
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کا کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ آج 6404ویں روز بھی جاری رہا۔
اس دوران جبری لاپتہ محمد رفیق کے لواحقین نے وی بی ایم پی سے رابطہ کرکے بتایا کہ محمد رفیق ولد بہادین کو رواں سال 22 اگست کو ضلع آواران سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا، تاہم تاحال ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔
ٹکری واحد کرد اور داد محمد کرد کے لواحقین نے بھی تنظیم کو بتایا کہ دونوں بھائیوں کو 2 جون 2010 کو ضلع مستونگ کے علاقے مرو سے سکیورٹی فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کیا۔ لواحقین کے مطابق ان کا کیس عدلیہ اور کمیشن میں زیرِ سماعت رہا، جہاں یہ ثابت ہوا کہ انہیں ملکی اداروں کے اہلکاروں نے حراست میں لیا تھا، لیکن اس کے باوجود دونوں تاحال بازیاب نہیں ہوئے اور نہ ہی ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔
اس موقع پر وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ محمد رفیق، ٹکری واحد کرد اور داد محمد کرد سمیت تمام جبری لاپتہ افراد کی بازیابی یقینی بنائی جائے۔ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں ملکی قوانین کے مطابق عدالتوں میں پیش کیا جائے اور اہلِ خانہ کو ان کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔
