ بندھتی ہے تو زمین اس کے تخیل کو جڑیں اور پر عطا کرتی ہے۔ یہی جڑیں بعد ازاں ثقافت اور ادب کو آبیاری کرتی ہیں۔ ادب محض الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ ایک پوری تہذیبی روح کا مظہر ہے، جو شناخت کی بدولت اپنا رنگ اور آہنگ پاتی ہے۔شناخت کی عدم موجودگی میں انسان محض ایک بے چہرہ ہجوم میں بدل جاتا ہے۔ ایسے ہجوم میں نہ تاریخ ہوتی ہے، نہ مستقبل۔ اس خلا میں نہ جمالیات پروان چڑھ سکتی ہیں، نہ سچائی دریافت کی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں جب بھی کسی قوم کو اس کی زبان، ثقافت یا جغرافیائی وحدت سے محروم کیا گیا، وہاں فنونِ لطیفہ پژمردہ ہو گئے، فلسفہ خاموش ہو گیا، اور سائنسی تخلیقیت و ترقی رک گئی۔شناخت صرف ماضی کی یاد نہیں بلکہ مستقبل کی بنیاد بھی ہے۔ یہ انسان کو اس کا "میں” عطا کرتی ہے۔ یہی "میں” فرد کو تخلیق پر اُکساتی ہے اور اجتماع کو ارتقاء کے سفر پر لے جاتی ہے۔ شناخت کے بغیر تہذیب ارتقاء کے مراحل طے نہیں کر سکتی، کیونکہ ارتقاء کا مطلب ہی یہ ہے کہ ایک خاص تاریخی و تہذیبی تجربے کی بنیاد پر نئی جہات میں آگے بڑھنا۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ انسان کی اصل قوت اس کی قومی و شعوری شناخت ہے۔ یہی قوت اس کو فن تخلیق کرنے، قانون وضع کرنے، سائنس کو دریافت کرنے اور فلسفے میں سوال اٹھانے کی طاقت بخشتی ہے۔ اور یہی وہ اساس ہے جس کے بغیر ادب، ثقافت اور تہذیب کی عمارت محض ریت کے گھروندے کی طرح ڈھے جاتی ہے۔
انسان اگر صرف حیاتیاتی وجود ہوتا تو شاید وہ درخت یا جانور کی طرح کسی محدود ماحول میں رہ کر بقا کی جنگ لڑتا۔ لیکن انسان کی اصل طاقت اس کا شعور اور شناخت ہے۔ یہ شناخت صرف فرد تک محدود نہیں بلکہ اس کے اجتماع، یعنی قوم اور تہذیب کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔قوم اپنی زبان، تاریخ، جغرافیہ اور ثقافت کے ذریعے ایک اجتماعی شعور پیدا کرتی ہے۔ یہ شعور محض یادداشت نہیں بلکہ مزاحمت کی قوت ہے۔ قوموں کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی کوئی کالونیل طاقت یا جبر کی قوت کسی قوم پر حملہ آور ہوتی ہے تو سب سے پہلا وار اس کی شناخت پر کیا جاتا ہے۔ اس لیے کہ قوم کی اصل طاقت اس کی زبان، تاریخ اور ثقافت میں پوشیدہ ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر قوم اپنی اجتماعی شعور، آزادی اور سیاسی بقا کی عمارت تعمیر کرتی ہے۔زبان محض ابلاغ کا وسیلہ نہیں بلکہ ایک پوری فکری کائنات ہے۔ اس میں صدیوں کی یادداشت، خواب، محاورے اور تشبیہات محفوظ ہوتے ہیں۔ کالونیل طاقتیں جانتی ہیں کہ اگر زبان چھین لی جائے تو نسلوں کی یادداشت پر ضرب لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سامراجی نظام نے سب سے پہلے مقبوضہ قوم کی زبان کو یا تو حقیر ثابت کرنے کی کوشش کی، یا سرے سے مٹا دینے کا منصوبہ بنایا۔ہندوستان میں انگریزوں نے مقامی زبانوں کو “بازاری” اور “ناقص” کہہ کر انگریزی کو حاکمانہ زبان بنا دیا۔افریقہ میں فرانسیسی و پرتگالی کالونیل حکمرانوں نے اپنی زبان مسلط کر کے افریقی زبانوں کو کم تر درجے پر دھکیل دیا۔
اسی مانند جب کسی قوم کی تاریخ کو مسخ کیا جاتا ہے تو اس کی اجتماعی خودی پر حملہ کیا جاتا ہے۔ تاریخ قوم کو یہ یقین دیتی ہے کہ وہ ماضی میں بھی زندہ رہی ہے اور مستقبل میں بھی زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
کالونیل طاقتیں مقبوضہ اقوام کی تاریخ کو یا تو مٹا دیتی ہیں، یا اسے اپنی ضرورت کے مطابق دوبارہ لکھتی ہیں۔ وہ فاتح کو "مہذب بنانے والا” اور مفتوحہ کو "جاہل و وحشی” بنا کر پیش کرتی ہیں۔ اس طرح قوم کی تاریخی خوداعتمادی کو توڑا جاتا ہے تاکہ وہ غلامی کو فطری اور آزادی کو غیر ضروری سمجھنے لگے۔
حملہ آور کا تاریخ اور زبان کے بعد تیسرا حملہ مقبوضہ اقوام کی ثقافت پر ہوتی ہے ثقافت جو روزمرہ زندگی، فنونِ لطیفہ، رسومات، اور جمالیاتی ذوق کی عکاس ہے۔ جب کالونیل طاقتیں ثقافت کو "پسماندہ” یا "وحشیانہ” قرار دیتی ہیں تو وہ دراصل اس قوم کی روحانی و نفسیاتی قوت کو زخمی کرکے نوآبادی کو غیر مہذب قرار دے کر اپنی ثقافت مسلط کرتا ہے تاکہ مقبوضہ آہستہ آہستہ اپنی ہی ثقافتی بنیادوں سے بیگانہ ہو جائے۔سامراجی قبضہ زمین، وسائل ، ملکیت تک محدود نہیں ہوتا بلکہ مقبوضہ کے شعور پر قبضہ کرنا ہوتا ہے۔ اگر کوئی قوم اپنی زبان بولنے سے شرمانے لگے، اپنی تاریخ کو جھٹلانے لگے، اور اپنی ثقافت کو کمتر سمجھنے لگے، تو اسے غلام بننے میں دیر نہیں لگتے ۔ یہی وجہ ہے کہ قوموں کی شناخت پر حملہ کسی بھی نوآبادیاتی طاقت کا سب سے پہلا اور سب سے مؤثر حربہ رہا ہے۔
قوم کی اصل طاقت نہ صرف اس کے وسائل، عسکری قوت یا عددی برتری میں پوشیدہ ہوتی ہے بلکہ سب سے بڑھ کر اس کی شناخت کے شعور میں مضمر ہوتی ہے۔ جب قوم اپنی زبان، تاریخ اور ثقافت کو پہچان لیتی ہے تو وہ ایک ایسی اجتماعی توانائی پیدا کرتی ہے جو کسی بھی جبر، استبداد یا سامراجی نظام کو شکست دے سکتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب مقبوضہ قومیں "ناقابلِ شکست” بن جاتی ہیں۔اسی طرح زبان ایک پوری تہذیب اور اجتماعی حافظہ ہے۔ جب کوئی قوم اپنی زبان کو زندہ رکھتی ہے تو وہ دراصل اپنی فکر، روایت اور شناخت کو زندہ رکھتی ہے۔
