
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ تاریخ کے اس طلاطم خیز موڑ پر جب بھی بلوچستان کی سرزمین پر استعماری جبر اور قابض فوج کے خلاف اٹھنے والے مزاحمتی معرکوں کا تذکرہ کیا جائے گا، تو گوادر اور ساحلی پٹی پر سرانجام پانے والے تاریخ ساز آپریشن الماس کے سرمچاروں کی خون سے لکھی جانے والی قربانی اور سوب مندی ایک ایسی داستانِ حریت کے طور پر روشن رہے گا جس کی مثال ملنا محال ہے۔ یہ معرکہ ان 8 جری، بہادر اور سرفروش شہیدوں کی نظریاتی استقامت، فکری پختگی، عسکری مہارت اور لازوال قربانی کا ثمر ہے جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے قابض پاکستانی ریاست کے غرور اور اس کے عسکری تکبر کو خاک میں ملا دیا ہے۔ اس شاندار کارروائی کا آغاز جند ندر سرمچار مجاہد مہر عرف سگار زامرانی کے اس تاریخ ساز جند ندر حملے سے ہوا جس نے دشمن کے مضبوط ترین دفاعی حصار کو یکسر تہس نہس کر کے رکھ دیا، جبکہ آپریشنل کمانڈر شہید خالد عرف زامر نے محاذِ جنگ پر فرنٹ لائن سے کمانڈ کرتے ہوئے دشمن کے ہر وار کو ناکام بنایا اور میدانِ جنگ کے تمام زمینی حقائق اور جنگی حالات سے مرکزی کمانڈ کو لمحہ بہ لمحہ باخبر رکھ کر اپنی عسکری بصیرت و قیادت کا عملی اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس فتح مندانہ معرکے کی فکری اساس اور تزویراتی بنیادیں بی ایل ایف کی انتہائی نڈر گوریلا کمانڈر شہید بلقیس دیدگ عرف الماس کی آٹھ سالہ طویل تنظیمی جدوجہد اور ان کی سیکنڈ ان کمانڈ کی حیثیت سے نبھائی گئی مثالی قیادت پر استوار تھیں، جن کے نام سے اس پورے آپریشن کو منسوب کر کے بلوچ تاریخ میں خواتین کی انقلابی شمولیت اور ان کے عسکری کردار کے اعتراف و احترام کا ایک ناقابلِ فراموش باب رقم کیا گیا۔ دشت سے لے کر گوادر کے کٹھن محاذوں تک ان کے ساتھ شانہ بشانہ لڑنے والے دیگر جری سپوتوں میں شہید شکیل عرف سہراب شامل ہیں جنہوں نے انتہائی دلیری کے ساتھ کیمپ کے اندر مضبوط دفاعی مورچہ سنبھال کر دشمن کو اس وقت تک گہرے گھاؤ لگاتا رہا جب تک اس کی گولیاں ختم نہ ہوئے، اور اپنے آخری گولی سے خود کو قربان کرکے امر ہوگیا۔ شہید ناصر علی عرف نودان جنہوں نے اپنی خوش مزاجی، عسکری تکنیکی مہارت اور میڈیا سیل کے امور میں بے پناہ محنت کے ذریعے تنظیم کے ہر محاذ کو منظم کرنے میں کلیدی کردار نبھایا ہے۔
انہا کہنا تھا کہ اس کامیاب کارروائی کے دوران گشکور کولواہ کے جری سپوت شہید برات عرف سفر جان نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے دشمن کی پیش قدمی کو اس طرح روکا کہ ان کے تمام ساتھی اور دوست اس معرکے کے لیے محفوظ رہے جبکہ ڈھاڈر کے رہائشی شہید مجید زیب عرف آفتاب نے عسکری مہارت کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے پوری رات تھرمل اسکوپ کے ذریعے دشمن کے ہر قدم پر کڑی نظر رکھ کر اس کے ناپاک کاوشوں کو خاک میں ملایا ہے۔ وہیں بڑیچ ٹاؤن کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے شہید حمید اللہ عرف بادل نے شہری گوریلہ جنگ سے لے کر سوب کے کیمپ کی سخت ترین تربیت اور مشن کی تیاریوں تک اپنی تمام صلاحیتوں کو تنظیم اور قومی آزادی کیلئے وقف کرکے آخری دم تک دشمن کے سامنے چٹان کی طرح ڈٹے رہے۔ شہید مجاہد مہر عرف سگار زامرانی نے تاریخی آپریشن الماس کے دوران کیمپ کے مین گیٹ پر بارود سے لدی گاڑی کو ٹکرا کر دشمن کا دفاعی حصار پاش پاش کیا اور فتح کا راستہ ہموار کر کے خود کو مادرِ وطن پر نذر کر دیا۔
انکا مزید کہنا تھا کہ ان شہداء کی قربانیاں اس بات کا روشن ثبوت ہیں کہ بلوچ قوم کی جذبہ آزادی اور عزم ناقابل شکست ہے۔ بلوچستان لبریشن فرنٹ ان تمام درخشاں ستاروں جند ندر مجاہد مہر عرف سگار زامرانی، آپریشنل کمانڈر شہید خالد عرف زامر، شہید بلقیس دیدگ عرف الماس، شہید شکیل عرف سہراب، شہید ناصر علی عرف نودان، شہید برات عرف سفر جان، شہید مجید زیب عرف آفتاب، اور شہید حمید اللہ عرف بادل کو عقیدت و احترام کے ساتھ سرخ سلام پیش کرتی ہے اور ان کے اس انقلابی راستے پر گامزن رہتے ہوئے بلوچستان کی مکمل آزادی کے حصول تک اپنی مسلح جدوجہد کو اسی شدت، وسعت اور تندہی کے ساتھ جاری رکھنے کا عہد دہراتی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ گوریلا جنگ کے ہنر میں یکتا و ماہر، سر زمینِ بلوچستان کے درخشاں ستارے کمانڈر شہید خالد عرف زامر ولد میار سکنہ نوت چِب، ریکانی گوادر کی لازوال قربانی، فکری بلندی اور آپریشن الماس میں ان کی تاریخی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ شہید خالد عرف زامر نے 2023 میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے انقلابی پلیٹ فارم سے باضابطہ طور قومی آزادی کی جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔ گوادر جیسے اہم اور حساس خطے سے تعلق رکھنے والے جذبہ حب الوطنی سے سرشار شہید خالد نے جب اس کٹھن راستے کا انتخاب کیا، تو انہوں نے کبھی بھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ بلوچستان کے بلند و بالا پہاڑوں، دشوار گزار راستوں اور انتہائی سخت عسکری محاذوں، بشمول ساہیجی، مزن بند، اور دشت کے مختلف جنگی معرکوں میں انہوں نے اپنی بہادری، عسکری مہارت اور گوریلا اصولوں کے مطابق شاندار خدمات انجام دیئے۔ شہید خالد کی پوری زندگی اس بات کا عملی اظہار ہے کہ وہ نظریاتی پختگی اور عسکری فہم کا ایک ایسا امتزاج تھے جو تحریک کے ہر کٹھن موڑ پر سنگِ میل ثابت ہوئے ہیں۔ وہ بلوچستان کی سخت جغرافیائی اور موسمی حالات کے باوجود کبھی تھکے نہیں اور ان کے قدم ہمیشہ عزمِ مصمم کے ساتھ منزل آزادی کی طرف بڑھتے گئے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ ایک نظریاتی اور فکری سرمچار کی حیثیت سے شہید خالد کو ہمیشہ اس بات کا ادراک رہا کہ قابض ریاست کے خلاف جنگ فکری شعور، عسکری مہارتوں، قربانیوں اور نظریاتی استقامت سے جیتی جاتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے 2025 میں جذبہ قربانی کے تحت تحریک آزادی کی سوب مندی کیلئے بطور جندندر اپنا نام سدو آپریشنل بٹالین (سوب) کے رضاکاروں میں شامل کرنے کے لیے پیش کیا اور باضابطہ طور پر سوب کے مرکزی اوتاک میں منتقل ہو گئے۔ سوب میں شمولیت کے بعد ان کی تربیت، ان کا فکری لگاؤ اور ان کا عزم مزید بلند ہو گیا تھا۔ شہید خالد ایک انتہائی درجے کے محنتی، جفاکش، کبھی نہ تھکنے، اور ہر دم تیار رہنے والے سرمچار تھے۔ وہ ایک ماہر اور چوٹی کے نشانہ باز تھے، جن کا نشانہ کبھی چوکتا نہیں تھا۔ ایک ذمہ دار کمانڈر کی حیثیت سے وہ اپنے ساتھی سرمچاروں کے لیے شفیق رہنما اور میدانِ جنگ میں ایک چٹان کی مانند تھے۔ ان کی خوش مزاج، ملنسار اور دلیر شخصیت اپنے ساتھیوں میں ہمیشہ ایک نیا روحِ پھونکتی اور جوش پیدا کرتی تھی۔ ان کی انہی بے مثال قائدانہ صلاحیتوں، عسکری بصیرت اور تنظیمی نظم ؤ ضبط کی پابندی کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں سدو آپریشن بٹالین (سوب) کے اوتاک کی اہم ترین ذمہ داری سونپی گئی، جسے انہوں نے انتہائی فرض شناسی اور احسن طریقے سے نبھایا ہے۔
انکا کہنا تھا کہ شہید خالد جیسے بہادر، جفاکش اور نظریاتی سرمچار تاریخ میں بار بار پیدا نہیں ہوتے۔ جب گوادر میں تاریخی آپریشن الماس کی منصوبہ بندی کی گئی، تو اس کی فیلڈ کمانڈ اور آپریشنل کمانڈ کی ذمہ داری شہید خالد کے کندھوں پر ڈالی گئی۔ انہوں نے اس ذمے داری کو احسن طریقے سے نبھایا ہے۔ انہوں نے اس پورے آپریشن کو نہ صرف عسکری محاذ پر نہایت دلیری اور جرات کے ساتھ قیادت کی، بلکہ وہ اس معرکے کے دوران لمحہ بہ لمحہ مرکزی کمانڈ کو زمینی حقائق، جنگی حالات اور دشمن کی ہر نقل و حرکت سے باقاعدہ طور پر آگاہ کرتے رہے۔ اس جنگ کے درمیان انہوں نے میڈیا کے لیے براہِ راست اور مصدقہ جنگی مواد بھی کامیابی کے ساتھ منتقل کیا، تاکہ دنیا، بالخصوص محکوم بلوچ قوم دیکھ سکے کہ مادرِ وطن کے یہ نڈر اور بہادر سپوت کس قدر عالی عزم اور حوصلے کے ساتھ دشمن کے انتہائی محفوظ تصور کیے جانے والے بیرکوں، کیمپوں اور جاسوسی اڈوں کو تہس نہس کر رہے ہیں۔ ان کے اس اقدام مقصد یہ تھا جنگ کے محاذ پر فتح حاصل کرنا جتنا ضروری ہے، اتنی ہی اہمیت اس جنگ کی حقیقت کو دنیا تک پہنچانے کی بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آپریشن الماس کے دوران شہید خالد کی گوریلا حکمتِ عملی، دشمن کی صفوں میں گھس کر وار کرنے کی صلاحیت اور اپنے ساتھیوں کی ڈھارس بندھانے کا جو انداز تھا، وہ عسکری تاریخ کا ایک روشن باب بن چکا ہے۔ انہوں نے عملی طور پر ثابت کر دیا ہے کہ ایک بہادر اور نظریاتی کمانڈر جب میدانِ جنگ میں اترتا ہے، تو وہ دشمن کے تمام جدید ہتھیاروں، بکتر بند گاڑیوں اور انٹیلی جنس نیٹ ورک کو اپنی عسکری فہم اور فولادی عزم کے سامنے بے معنی ثابت کر دیتا ہے۔ گوادر کے اس معرکے میں دشمن کو جو ناقابلِ تلافی جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا، اس کے پسِ پردہ شہید خالد کی یہی مدبرانہ قیادت اور جند ندر جذبہ کارفرما تھا جو انہوں نے اپنی تربیت کے دوران حاصل کیا تھا۔ وہ خود آخری دم تک محاذ پر ڈٹے رہے، سرمچاروں کی قیادت کرتے رہے اور دشمن کے ہر حملے کو ناکام بناتے رہے۔ ان کی بہادری، جفاکشی، تدبر اور حوصلے پر جتنا بھی لکھا جائے وہ کم ہے کیونکہ الفاظ ان کی عظیم قربانی اور بلند کردار کا احاطہ کرنے سے قاصر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ اپنے اس عظیم، نڈر اور بے باک سرمچار شہید خالد عرف زامر کو عقیدت و احترام کے ساتھ سرخ سلام پیش کرتی ہے اور ان کی بہادری، ان کی فکری پختگی اور آپریشن الماس کے محاذ پر ان کی تاریخی قیادت ہمیشہ بلوچ قومی تاریخ میں درخشاں ستاروں کی طرح چمکتی رہے گی۔
میجر گہرام نے بیان میں کہا کہ شہید بلقیس دیدگ عرف الماس بنت اللہ بخش دیدگ سکنہ دشت کُمبیل، شجاعت، استقامت اور انقلابی قربانی کا ایک درخشاں باب ہے۔ آپ نے اپنی ابتدائی زندگی عام حالات میں گزاری اور ہشتم جماعت تک باقاعدہ تعلیم حاصل کی۔ آپ رشتۂ ازدواج سے منسلک تھیں اور آپ کی ایک پیاری بچی بھی ہے، مگر آپ نے اپنی ذات اور خاندانی دائرے سے بلند ہو کر مادر وطن کی آزادی کے مقصد کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا۔ 2018 میں آپ نے بلوچستان لبریشن فرنٹ کے انقلابی پلیٹ فارم سے باضابطہ طور پر قومی آزادی کی مسلح جدوجہد میں شمولیت اختیار کی۔ تنظیم میں شمولیت کے بعد آپ نے چار سال تک سدو آپریشن بٹالین (سوب) میں ایک رضاکار کی حیثیت سے انتہائی گراں قدر اور جفاکشانہ خدمات سرانجام دیں۔
انہوں نے کہا کہ شہید الماس گزشتہ آٹھ سالوں سے بلوچستان لبریشن فرنٹ کے پلیٹ فارم سے مسلح قومی دفاعی جدوجہد میں مکمل فعال، اور نظریاتی بنیادوں پر وابستہ رہی ہیں۔ اپنی تنظیمی زندگی کے دوران آپ نے دشت، تربت اور گوادر جیسے حساس اور کٹھن علاقوں میں انٹیلی جنس ونگ سے وابستہ ہو کر ایک انتہائی فعال اور نڈر رکن کے طور پر فریضہ انجام دیا۔ آپ نے دشمن کے خلاف اہم ترین انٹیلی جنس معلومات بروقت تنظیم تک پہنچانے کے لیے شبانہ روز خود کو متحرک رکھا۔ عسکری محاذوں اور فوجی آپریشنوں کے دوران دشت کے سخت ترین اور دشوار گزار پہاڑی سلسلوں میں سرمچاروں تک رسد، اسلحہ اور لاجسٹک پہنچانے کی انتہائی کٹھن اور خطرناک ذمہ داری کو آپ نے ہمیشہ جرات اور پامردی کے ساتھ نبھایا ہے۔
انکا کہنا تھا کہ آپ کی اس انقلابی جدوجہد کے راستے میں قابض پاکستانی فوج اور ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں نے رکاوٹیں کھڑی کرنے کی بھرپور کوششیں کی ہیں۔ قابض فوج نے آپ کو بارہا اغوا کرنے، حبسِ بے جا میں رکھنے اور ذہنی و جسمانی طور پر توڑنے کی مذموم کوششیں کیں اور ایک موقع پر ریاستی اہلکاروں نے آپ کو سخت ترین تشدد کا نشانہ بھی بنایا جس کی وجہ سے آپ شدید زخمی ہوئیں۔ مگر ریاستی جبر، طعنہ زنی اور تشدد کا یہ ہتھکنڈا آپ کے پائے استقامت کو متزلزل نہ کر سکا۔ آپ نے ہر قسم کے مصائب کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کیا اور مسلح محاذ پر ہمیشہ چٹان کی طرح ثابت قدم رہ کر آزادی کا پرچم بلند رکھا۔ ریاستی جبر کے تلے ان سنگین حالات میں بھی آپ نے مختلف علاقوں میں روپوش ہو کر تنظیمی ذمہ داریوں کو جس مدبرانہ اور دلیرانہ طریقے سے احسن طور پر نبھایا، وہ آپ کی اعلیٰ عسکری بصیرت اور نظریاتی پختگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ شہید بلقیس دیدگ عرف الماس نے اس فکر کی عملی آبیاری کی کہ قومی آزادی کے کٹھن راستے پر ہر قسم کی مشکلات، مصائب اور قربانیاں قبول ہیں لیکن قومی غلامی اور ریاستی تسلط کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں ہے۔ آپ نے اس نظریے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے خود کو مادرِ وطن پر قربان کرنے کا حتمی فیصلہ کیا۔ شہید الماس نے بی ایل ایف کے مختلف عسکری دستوں اور یونٹس میں اپنی ذمہ داریاں انتہائی جانفشانی سے انجام دیں، اور سدو آپریشن بٹالین (سوب) کی بنیاد رکھنے کے وقت سے ہی آپ اس کی فعال بانی اور بنیادی رکن رہیں۔
انکا مزید کہنا تھا کہ آپ اس تاریخی اور دور رس اثرات کے حامل آپریشن الماس کی سیکنڈ ان کمانڈ تھیں اور آپ نے نہ صرف اس پیچیدہ و مربوط معرکے کی عسکری، دفاعی اور تزویراتی منصوبہ بندی میں کلیدی کردار ادا کیا، بلکہ میدانِ جنگ میں سرمچاروں کی صفِ اول میں خود موجود رہ کر دشمن کے پر کاری ضربات لگائیں، اور قابض پاکستانی فوج کو بھاری جانی و مالی نقصان سے دوچار کیا ہے۔ قومی جنگ آزادی کے مختلف اور کٹھن محاذوں پر کمانڈر الماس کے اس بے مثال، بہادرانہ اور فعال کردار کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ہی بلوچستان لبریشن فرنٹ کی مرکزی قیادت نے اس تاریخی، ہمہ گیر اور فتح مندانہ عسکری معرکے کو ان کے نام منسوب کیا ہے۔ شہید بلقیس دیدگ عرف کمانڈر الماس کی یہ لازوال قربانی، ان کی بے مثال شجاعت اور دشت سے لے کر گوادر کے محاذ تک ان کی یہ عسکری جدوجہد ہمیشہ تاریخ کے صفحات میں زندہ رہے گی، اور آنے والے سرمچاروں کے لیے حریت و استقامت کا استعارہ بنی رہے گی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ شہید شکیل عرف سہراب ولد عزیز سکنہ پروم ریش پیش شجاعت، خاموش طبع اور لازوال عسکری فہم و استقامت کی ایک درخشاں مثال ہے۔ آپ نے 2022 عزمِ مصمم کے ساتھ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے انقلابی پلیٹ فارم سے مسلح قومی دفاعی جدوجہد کا باضابطہ آغاز کیا۔ آپ نے ابتدائی ایام سے ہی گھر بار چھوڑ کر پہاڑی محاذ کو اپنا مسکن بنایا اور پروم و پنجگور کے مختلف دشوار گزار عسکری محاذوں پر متحرک رہتے ہوئے اپنے جنگی ہنر کو تراشا اور نکھارا۔ شہید شکیل ایک انتہائی خاموش طبع، بیدار مغز، باریک بین اور اعلیٰ درجے کا تنظیمی نظم و ضبط رکھنے والے سرمچار تھے۔ آپ نے تنظیم اور محاذ کے سخت ترین ماحول سے بہت کچھ سیکھا اور مختصر عرصے میں ہی خود کو عسکری و نظریاتی اعتبار سے ایک پختہ گوریلہ جنگجو ثابت کیا۔ آپ ہتھیاروں کی گہری سمجھ بوجھ رکھنے کے ساتھ ساتھ ایک ماہر اور چوکنا نشانہ باز بھی تھے، جن کا درست ہدف اور بروقت عسکری فیصلے ہمیشہ ساتھیوں کے لیے تقویت کا باعث بنتے تھے۔
