
بلوچ انسانی حقوق کے بزرگ رہنما ماما قدیر بلوچ کی طبیعت ایک بار پھر ناساز ہو گئی ہے اور انہیں آج جناح ہسپتال کراچی سے آغا خان ہسپتال کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ماما قدیر بلوچ کو جناح ہسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں رکھا گیا تھا، جہاں ان کی حالت تشویشناک رہی۔ طبیعت کی سنگینی کے پیش نظر انہیں آغا خان ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
ماما قدیر بلوچ کئی دہائیوں سے لاپتہ افراد کے حقوق اور بلوچ انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم ہیں۔ ان کی بیماری کی خبر سے بلوچ قوم اور انسانی حقوق کے کارکنان میں گہری تشویش پائی جا رہی ہے۔
ان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ماما قدیر بلوچ کی صحت کی نگرانی مسلسل جاری ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے اسپتال انتظامیہ تیار ہے۔
بلوچستان اور ملک بھر سے انسانی حقوق کے کارکنان نے ماما قدیر کی صحت یابی کے لیے دعا کی اپیل کی ہے۔