الجزائر کی آزادی کی جدوجہد میں فرانسیسی تسلط کے باوجود عربی اور بربر زبانوں نے قوم کو ایک مشترکہ شعور دیا۔ہندوستان میں ، ہندی، بنگالی اور دیگر زبانوں کی ادبی تحریکوں نے انگریزی سامراج کے خلاف آزادی کی تحریک کو نظریاتی غذا فراہم کی۔ تاریخ وہ سرمایہ ہے جو کسی قوم کو یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ صرف حال میں نہیں بلکہ ایک طویل تہذیبی تسلسل کا حصہ ہے۔ سامراج ہمیشہ تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ محکوم قوم خود کو کمتر اور بے حیثیت سمجھے۔ لیکن جب قوم اپنی اصل تاریخ کو دوبارہ پڑھتی اور اپناتی ہے تو اس کے اندر ایک نئی توانائی جنم لیتی ہے۔افریقہ میں نوآبادیاتی بیانیے کے خلاف تاریخ کی بازیافت نے "افریقہ ازم” کو جنم دیا۔لاطینی امریکا میں آزادی کی تحریکیں مقامی تاریخ کےی احیاء سے ہی پروان چڑھیں۔تاریخ یہ یقین دلاتا ہے کہ غلامی ایک حادثہ ہے، تقدیر نہیں۔ثقافت کسی بھی قوم کی روزمرہ زندگی، اور جمالیاتی احساس کی تجلی ہے۔ جب ثقافت کو دبایا جاتا ہے تو قوم کو اپنی جڑوں سے کاٹنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن ثقافت کی بازیافت قوم کو نہ صرف روحانی سکون عطا کرتی ہے بلکہ مزاحمت کی تخلیقی بنیاد بھی فراہم کرتی ہے۔میکسیکو میں مقامی تہواروں اور فنون کے احیاء نے قومی آزادی کے شعور کو مضبوط کیا۔ایران میں صفوی و بعد ازاں قاجاری دور میں ثقافتی احیاء نے بیرونی اثرات کے باوجود قومی شعور کو زندہ رکھا۔
تاریخ کا گہرا مطالعہ یہ حقیقت آشکار کرتا ہے کہ قومی و وطنی شناخت پر ہونے والا ہر حملہ بالآخر شناخت ہی کی از سرِ نو بازیافت کو جنم دیتا ہے۔ یہی بازیافت دراصل مزاحمت کی روح ہے، جب سامراجی حملے کے بعد قوم نئی قوت کے ساتھ اپنی شناخت کو پھر سے تراشتی ہے تو یہی عمل اسے ناقابلِ تسخیر بنا دیتا ہے۔ایسے حملے وقتی طور پر قوم کو منتشر کر سکتے ہیں مگر ہمیشہ نہیں۔ جب قوم کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کی زبان محض اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ اس کی فکری بقا ہے، جب وہ دیکھتی ہے کہ اس کی تاریخ کو مسخ کر کے اسے کمتر ثابت کیا جا رہا ہے، اور جب وہ اپنی ثقافت میں چھپی انقلابی روح کو دوبارہ دریافت کرتی ہے، تو اس کے اندر شناخت کی بازیافت کا عمل شروع ہوتا ہے۔ یہی عمل رفتہ رفتہ ایک سیاسی و انقلابی مزاحمت کی شکل اختیار کرتا ہے۔مزاحمت محض عسکری تصادم نہیں بلکہ ایک نظریاتی و تہذیبی جدوجہد ہے۔ اس کی بنیاد اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب قوم اپنی شناخت کو ازسرِ نو پہچان لیتی ہے۔ یہی پہچان اسے یہ یقین دلاتی ہے کہ وہ غلامی کا شکار ضرور ہے لیکن غلامی اس کی تقدیر نہیں۔
