بلوچ مزاحمت: تاریخ، قربانی اور شناخت کا تسلسل!

تحریر :رامین بلوچ

بلوچستان پاکستان کے نقشے میں دکھایا جانے والا ایک غیر فطری صوبہ نہیں، بلکہ ایک الگ اور قدیم مملکت ہے جس پر پاکستان نے بزورِ طاقت قبضہ کیا۔ یہ قبضہ کسی تاریخی، تہذیبی یا سیاسی رشتے کے تحت وجود میں نہیں آیا، بلکہ طاقت اور فوج کشی کے زور پر مسلط کیا گیا۔ بلوچ اور پنجابی کے درمیان نہ زبان کا رشتہ ہے، نہ تہذیب کا، اور نہ ہی کسی تاریخی یا نظریاتی اشتراک کا۔ بلوچ قوم ہزاروں سالوں سے اپنی شناخت کے ساتھ زندہ ہے، جبکہ پنجابی ریاست طاقت کے زور پر ایک نوآبادیاتی حیثیت میں بلوچ سرزمین پر مسلط ہے۔بلوچ قوم ان تہذیبوں کی وارث ہے جو وادیٔ سندھ اور ایرانی فلات کی قدیم تہذیبوں سے بھی پہلے اپنا وجود رکھتی تھیں۔ مہرگڑھ، نوشکی، قلات اور مکران کی تہذیبیں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ بلوچ خطہ محض ایک صحرائی یا پہاڑی زمین نہیں، بلکہ انسانی تمدن کا گہوارہ ہے۔ اس کے مقابلے میں غیر فطری پنجابی خطے کی عمر نہایت محدود ہے، جو انگریزی نوآبادیاتی نظام کے زیرِ سایہ تشکیل پایا، جبکہ بلوچ وطن کی جڑیں اس سے ہزاروں سال زیادہ قدیم اور گہری ہیں۔

دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جغرافیہ محض زمین کا نام نہیں بلکہ تہزیب کردار اور شعور کی تخلیق گاہ ہے۔ بلوچ اور پنجابی خطے اس حقیقت کی جیتی جاگتی مثال ہیں۔ ان کے درمیان نہ کوئی فطری تہذیبی رشتہ ہے، نہ سماجی یا زرعی اشتراک، بلکہ ان کے وجود اور مزاج ایک دوسرے سے یکسر متضاد ہیں۔ بلوچ معاشرت کا سنگھار پہاڑوں کی سختی، صحرا کی وسعت اور سمندر کی آزاد روش ہے، جہاں زندگی مسلسل جدوجہد اور مزاحمت کی علامت ہے۔ اس کے برعکس پنجاب کی تہذیب دریاؤں کے کنارے بنی ہر طاقتور فاتح کے ساتھ سمجھوتے کی نفسیات پر پروان چڑھی۔بلوچ نے تاریخ کے ہر موڑ پر اپنی زمین اور وقار کے تحفظ کے لیے خون بہایا۔ ان کی قبریں اور مزار اس بات کے گواہ ہیں کہ انہوں نے کسی بھی حملہ آور کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ دوسری طرف پنجاب کی تاریخ اطاعت اور خیرسگالی کی حکایات سے بھری پڑی ہے، جہاں ہر آنے والے فاتح کو خوش آمدید کہا گیا۔ یہی تاریخی رویے آج تک دونوں خطوں کی اجتماعی نفسیات میں جھلکتے ہیں۔

یہ تضاد صرف سیاسی یا عسکری نہیں بلکہ تہذیبی و فکری بھی ہے۔ بلوچ آزادی کو زندگی کا اولین اصول مانتا ہے، اس کی شاعری، لوک گیت اور روایات سب اسی جذبے سے لبریز ہیں۔ پنجابی تاریخ میں زیادہ زور طاقت کے ساتھ سمجھوتہ کرنے، بقا کے لیے اطاعت اختیار کرنے پر ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں خطوں کے درمیان کسی بھی ذہنی ہم آہنگی کی مثال تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے۔سوال یہ ہے کہ یہ تضاد کس طرح دونوں قوموں کی تقدیر اور شعور کو متعین کرتا ہے۔ بلوچ کا مزاج آزادی کی تپتی دھوپ اور پہاڑوں کی سختی سے جلا ہوا ہے، اس لیے وہ غلامی کو موت سے زیادہ اذیتناک سمجھتا ہے۔ پنجابی کی ذہنیت طاقتور سے قربت کے عادی ماحول میں ڈھلی ہے، اس لیے وہ غلامی کو بقا کا ذریعہ مانتا رہا۔یہ تاریخی حقیقت ہے کہ یکسر متضاد معاشرتی اور تہذیبی رویے کبھی بھی ایک دوسرے کے ساتھ حقیقی ہم آہنگی پیدا نہیں کر سکتے۔ بلوچ اور پنجابی کی کہانی بھی اسی تناظر میں سمجھنی ہوگی: ایک طرف مسلسل مزاحمت، دوسری طرف مسلسل اطاعت۔ یہی وہ تضاد ہے جو نہ صرف ان کے ماضی کو واضح کرتا ہے بلکہ ان کے حال اور مستقبل کی راہیں بھی جدا کر دیتا ہے۔

