کولواہ: دس سالوں سے جبری لاپتہ شخص کا بھائی بھی جبری لاپتہ

بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے کولواہ میں پاکستانی فورسز نے گزشتہ دس سالوں سے جبری لاپتہ شخص کے بھائی کو بھی حراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔

پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ ہونے والے شخص کی شناخت کچکول بلوچ ولد میار کے نام سے ہوئی ہے، جو کولواہ کے علاقے مالار کے رہائشی ہیں۔ انہیں 20 اگست کو صبح کے وقت حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق کچکول کے بھائی رسول جان گزشتہ دس سالوں سے لاپتہ ہیں، جنہیں پاکستانی فورسز نے 18 جولائی 2015 کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا تھا۔

کچکول کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ گزشتہ ماہ مئی میں پاکستانی فورسز کے چھاپے کے دوران فائرنگ سے جاں بحق ہونے والی خاتون ہوری بلوچ اور نوجوان نعیم بلوچ کے رشتہ دار ہیں۔

کچکول کے اہل خانہ نے ان کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔

مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

ریاستی ادارے بلوچ نوجوانوں کو محض بلوچ ہونے کی وجہ سے لاپتہ کر رہے ہیں۔ رحیم بلوچ ایڈوکیٹ

ہفتہ اگست 23 , 2025
بلوچ نیشنل موومنٹ کے سابق سیکرٹری جنرل رحیم بلوچ ایڈووکیٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سردار علی محمد قلندرانی کے بیٹے میر یوسف قلندرانی کی جبری گمشدگی کے حوالے سے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سردار علی محمد قلندرانی ایک شریف النفس انسان ہیں۔ وہ علاقے […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