شناخت کی بازیافت ایک قوم کے لیے محض داخلی عنصر نہیں بلکہ ایک کائناتی عمل ہے۔ جب ایک قوم اپنی زبان، تاریخ اور ثقافت کو دوبارہ دریافت کرتی ہے تو وہ عالمی سطح پر بھی تنوع اور آزادی کے حق کو تقویت دیتی ہے۔ اس طرح ہر قومی مزاحمت دراصل عالمی انسانی مزاحمت کا حصہ بن جاتی ہے۔
قوموں کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جب کوئی محکوم قوم ظلم و جبر کے خلاف اٹھ کھڑی ہوتی ہے تو اس کی جدوجہد محض ایک جغرافیائی خطے تک محدود نہیں رہتی بلکہ وہ عالمی سطح پر انسانی مزاحمت کے سلسلے کا حصہ بن جاتی ہے۔ ہر قومی مزاحمت اپنی داخلی تاریخ اور ثقافت سے جنم لیتی ہے، لیکن اس کی بازگشت عالمی انسانی ضمیر میں گونجتی ہے، کیونکہ آزادی، انصاف اور وقار انسانیت کی مشترکہ اقدار ہیں۔قومی مزاحمت بظاہر کسی خاص قوم کی شناخت، زبان، ثقافت اور سرزمین کے دفاع سے عبارت ہوتی ہے۔ لیکن چونکہ ظلم، استحصال اور نوآبادیاتی جبر عالمی مظاہر ہیں، اس لیے ان کے خلاف ابھرنے والی ہر جدوجہد انسانیت کی اجتماعی کہانی میں شامل ہو کر عالمی سطح پر انسانی آزادی کے بیانیے کو تقویت دیتی ہے۔
قومی مزاحمت صرف سیاسی میدان تک محدود نہیں رہتی بلکہ یہ اپنا جمالیاتی اظہارشاعری، نثر، موسیقی اور فنون میں بھی نمایا ں کرتاہےیہ دراصل ایک مکمل فکری و تہذیبی رویہ ہے جو قوم کی اجتماعی روح اور داخلی شعور سے پھوٹتا ہے۔ جب کوئی قوم جبر، غلامی اور استحصال کا شکار ہوتی ہے تو اس کے خلاف اٹھنے والی مزاحمت اپنی گونج صرف جلسوں، جلوسوں یا محاذِ جنگ تک محدود نہیں رکھتی بلکہ اس کی بازگشت ادب، موسیقی، فنونِ لطیفہ اور جمالیات کے تمام میدانوں میں سنائی دیتی ہے۔ یہی جمالیاتی اظہار قومی مزاحمت کو محض سیاسی احتجاج سے بلند کر کے ایک ہمہ جہتی وسیع تر قومی و عوامی تحریک بنا دیتا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ شاعری ہمیشہ سے انسانی جذبات اور اجتماعی شعور کی سب سے نازک مگر طاقتور صورت رہی ہے۔ قومی مزاحمت جب شعری پیکر میں ڈھلتی ہے تو وہ دلوں کو جھنجھوڑتی ہے، ذہنوں کو بیدار کرتی ہے نثر میں لکھی جانے والی کہانیاں، ناول اور مضامین قومی مزاحمت کو فکری اور نظریاتی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ نثر محض جذباتی ردِ عمل نہیں بلکہ ایک منطقی، تحلیلی اور سائنسی شعور کا اظہار ہے۔ مزاحمتی ادب دراصل قوم کی داخلی روح کا جمالیاتی اظہار ہے۔ ایک زبان میں تخلیق ہونے والی شاعری، نثر،کہانیاں، لوک گیت یا مجموعی لٹریچر اس قوم کی اجتماعی نفسیات کو زندہ رکھتے ہیں۔