بلوچ خطہ پہاڑوں کی سنگلاخ سختی، ریگستانوں کی وسعت اور سمندروں کی گہرائی پر استوار ہے۔ یہ سرزمین بنجر یا قدرتی طور پر غریب نہیں، بلکہ وسائل اور تہذیبی ورثے سے مالامال ہے۔ بلوچ قومی سماج اپنی زبانوں (بلوچی و براہوی)، لوک داستانوں، ہیروؤں اور شہداء کی یادگاروں کے ساتھ ایک منفرد تاریخی و تہذیبی اکائی بناتا ہے۔ بلوچ ثقافت میں خودداری، مزاحمت اور مہمان نوازی بنیادی اقدار کے طور پر رچی بسی ہیں۔تاریخ کے اوراق یہ بتاتے ہیں کہ بلوچ اور پنجابی دو ایسے سیاسی و تہذیبی وجود ہیں جو ہمیشہ الگ الگ شناخت رکھتے آئے ہیں۔ نہ یہ محض جغرافیہ کا سوال ہے، نہ صرف زمین کے نقشے کی لکیر، بلکہ یہ تہذیب، شعور اور سیاسی مزاج کی وہ علیحدگی ہے جسے کوئی طاقت مٹا نہیں سکی۔ بلوچ سرزمین کبھی بھی پنجاب کی سیاسی اکائی یا ہندوستان کی انتظامی تقسیم کا حصہ نہیں رہی۔ اس کے پہاڑ، صحرا اور سمندر اپنی الگ گواہی دیتے ہیں کہ یہ خطہ ہمیشہ اپنی داخلی روح اور مزاحمتی شعور کے ساتھ زندہ رہا ہے۔

بلوچ مملکت کی تاریخ اس الگاؤ کی سب سے روشن دلیل ہے۔ یہ ریاست محض ایک حکومتی ڈھانچہ نہیں تھی بلکہ بلوچ اجتماعی شعور اور خودمختاری کا آئینہ تھی۔ یہاں کے لوگ سب اس بات پر یکسو تھے کہ بلوچ اپنی شناخت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ بلوچ قوم کی سیاسی اور عسکری تاریخ اس بات کی زندہ شہادت ہے کہ بلوچ اپنی سرزمین کو کبھی بھی کسی دوسرے خطے کی ضمیمہ ریاست بننے پر آمادہ نہیں ہوئے۔پنجاب کی تاریخ اور بلوچ کی تاریخ دو متوازی دریا ہیں جو کبھی ایک دوسرے میں مدغم نہیں ہوئے۔ پنجاب کی سیاسی نفسیات زیادہ تر سلطنتوں کے تابع رہی، جہاں ہر نئی طاقت کو خوش آمدید کہا گیا۔ اس کے برعکس بلوچ تاریخ مسلسل مزاحمت اور جدوجہدکی تاریخ ہے۔ یہی مزاحمت بلوچ کے شعور میں اس طرح رچی بسی ہے کہ غلامی کو وہ موت سے زیادہ کربناک سمجھتے ہیں۔یہ الگ الگ سیاسی و تہذیبی وجود اس بات کا اعلان ہیں کہ بلوچ مسئلہ کسی صوبائی انتظامیہ یا وقتی سیاسی بندوبست کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ ایک قدیم قوم کی تاریخی حقیقت ہے۔ وہ حقیقت جو شہداء کے لہو، اور تاریخ کے سنہرے دستاویزات میں آج بھی زندہ ہے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پنجاب نے اپنی سیاسی تاریخ زیادہ تر مغل، سکھ اور برطانوی اثرات کے تحت تشکیل دی، جبکہ بلوچ قوم نے ہمیشہ قومی خودمختاری اور آزادی کی روایات کو اپنایا۔ حتیٰ کہ دونوں اقوام کی زبانیں، ادب اور موسیقی بھی ایک دوسرے سے جداگانہ ہیں اور کسی مشترک بنیاد پر استوار نہیں۔ اگر تاریخی طور پر ان دونوں اقوام کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت مزید واضح ہو جاتی ہے کہ بلوچ اور پنجابی "قدرتی اتحادی” نہیں، بلکہ بزورِ طاقت قبضے کے ذریعے بلوچ قوم کو نام نہاد پنجابی اور پاکستانی شناخت میں ضم کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ وہ تاریخی حقیقت ہے جسے پاکستان اپنی نصابی کتابوں اور ریاستی میڈیا پروپیگنڈے کے ذریعے مسخ کرتا رہا ہے۔

