
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے 25 اگست کو دوپہر کے وقت جھاؤ کے علاقے یوسف کئور میں قابض پاکستانی فورسز کے مورچوں پر پہلے سے پوزیشن سنبھال کر فوجی اہلکاروں کے آنے کا انتظار کیا۔ جیسے ہی فورسز کے اہلکار وہاں پہنچے تو سرمچاروں نے ان پر شدید حملہ کیا۔ حملے کے نتیجے میں تین اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ تین شدید زخمی ہوئے، جن کے بارے میں امکان ہے کہ وہ بھی ہلاک ہوچکے ہوں۔
ترجمان نے کہا کہ حملے کے بعد سرمچار بحفاظت اپنے محفوظ ٹھکانوں پر پہنچ گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک اور کاروائی میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 23 اگست کو کیچ کے علاقے دشت نریان ڈن میں سی پیک روڈ پر ناکہ بندی کرکے دشمن کی نقل و حرکت کا مشاہدہ کیا۔ اس دوران سرمچاروں نے قابض فوج کی جانب سے سرمچاروں کی جاسوسی کے لیے نصب کیے گئے ایک یوفون موبائل ٹاور کو دھماکے سے تباہ کر دیا، جس کے نتیجے میں ٹاور مکمل طور پر ناکارہ ہوگیا۔ سرمچار نگرانی کے لیے نصب جاسوس کیمرے بھی اپنے ساتھ لے گئے۔
بیان میں کہا گیا کہ تیسری کارروائی میں 25 اگست کی رات مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ میں سرمچاروں نے مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کرکے چیکنگ کی۔ دوران چیکنگ ایک مسلح شخص کو حراست میں لے کر ان سے اسلحہ ضبط کر لیا۔
انہوں نے کہا کہ ناکہ بندی کے دوران قابض پاکستانی فورسز نے سرمچاروں کی جانب پیش قدمی کی کوشش کی تاہم سرمچاروں کے ایک دستے نے حملہ کرکے انہیں پسپا ہونے پر مجبور کیا۔ اس جھڑپ میں فورسز کے دو اہلکار زخمی ہوئے۔