ادب ہمیشہ سے صرف الفاظ کا کھیل یا خیالات کی نمائش نہیں رہا بلکہ یہ انسانی روح کی گہرائیوں سے پھوٹنے والا ایسا تخلیقی عمل ہے جو زمان و مکان کی حدود سے ماورا ہو کر ایک قوم کے اجتماعی شعور کی تصویر گری کرتا ہے۔ خصوصاً "مزاحمتی ادب” وہ ادبی جہت ہے جو قوموں کی داخلی روح کو نہ صرف زندہ رکھتا ہے بلکہ اس کو توانائی، امید اور سمت عطا کرتا ہے۔ یہ ادب محض جذباتی ابال نہیں بلکہ ایک نظریاتی، سیاسی اور فکری میکانزم ہے جو غلامی کے اندھیروں میں چراغ اور مزاحمت کے محاذ پر ہتھیار کا کام کرتا ہے۔مزاحمتی ادب صرف خواب یا رومانوی نہیں بلکہ ایک شعوری جدوجہد ہے۔ یہ ادب ظلم کو بے نقاب کرتا ہے، استعماری طاقتوں کی منافقت کو عیاں کرتا ہے، اور مقبوضہ انسان کو اس کی طاقت اور حیثیت یاد دلاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر انقلابی تحریک میں ادب نے فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ مزاحمتی ادب صرف غصے اور احتجاج سے عبارت ہوتا ہے، مگر دراصل اس کی اصل طاقت جمالیات میں چھپی ہوتی ہے۔ جب ظلم کے خلاف صدائے احتجاج شاعری کے استعاروں، نثر کی علامتوں یا لوک گیتوں کی دھڑکن میں ڈھلتی ہے تو وہ صرف عقل سے نہیں بلکہ دل سے بھی مخاطب ہوتی ہے۔ یہی جمالیاتی پہلو مزاحمت کو ایک نظریاتی اور تہذیبی تحریک میں بدل دیتا ہے۔قوموں کی تاریخ کا یہ راز ہے کہ جب بھی استبداد نے کسی تہذیب کو دبانے کی کوشش کی، تو ادب نے ہی اس کے خلاف سب سے پہلے مزاحمت کی۔ یہی تسلسل بتاتا ہے کہ ادب محض ادبیات کا ذیلی شعبہ نہیں بلکہ قومی بقا اور وجود کا ایک ہتھیار ہے۔
موسیقی مزاحمت کا سب سے فوری اور اجتماعی اظہار ہے۔ جب کوئی لوک گیت لیلڑی ظلم کے خلاف ابھرتا ہے تو وہ محض راگ نہیں رہتا بلکہ پوری قوم کی دھڑکن بن جاتا ہے۔ بلوچ اور پشتون مزاحمتی گیت، سندھی انقلابی دھمال یا افریقی ڈرمز کی دھڑکنیںیہ سب قوم کی اجتماعی نفسیات میں توانائی بھرتے ہیں۔ موسیقی ایک ایسا ہتھیار ہے جو مقبوضہ قوم کے مشترکہ جذبات کو چھوتا ہے اور ہر سننے والے کو مزاحمت کا حصہ بنا دیتا ہے۔تصویر، مصوری، تھیٹر اور فلم بھی مزاحمتی جمالیات کا حصہ ہیں۔ ایک پینٹنگ جو غلامی کی اذیت کو ظاہر کرے، ایک تھیٹر ڈرامہ جو قومی دکھ کو اسٹیج پر لائے، یا ایک فلم جو مقبوضہ قوم کی جدوجہد کو اجاگر کرے۔یہ سب قومی مزاحمت کو بصری قوت فراہم کرتے ہیں۔ قومی مزاحمت جب سیاست سے نکل کر شاعری، نثر، موسیقی اور فنون میں ظاہر ہوتی ہے تو وہ ایک جامع، گہری اور پائیدار تحریک بن جاتی ہے۔ یہ جمالیاتی اظہار نہ صرف قوم کو شعور اور حوصلہ دیتا ہے بلکہ تاریخ میں ایک ایسا ورثہ تخلیق کرتا ہے جو نسل در نسل مزاحمت کی یاد کو زندہ رکھتا ہے۔
قومیں محض زمین کے ایک ٹکڑے یا لسانی ہئیت کا نام نہیں ہوتیں؛ وہ صدیوں کی تاریخ، اجتماعی یادداشت، تہذیبی ارتقاء اور روحانی تجربے کا حاصل ہوتی ہیں۔ بلوچ قوم بھی اسی قانونِ فطرت کے تحت اپنی تاریخ اور جغرافیہ سے بندھی ایک ایسی زندہ حقیقت ہے جو نہ صرف اپنے وجود سے آگاہ ہے بلکہ اپنے وجود کو قائم رکھنے کے لئے ہر دور میں قربانی دیتی آئی ہے۔
یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ قومی شناخت کی بقا مزاحمت کے لئے کیوں لازم ہے؟ دراصل جب کوئی قوم اپنی شناخت کو بھلا دیتی ہے تو وہ اپنی زبان، اپنی ثقافت، اپنی تاریخ اور اپنے اجتماعی شعور سے محروم ہو جاتی ہے۔ شناخت کے بغیر مزاحمت ایک بے سمت تلوار ہے جو وار تو کرتی ہے مگر اپنا ہدف کھو دیتی ہے۔ بلوچ اگر اپنی قومی شناخت کو زندہ رکھتا ہے تو یہ شناخت ہی اس کی مزاحمت کو معنی، روح اور دوام عطا کرتی ہے۔مزاحمت محض طاقت کا استعمال نہیں بلکہ ایک نظریاتی اور تہذیبی فریضہ ہے۔ اس کی جڑیں گہری تاریخ میں پیوست ہوتی ہیں اور اس کا آسمان مستقبل کی آزادیوں کو چھوتا ہے۔ بلوچ مزاحمت اپنی قومی شناخت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، اور یہی رشتہ اسے سامراجی جبر کے خلاف اخلاقی برتری فراہم کرتا ہے۔ یہ برتری نہ صرف عسکری یا سیاسی سطح پر بلکہ فکری و روحانی سطح پر بھی واضح ہے۔
ہیگل کہتا ہے کہ آزادی تبھی ممکن ہے جب انسان اپنی خودی کو پہچانتا ہے۔ بلوچ کی خودی اس کی قومی شناخت ہے۔ جب یہ شناخت زندہ رہتی ہے تو غلامی کے سائے طویل نہیں ہو پاتے۔ بلوچ مزاحمت ایک داستان ہے جس میں عشق اور قربانی کے استعارے شامل ہیں۔ یہ عشق زمین سے ہے، ماں بولی سے ہے، تاریخ سے ہے۔ یہ وہ عشق ہے جو مزاحمت کو شاعری میں بھی ڈھالتا ہے اور بارود میں بھی۔ یہی عشق مزاحمت کو محض ردِعمل سے بلند کرکے ایک مثبت تخلیقی عمل بنا دیتا ہے۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ بلوچ اپنی قومی شناخت کے ذریعے محض ایک سیاسی تحریک نہیں چلا رہا بلکہ ایک تہذیبی و فکری ورثے کو زندہ رکھ رہا ہے۔ یہ جدوجہد دراصل تاریخ سے جڑنے اور مستقبل کی تعمیر کا سنگم ہے۔ شناخت انسان کو صرف ماضی سے جوڑتی نہیں بلکہ مستقبل کی طرف بھی لے جاتی ہے۔ یہ ایک ایسی کڑی ہے جس کے ذریعے ہر نسل اپنی اگلی نسل کو شعور، فن اور فکر منتقل کرتی ہے۔ جب شناخت موجود ہوتی ہے تو قومیں ترقی کو اپنی زمین، اپنی زبان اور اپنی تہذیب کے دائرے میں ڈھالتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جاپان نے جدید سائنس اپنائی لیکن اپنی تہذیب کو برقرار رکھا، اور یورپ نے فلسفہ اور فن کو اپنی تاریخ کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔انسان کی اصل عظمت اس کی شناخت ہے۔ یہی شناخت اسے ایک بے نام ہجوم سے الگ کر کے ایک زندہ قوم، ایک تخلیقی فرد اور ایک شعوری تہذیب بناتی ہے۔ شناخت نہ صرف فن، سائنس، قانون اور فلسفے کو جنم دیتی ہے بلکہ ارتقاء اور مزاحمت کا ایندھن بھی ہے۔ جو قوم اپنی شناخت کو محفوظ رکھتی ہے وہ فنا کے اندھیروں سے بچ نکلتی ہے، اور جو قوم اپنی شناخت کھو دیتی ہے، وہ اپنی روح کھو دیتی ہے۔
بلوچ قوم اپنی تہذیب و تمدن، تاریخ اور اجتماعی شعور کے اعتبار سے دنیا کی اُن اقوام میں شمار ہوتی ہے جنہوں نے صدیوں کے طوفان جھیلے لیکن اپنی شناخت اور آزادی کے آدرش کو نہ صرف محفوظ رکھا بلکہ اسے اپنی زندگی کے ہر پہلو میں رچا بسا دیا۔ بلوچ کے وجود کی کہانی محض ایک نسلی و جغرافیائی وحدت نہیں بلکہ ایک زندہ تاریخی شعور ہے جو قربانی، مزاحمت اور آزادی کے دھاگے سے بُنا گیا ہے۔
بلوچ کا اپنی دھرتی سے عشق ایک سطحی جذباتی وابستگی نہیں بلکہ وجودی بنیاد ہے۔ جب کوئی قوم اپنی زمین کو محض جغرافیہ نہ سمجھے بلکہ اسے اپنے وجود کا حصہ جان لے، تو قربانی اُس کے شعور میں شامل ہو جاتی ہے۔ بلوچ کی داستانِ حیات بتاتی ہے کہ ہر دور میں قربانی، چاہے وہ جانی ہو یا سماجی، اُس کے وجود کی حفاظت کے لئے دی گئی۔ یہ قربانی بلوچ کی اجتماعی یادداشت کا وہ چراغ ہے جس نے غلامی کے اندھیروں میں بھی آزادی کی راہوں کو روشن رکھا۔آزادی بلوچ کے لئے کوئی تجریدی نعرہ نہیں بلکہ اُن کی زبان، تاریخ، روایت اور تہذیب کا مقدس رشتہ ہے۔ غلامی کے سائے میں زندہ رہنے سے بہتر، بلوچ نے ہمیشہ مزاحمت ا کو ترجیح دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزادی کی جستجو بلوچ کی شاعری، لوک گیت، لیلڑیاں اور سیاسی نظریات میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ آزادی محض سیاسی خودمختاری نہیں بلکہ ایک مکمل فکری و روحانی کیفیت ہے، جس کے بغیر بلوچ اپنی شناخت کو ادھورا سمجھتے ہیں۔
بلوچ قومی مزاحمت دراصل ایک نظریاتی تسلسل ہے۔ یہ مزاحمت بندوق اور جنگ میں منعکس ہو کرادب، شاعری، سیاست، اور فکری مکالمے میں بھی زندہ ہے۔ بلوچ شاعر اور ادیب آزادی کو ایک تخلیقی و انقلابی قوت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ یہی انقلابی فکر بلوچ سیاست کو محض اقتدار کی جدوجہد نہیں رہنے دیتی بلکہ اسے تہذیبی بقا اور تاریخی انصاف کی جنگ میں بدل دیتی ہے۔بلوچ کی قومی سیاست میں قربانی اور آزادی کا جو امتزاج ہے وہ اُنہیں ایک منفرد شناخت عطا کرتا ہے۔ بلوچ قومی تحریک حقوق یا وسائل کی تقسیم کے لئے نہیں بلکہ اپنے وجود کی معنویت آزادی اور تہذیبی تحفظ کے لئے ہیں۔
ادب و فنون میں بلوچ اپنی شناخت اور آزادی کو استعاروں، علامتوں اور داستانوں کے ذریعے زندہ رکھتے ہیں۔ بلوچ لوک گیتوں میں قربانی کا ذکر، ماؤں کی لوریوں میں مزاحمت کے خواب، اور شاعروں کی نظموں میں آزادی کا شعور یہ سب مل کر بلوچ کی اجتماعی یادداشت کو دوام بخشتے ہیں۔ یہ ادبی تسلسل دراصل وہی سنہری دھاگہ ہے جو صدیوں کے بعد بھی بلوچ قوم کو ایک دوسرے سے باندھے رکھتا ہے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ بلوچ کی تاریخ اور جدوجہد قربانی اور آزادی کے اُس سنہری دھاگے سے بندھی ہے جو کبھی ٹوٹا نہیں۔ یہ دھاگہ بلوچ کو محض ایک قوم نہیں بلکہ ایک تحریک، ایک نظریہ اور ایک زندہ تہذیب بنا دیتا ہے۔ بلوچ کا عشقِ آزادی محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ اُن کے وجود کی معنویت ہے۔ یہی عشق اُنہیں تاریخ کے دھارے میں زندہ رکھے گا اور آنے والی نسلوں کے لئے روشنی کا مینار بنے گا
بلوچ سماج کی تہذیب کی جڑیں اپنی زمین سے گہری جڑی ہوئی ہیں۔ یہاں کی ہوائیں، دریا، پہاڑ اور میدان، یہ سب کسی آفاقی راز کی طرح ہیں جو بلوچ کے دل میں سرگم گنگناتی ہیں۔ ان قدرتی مناظرات میں چھپی ایک پیچیدہ ثقافت، فلسفہ اور فطرت کے ساتھ انسان کی ہم آہنگی کی داستان چھپی ہوئی ہے۔ ان کے لئے زمین صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں، بلکہ ان کا جینا، سوچنا اور محسوس کرنا ہے۔
بلوچ کے لے وطنی عشق صرف ایک رومانوی یا جذباتی کیفیت نہیں، بلکہ یہ ایک فلسفہ ہے جس کے ذریعے وہ اپنی تاریخ، ثقافت اور جغرافیائی حدود کو سمجھتے ہیں۔ بلوچ سیاست، ادب اور آرٹ کا ہر پہلو اس عشق کی عکاسی کرتا ہے، جو زمین، زبان، تاریخ اور آزادی کے لئے ہے۔ یہاں عشق ایک قوت ہے جو نہ صرف فرد کو بلکہ سماج کو بھی حوصلہ دیتی ہے، اپنے خود اختیاری کی جدوجہد میں، اپنی قومی شناخت کی حفاظت میں اور اپنی آزادی کے لئے۔
بلوچ کا ہر احتجاج، ہر مزاحمت، ہر جنگ، اور ہر محاذ دھرتی ماں سے محبت کی علامت ہے اپنے لوگوں کے لئے، اپنی زمین کے لئے اور اپنی ثقافت کے لئے۔ یہاں کی سیاست میں اصولوں کی بنیاد ان اقدار پر ہے جو بلوچ سماج کے عشق میں چھپی ہوئی ہیں۔بلوچ مزاحمت کی بنیاد بھی اسی عشق میں پوشیدہ ہے۔ بلوچ سرم چاروں کی ازہان میں آزادی کی جو تڑپ ہے، وہ کسی روایتی جنگجو سے زیادہ ایک نظریاتی وژنری تحریک ہے۔ بلوچ مزاحمت میں ایک داخلی استقامت اور جیت کا خواب چھپاہوا ہے، جو صرف اس وقت مکمل ہوگا جب ان کی زمین، زبان اور ثقافت آزاد ہوگی ۔
بلوچ مزاحمت کے تمام جمالیاتی اظہاراس کی گواہی ہیں کہ یہ جدوجہد صرف ماضی کی بازیافت یا حال کی بقا کے لیے نہیں بلکہ مستقبل کی تعمیر کے لیے ہے۔ یہ ایک ایسا مستقبل ہے جس میں غلامی اور نوآبادیاتی نظام کا کوئی سایہ نہ ہو؛ ایک ایسا مستقبل جس میں بلوچ قوم اپنی شناخت، اپنی زبان اور اپنی زمین کے ساتھ آزاد، خوشحال اور باوقار زندگی گزار سکیں