بلوچ قومی مقدمہ برائے آزادی ہمیں اس بنیادی نکتہ پر غور کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا بندوق، جبر اور نوآبادیاتی طاقت کے بل پر کسی قوم کی شناخت کو مسخ کیا جا سکتا ہے؟ تاریخ اپنے فیصلے سنانے میں کبھی جھجکتی نہیں، اور اس کا صاف جواب ہے: کبھی نہیں۔ طاقت کے نشے میں بدمست نوآبادیاتی قوتیں غلامی تو مسلط کر سکتی ہیں، زمینوں پر قبضہ کر سکتی ہیں، زبانوں کو دبانے کی کوشش کر سکتی ہیں، لیکن قوموں کے شعور اور اجتماعی حافظے کو نیست و نابود نہیں کر سکتیں۔یہی شعور بلوچ قومی وجود کا اصل سرمایہ ہے۔ بلوچ کی زمین پر جبری قبضہ ہو سکتا ہے، اس کے نوجوانوں کو گمشدہ کیا جا سکتا ہے، اس کی ثقافت کو حاشیے پر دھکیلا جا سکتا ہے، لیکن اس کی رگوں میں دوڑتا ہوا آزادی کا شعور آج بھی زندہ ہے۔ یہی شعور بلوچ کو پنجابی سامراج کے سامنے جھکنے نہیں دیتا اور یہی شعور ہے جو اسے مسلسل مزاحمت پر قائم رکھے ہوئے ہے۔دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جب الجزائر کی عوام نے فرانسیسی سامراج کے خلاف بندوق اٹھائی تو ان کے خلاف بھی یہ سوال اٹھایا گیا کہ کیا وہ اپنی آزادی حاصل کر پائیں گے؟ اور الجزائریوں نے جواب دیا: ہاں، کیونکہ طاقت بندوق سے نکل سکتی ہے مگر قوموں کی آزادی ہمیشہ شعور اور قربانی سے جنم لیتی ہے۔ بلوچ کی سرزمین بھی آج اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں غلامی کے خلاف مزاحمت محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی اور تاریخی فطرت ہے۔ کہ غلامی کے سائے کبھی بھی آزادی کے سورج کو ڈھانپ نہیں سکتے۔

