
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے رہنماؤں کی گرفتاری اور بلوچستان میں لاپتہ کیے گئے افراد کے اہل خانہ کا پُرامن دھرنا آج 43ویں روز میں داخل ہوگیا ہے۔
خواتین، بزرگ مائیں اور بچے سخت سردی، سڑکوں کی بندش، ہراسانی اور حکام کے ناروا سلوک کے باوجود مسلسل دھرنے میں شریک ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ تمام مشکلات کے باوجود ان کا حوصلہ ٹوٹا نہیں۔
احتجاج میں بلوچ خاندانوں کو نیشنل پریس کلب کے سامنے پرامن اجتماع کی اجازت نہ ملنے کے باوجود وہ کھلے آسمان تلے بیٹھ کر انصاف، اپنے پیاروں کی بازیابی اور بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
شرکاء نے واضح کیا کہ وہ اپنے مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رکھیں گے۔