یہ حقیقت کسی دلیل کی محتاج نہیں کہ بلوچ قومی آزادی کا مطالبہ بلوچ قومی وجود کا بنیادی جوہر ہے۔ آزادی محض سیاسی نقشوں پر لکھی جانے والی کوئی لکیر نہیں، بلکہ وہ روح ہے جو قوموں کو زندہ رکھتی ہے۔ جس لمحے کوئی قوم اپنی آزادی کھو دیتی ہے، وہ لمحہ اس کی تاریخ پر سب سے سیاہ دھبہ بن جاتا ہے۔ اس لمحے وہ اپنی زمین، اپنی زبان اور اپنے ارمانوں کے ساتھ ساتھ اپنی روح بھی کھو دیتی ہے۔بلوچ قوم کے لیے آزادی اس کی بقا ہے، کیونکہ یہ وہ سرزمین ہے جہاں پہاڑ، صحرا اور سمندر صرف جغرافیہ نہیں بلکہ وجود کی علامت ہیں۔ آزادی اس کی تاریخ ہے، بلوچ تاریخ کے پنہ اسی سچائی کو دہراتی ہیں کہ یہ قوم ہمیشہ آزاد رہی اور آزاد رہنے کی آرزو کو اپنا مقدس فریضہ سمجھتی رہی۔ اور آزادی ہی اس کی آئندہ نسلوں کی ضمانت ہے، کیونکہ غلامی میں پلنے والی نسلیں کبھی اپنا اصل کردار ادا نہیں کر سکتیں۔یہی وجہ ہے کہ بلوچ کے لیے آزادی کوئی نعرہ نہیں، بلکہ ایک وجودی سوال ہے۔ کہ بلوچ کی بقا آزادی میں ہے، اس کی تاریخ آزادی سے عبارت ہے، اور اس کی آئندہ نسلوں کا مستقبل اسی آزادی سے وابستہ ہے کیونکہ تاریخ نے ہمیشہ ایک ہی فیصلہ سنایا ہے:
وہ قومیں فنا نہیں ہوتیں جو اپنی آزادی کو اپنی روح سمجھتی ہیں۔
اگرچہ قومیں غلامی کے باوجود عارضی طور پر زندہ رہ سکتی ہیں، مگر اپنی روح کھو دینے کے بعد ان کا وجود محض ایک مٹی کا ڈھانچہ رہ جاتا ہے۔ بلوچ قوم اس انجام کو قبول کرنے پر تیار نہیں۔ اسی لیے اس کے نوجوان اپنی جانیں دیتے ہیں، مائیں اپنے بیٹے قربان کرتی ہیں، اور سرمچار اپنے عمل سے آزادی کے مشقیں دہراتے ہیں۔

دنیا کی تاریخ میں ہر وہ قوم زندہ رہی ہے جس نے ظلم و جبر کے اندھیروں میں بھی اپنی شناخت کا چراغ نہیں بجھنے دیا۔ طاقتور فاتح، جارحانہ قبضے، نسل کشی اور استحصال کئی بار ایک قوم کی جسمانی موجودگی کو دبانے میں کامیاب ہو جاتی ہیں، مگر وہ اس کی روح، اس کے عزائم اور اس کے نظریاتی فطرت کو نہیں دبا سکتیں۔ بلوچ قوم انہی زندہ تاریخوں میں سے ایک ہے، جو صدیوں کے طوفانوں، غلامی کے اور نوآبادیاتی مظالم کے باوجود اپنے وجود کی حرارت، اپنی ثقافت کی حرمت اور اپنی مزاحمت کی پہچان قائم رکھتی رہی ہے۔ آج بلوچ قوم غلامی، قبضے، نسل کشی اور استحصال کی صلیب پر لٹکایا گیا ہے۔مگر یہی مظالم بلوچ قوم کی مزاحمتی روح کو جلا دیتے ہیں۔ ہر ظلم، ہر زخم اور ہر قربانی بلوچ قوم کے عزم کو مضبوط کرتا ہے۔ طاقت اور تشدد تاریخ کو ہمیشہ کے لیے مسخ نہیں کر سکتے، اور ہر دباؤ کے بعد بلوچ قومی مزاحمت ایک نئے عزم کے ساتھ ابھرتی ہے۔بلوچ مزاحمت کی حقیقی طاقت اس کی قربانیوں اور تاریخ کے ساتھ جڑی یادوں میں چھپی ہے۔ ہر شہید، ہر گمشدہ اور ہر جدوجہد کرنے والا بلوچ انسان ایک زندہ چراغ ہے جو قوم کی شناخت کو روشن رکھتا ہے۔ یہی چراغ بلوچ نسل کے لیے امید، مزاحمت اور آزادی کی ضمانت ہے۔اور یہی چراغ آنے والی نسلوں کے لیے آزادی اور حریت کی رہنمائی کرتا ہے۔

ہندوستان کی تقسیم اور اس کے بعد کے سیاسی ڈھانچے نے بلوچستان کو پنجابی حملہ آوروں کی سیاست کا شکار بنایا۔ پنجابی امپائر نے اس سرزمین کو محض ایک جغرافیائی خطہ سمجھا جس پر قبضہ کرنا ان کے لیے طاقت کے اظہار کا ذریعہ تھا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان محض زمین کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ ایک مکمل تاریخ،سیاست، مزاحمت تہذیب، زبان، ثقافت اور قومی و سماجی شعور کا نام ہے۔ یہی شعور ہی پاکستانی ریاستی جبر کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔نوآباد کار جب کسی قوم پر جبر کرتی ہے تو وہ سمجھتی ہے کہ سرزمین پر قبضہ، وسائل کی لوٹ مار اور لاشوں کی گنتی اس کی فتح ہے۔ مگر اصل شکست وہاں سے شروع ہوتی ہے جب مقبوضہ اپنی شناخت اور اپنی آواز کو مرنے نہیں دیتا۔ بلوچ سماج آج اسی فلسفے کا زندہ مظہر ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بلوچ وطن ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حملہ آور کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ وہ قتل کرتا ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے ہی جبر کے باوجود مقبوضہ کو خاموش نہیں کرا پاسکتا۔ ہر شہید بلوچ نوجوان، ہر قیدی، ہر جبری گمشدگی کا شکار اور ہر جلاوطن ڈائسپورا کے ساتھی دانشور راہنماء دراصل اس آواز کی تجدید ہے جو تاریخ کو بتا رہی ہے کہ آزادی انسان کی اصل حقیقت ہے۔

بلوچ مزاحمت بندوق یا محاذ کے ساتھ ادب، شاعری، موسیقی لٹریچر آرٹ اور صحافت میں بھی زندہ ہے۔ بلوچ لوک گیتوں میں جب "شہدا” اور "قربانی” ایک ہی مصرعے میں آتے ہیں تو یہ ظاہر کرتا ہے کہ بلوچ قوم کی زندگی مزاحمت اور جمالیات کا امتزاج ہے۔بلوچ جدوجہد ہمیں تاریخ کا ایک سنہری اصول یاد دلاتی ہے:قربانی قوموں کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے جو نسل در نسل آزادی کے آدرش کو زندہ رکھتی ہے۔آزادی کا سوال بلوچ تاریخ، حال اور مستقبل کے بیچ مسلسل گونجتا ہے۔ اور اس کا جواب بلوچ قوم اپنی مزاحمت اور قربانی کے ذریعے دنیا کے سامنے رکھ رہی ہے۔آج بلوچ قوم زخمی ضرور ہے، مگر زندہ ہے۔ اس کی زندہ مزاحمت یہ پیغام دیتی ہے آزادی وہ لمحہ ہے جب ایک قوم اپنی اصل حقیقت سے آشنا ہوتی ہے۔ بلوچ وطن ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ ظلم کی سب سے بڑی شکست یہ ہے کہ مظلوم اپنی شناخت کو مرنے نہیں دیتا، بلکہ اسے نئی نسل کے سپرد کر دیتا ہے۔

پاکستانی ریاستی بیانیہ ہمیشہ بلوچستان کو ایک "اٹوٹ انگ” کہنے پر اصرار کرتا رہا ہے، مگر تاریخ یہ بتاتی ہے کہ یہ خطہ کسی تاریخی، ثقافتی یا سیاسی بنیاد پر پاکستان کا حصہ نہیں رہا۔ اس پر پاکستان کا قبضہ نوآبادیاتی جبر کا تسلسل ہے۔پاکستان کے زیر قبضہ بلوچستان کو وسائل کی لوٹ مار اور فوجی تسلط کا سامنا ہے۔ سیندھک اور ریکوڈک کا سونا، سوئی کی گیس، گوادر کی بندرگایہ سب بلوچ عوام کو ترقی دینے کے بجائے پنجاب اور نوآبادیاتی اشرافیہ کی طاقت بڑھانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔بلوچ قوم سونے کے ڈھیر پر غربت، اور پسماندگی میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جبکہ ان کی سرزمین سے حاصل شدہ دولت پورے پنجاپ کو ایندھن دےرہی ہے۔ یہ استحصال اس نوآبادیاتی نظام کی یاد دلاتا ہے جو یورپی طاقتوں نے افریقہ اور ایشیا پر مسلط کیا تھا۔

بلوچ قوم نے غلامی اور نسل کشی کے باوجود اپنی مزاحمت کو ترک نہیں کیا۔ یہ مزاحمت کبھی گوریلا جنگ کی صورت میں سامنے آتی ہے، کبھی سیاسی جدوجہد میں، کبھی ادبی تحریروں میں، کبھی گیتوں اور شاعری میں، اور کبھی شہداء کے خون سے لکھی جاتی ہے۔ بلوچ زمین صرف خون میں نہیں ڈوبی، بلکہ آنسوؤں کے ایک مسلسل سمندر میں بھیگی ہوئی ہے۔ ٹوٹے ہوئے ارمان، مسخ شدہ زمینی حقیقتیں اور کچلے گئے نعرے اس سرزمین کی پہچان بن گئے ہیں۔بلوچ وطن کے ہر کوچہ، ہر دمگ و میتگ، ہر پہاڑ اور ہر صحرا میں مزاحمت کی ایک چیخ گونجتی ہے۔ یہ چیخ ظلم اور جبر کے خلاف ایک بھاری ضرب ہے۔ جب بلوچ مائیں اپنے بچوں کے لاشے اٹھاتی ہیں، تو وہ صرف ذاتی غم و الم کا سامنا نہیں کر رہی ہوتیں۔ ان کے آنسو انسانی وجود کی سب سے بنیادی قیمت زندگی اور وقارپر لگنے والے زخموں کی گواہی ہیں۔ ہر قطرہ آنسو ایک سوال ہے، ایک چیلنج ہے، جسے وہ دنیا کے ضمیر پر رکھتی ہیں، اس دنیا کے ضمیر پر جو انسانی حقوق، انصاف اور انسانی وقار کے بلند و بانگ دعوے کرتی ہے۔مگر افسوس کہ وہ دنیا، جسے انصاف کا علمبردار ہونا چاہیے، اپنے مفادات کے سائے میں خاموش ہے۔ سامراجی قوتیں، جارح اور نسل کش طاقتیں انسانی خون کی ندیاں بہا رہی ہیں، جنگی جرائم کی دھول میں انسانی زندگی کو روند رہی ہیں، اور اس بربریت کے سامنے عالمی برادری کی آنکھیں بند ہیں۔ بلوچ ماؤں کا دکھ محض ایک قوم کی صدمہ نہیں، بلکہ یہ انسانی معاشرت کے ہر اصول پر ایک سوالیہ نشان ہے۔بلوچ ماؤں کی ہوئے آنسو، ایک مزاحمتی شعور کی علامت ہیں۔ کہ تم ظلم کو چھپانے کی کوشش کرو گے، ہم یاد رکھیں گے۔ تم ہمارے بچوں کو چھین لو گے، مگر ہمارے عزم کو نہیں توڑ سکو گے۔” ہر شہید کا جنازہ، ہر آنسو اور ہر رنجیدہ دل بلوچ قوم کی مزاحمت کی زبان ہے، جو عالمی طاقتوں کی منافقت اور خودغرضی کو بے نقاب کرتا ہے۔بلوچ ماؤں کی قربانی محض ایک ذاتی المیہ نہیں بلکہ ایک روشن علامت ہے۔ بلوچ ماؤں کے آنسو، تاریخ کے صفحات پر ایک روشنی کی مانند روشن رہیں گے، جو آنے والی نسلوں کو آزادی، وقار اور انسانی ہمدردی کی راہ دکھائیں گے۔

بلوچ قومی مسئلہ عالمی دنیا کے لیے کوئی انوکھا یا محض علاقائی تنازعہ نہیں۔ یہ ایک انسانی اور اخلاقی سوال کے ساتھ انسان کی ازلی جدوجہد کا تسلسل ہے۔ یہ مسئلہ بلوچ قوم کی بقا، اس کی شناخت اور آزادی کی جدوجہد کا آئینہ ہے۔ یہاں ہر جبری گمشدگی، ہر قتلِ عام، ہر زمین پر قبضہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ انسانی ضمیر پر ایک سوالیہ نشان ہیں۔بلوچستان میں ہر جبری گمشدہ شخص محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک مقدمہ ہےایسا مقدمہ جو عالمی ضمیر پر کھٹکتا ہے۔ ہر لاپتہ نوجوان، ہر مقتل سے اٹھنے والا جنازہ اور ہر ماں کی آنکھوں کا آنسو یہ سوال اٹھاتا ہے:
انسانی حقوق کے عالمی ادارے کس کے لیے ہیں؟یہ سوال محض بلوچستان کے کرب کا نہیں بلکہ عالمی نظام کے منافقانہ چہرے کا انکشاف ہے۔ دنیا کے طاقتور ادارے اور ریاستیں فلسطین، یوکرین پر آواز بلند کرتی ہیں، مگر بلوچستان کے خون اور آنسو انہیں نظر نہیں آتے۔ یہ خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی طاقتیں اصولوں کی نہیں بلکہ مفادات کی سیاست کرتی ہیں۔

بلوچستان پر پاکستان کا قبضہ ایک نوآبادیاتی حقیقت ہے جو بیسویں صدی میں سامراجی قوتوں کی تقسیم کا نتیجہ تھا۔ برطانوی استعمار نے بلوچ وطن کو اپنے اسٹریٹجک مفادات کے تحت تقسیم کیا، اور آزادی کے بعد یہی کردار پاکستان نے سنبھال لیا۔آج بھی یہی کھیل جاری ہے: بلوچستان کو اس کی جغرافیائی اہمیت (گوادر، مکران کوسٹ، معدنی وسائل) کی وجہ سے عالمی سامراجی قوتیں ایک اسٹریٹجک ہب کے طور پر دیکھتی ہیں۔ انسانی جانیں، ثقافت، زبان اور شناخت ان کے لیے ثانوی ہیں۔ اصل مقصد خطے پر عسکری و معاشی بالادستی قائم رکھنا ہے

بلوچستان میں ظلم کا ہر منظر انسانی روح پر ایک نیا سوال چھوڑتا ہے۔ جب ایک استاد اغوا کر لیا جاتا ہے، جب ایک نوجوان کی لاش ویرانے میں ملتی ہے، جب ایک طالب علم جبری گمشدہ کر دیا جاتا ہے، تو یہ محض بلوچ سماج کی المیہ داستان نہیں رہتی یہ پوری انسانیت کے ضمیر پر ایک سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔

بلوچ مزاحمت محض ایک ردعمل نہیں بلکہ ایک منطقی صداقت ہے۔ یہ مزاحمت اس بات کا اعلان ہے کہ انسان اپنی آزادی کے بغیر مکمل نہیں۔ بلوچ قوم اپنی قربانیوں کے ذریعے یہ سبق دے رہی ہے کہ موت کو گلے لگانا بہتر ہے مگر غلامی کو قبول کرنا نہیں۔یہی مزاحمت اس تصور کو زندہ رکھتی ہے جسے ہم "فنا میں بقا” کہتے ہیں: کہ جب ایک فرد یا قوم اپنی جان آزادی کے لیے قربان کرتی ہے تو وہ موت سے نہیں مرتی بلکہ تاریخ میں امر ہو جاتی ہے۔بلوچ مزاحمت کی نشوونما پانی سے نہیں خون سے ہوتی ہے۔ یہ محض ایک جذباتی استعارہ نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے جس نے اس خطے کو صدیوں سے اپنے دامن میں لپیٹا ہوا ہے۔ ہر وہ قوم جو اپنی زمین، شناخت اور آزادی کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی ہے، اس نے اپنی قیمت لہو سے ادا کی ہے۔ بلوچ قوم بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ان کے لیے زندگی آزادی کے بغیر محض ایک طویل قید ہے، ایک اذیت ہے جو موت سے کہیں زیادہ ہولناک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچ اپنی مٹی اور وقار کے لیے مرنا قبول کر لیتے ہیں مگر غلامی کو اپنی رگوں میں اترنے نہیں دیتے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں انسانی تاریخ کی مزاحمتی تحریکیں ایک دوسرے سے جڑ جاتی ہیں۔ جب چی گویرا نے کہا تھا:
"جہاں ناانصافی ہے، وہاں خاموش رہنا بھی جرم ہے۔”
تو یہ جملہ بلوچ پہاڑوں میں گونجتی ہوئی چیخوں کی مانند ہے۔ بلوچ جانتے ہیں کہ خاموشی ان کے وجود کی نفی ہے، اس لیے وہ بولتے ہیں، لڑتے ہیں اور اپنا لہو اس مٹی کو سونپتے ہیں تاکہ آنے والی نسلیں آزادی کی سانس لے سکیں۔
بلوچ اسی سنگم پر کھڑے ہیں۔ وہ غلامی کی ہولناکی کو جھیلتے ہیں مگر اسی اذیت سے اپنی تاریخ کا سب سے روشن باب بھی لکھ رہے ہیں۔

تاریخ بتاتی ہے کہ مزاحمت کبھی مٹتی نہیں، بلکہ ہر شہید کا خون اسے مزید زندہ کرتا ہے۔ فرانز فینن نے کہا تھا:
"نوآبادیات کا اختتام مذاکرات سے نہیں بلکہ خون سے ہوتا ہے۔”یہی فلسفہ بلوچستان کی زمین پر سچ ثابت ہو رہا ہے۔ ہر گمشدہ، ہر شہید، ہر کرب سے گزرنے والا فرد اس جدوجہد کی آگ کو مزید بھڑکاتا ہے۔یہ آنسو اور خون دونوں چیخ کر کہتے ہیں کہ ظلم کتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو، انسان کی روح میں مزاحمت کی وہ چنگاری ہمیشہ زندہ رہتی ہے جسے بجھایا نہیں جا سکتا۔ بلوچ مزاحمت اسی آفاقی انسانی تجربے کا تسلسل ہے، جو ویتنام سے الجزائر، کیوبا سے افریقہ تک ہر اس سرزمین میں بہا جہاں انسان نے انسانیت پر ہونے والے ظلم کو للکارا۔
ولادیمیر لینن کا قول یاد ہے
"آزادی کبھی دی نہیں جاتی، اسے چھینا جاتا ہے۔”
تاریخ کبھی مٹتی نہیں۔ اسے جلایا جا سکتا ہے، مٹانے کی سازش کی جا سکتی ہے، مگر یہ اپنی راکھ سے دوبارہ جنم لیتی ہے۔ بلوچ تاریخ بھی اسی لازوال مزاحمت کا نام ہے۔ یہ تاریخ کاغذی کتابوں میں محدود نہیں بلکہ شہداء کے مزارات پر سلامی، اسلاف کی قبروں کی خاموش گواہی، قدیم کھنڈرات کی مٹی، لوک گیتوں کی بازگشت اور زبانوں کی مٹھاس میں زندہ رہتی ہے۔

ہر مزار صرف ایک قبر نہیں بلکہ ایک زندہ داستان ہے؛ ہر شہید کا خون ایک نئی سطر بناتا ہے اور ہر گیت بلوچ وجود کی ابدی شہادت ہے۔ یہی وہ سرمایہ ہے جسے کوئی طاقت مسخ نہیں کر سکتی۔ تاریخ کو کچلنے والے ہمیشہ یہ بھول جاتے ہیں کہ یادیں مٹائی نہیں جاتیں، بلکہ ہر پابندی، ہر جبر اور ہر قید ان یادوں کو اور زیادہ روشن کر دیتی ہے۔
جب الجزائر کے انقلابی شاعر مفدی زکریا نے کہا تھا:
"ہماری قبریں بھی آزادی کی زمین پر پرچم کی مانند کھڑی رہیں گی۔”

تاریخ کی یہ سانسیں محض ماضی کا نوحہ نہیں بلکہ مستقبل کا اعلان بھی ہیں۔ جو قوم اپنی زبان کو، اپنے تاریخ کو، اپنی قربانیوں کو یاد رکھتی ہے، وہ کبھی فنا نہیں ہو سکتی۔ بلوچ تاریخ ایک "امر دستاویز” ہے، جو زندہ اور متحرک ہے؛ نہ صرف اپنے لوگوں کے لیے بلکہ انسانیت کے اجتماعی حافظے کے لیے۔ولندیزی فلسفی اسپینوزا نے کہا تھا:
"وہی چیز ابدی ہے جو انسانی آزادی اور جدوجہد کے ساتھ جڑی ہو۔”بلوچ تاریخ بھی اسی ابدیت کی مثال ہے۔ اسے نہ توپیں مٹا سکیں گی، نہ عدالتوں کے فیصلے اور نہ ہی وقت کی گرد۔یہ تاریخ اپنی سچائی خود لکھتی ہے، اور جب اقوام اپنی تاریخ کو خون اور گیتوں میں محفوظ کرتی ہیں تو وہ کبھی ہار نہیں سکتیں۔ بلوچ تاریخ بھی انہی صداقتوں میں سانس لیتی ہے، اور ہمیشہ زندہ رہے گی، کیونکہ یہ تاریخ کسی کاغذی فائل میں نہیں بلکہ انسانوں کی رگوں میں بہتے لہو میں تحریر ہے۔

مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

بلوچستان حکومت نے سردار اختر مینگل کے خلاف دہشت گردی کی ایف آئی آر درج کر لی، ساجد ترین ایڈووکیٹ

بدھ اگست 27 , 2025
بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے مرکزی سینئر نائب صدر اور سابق صدر بلوچستان ہائی کورٹ بار ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ بلوچستان کی “کٹھ پتلی حکومت” نے بی این پی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل کے خلاف دہشت گردی کے الزامات پر مبنی ایف آئی […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