ترجمان نے کہا کہ قومی جنگ آزادی کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کے جذبے سے سرشار ہو کر شہید شکیل نے 2026 میں راہ آزادی میں قربانی کے لیے بطورِ جند ندر اپنا نام سدو آپریشن بٹالین (سوب) میں درج کروا کر باضابطہ طور پر سوب کے کیمپ منتقل ہو گئے۔ وہاں آپ نے سوب کی انتہائی سخت، جامع اور کٹھن عسکری تربیت کو نہایت خوش اسلوبی اور کامیابی کے ساتھ مکمل کیا۔ آپ جدید عسکری تکنیک، گوریلہ وارفیئر کے اصولوں اور فکری استقامت سے سرشار ایک ایسے انقلابی سرمچار بن کر ابھرے جن کے عزم کے سامنے ہر مشکل ہیچ ثابت ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ گوادر میں شروع ہونے والے تاریخی آپریشن الماس کے دوران شہید شکیل عرف سہراب کو جو عسکری ذمہ داری سونپی گئی، انہوں نے اسے اپنی زندگی کے آخری لمحے تک احسن طریقے سے نبھایا۔ انہوں نے کیمپ کے اندر دشمن کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے ایک انتہائی مضبوط دفاعی مورچہ سنبھالا اور اپنی ماہرانہ نشانہ بازی کی بدولت قابض پاکستانی فوج کے تازہ دم دستوں کو آگے بڑھنے سے روکے رکھا۔ محاذِ جنگ پر شہید شکیل نے جس شجاعت کا مظاہرہ کیا، اس کی بدولت ان کے دیگر دوست اور سرمچار دشمن کے شدید حملوں سے محفوظ رہے اور دشمن کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔
میجر گہرام بلوچ کا کہنا تھا کہ بیس گھنٹوں سے زائد کے طویل معرکے کے دوران، جب تمام تر گولہ بارود ختم ہو گیا اور محض چند گولیاں باقی بچیں، تو شہید شکیل نے اپنے نظریاتی اور انقلابی ورثے کو برقرار رکھتے ہوئے آخری گولی اپنے آپ پر چلا کر خود کو مادر وطن پر قربان کر دیا اور شہادت کا بلند رتبہ حاصل کر کے تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے۔ شہید شکیل عرف سہراب کی لازوال شجاعت، باریک بینی اور جند ندری آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنی رہے گی۔
انکا کہنا تھا کہ شہید ناصر علی عرف نودان ولد سھاگ سکنہ رائیلا کلانچ، پسنی، شجاعت، خوش مزاجی، حربی مہارت اور لازوال قربانی کا استعارہ تھے۔ آپ نے مارچ 2024 میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے انقلابی پلیٹ فارم سے قومی آزادی کی تحریک میں مسلح جدوجہد کا باضابطہ آغاز کیا۔ تنظیم میں شمولیت کے بعد شہید ناصر علی نے بلوچستان کے دشوار گزار پہاڑی محاذوں بشمول ساہیجی، مزنبند، اور کلانچ میں بہترین گوریلہ جنگی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے انتہائی گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ آپ ایک انتہائی ہنس مکھ، خوش مزاج اور دلیر سرمچار تھے، جو اپنے ساتھیوں کے لیے ہمیشہ حوصلہ بنتے اور ہر قسم کے محنت طلب کاموں میں ہمیشہ صفِ اول میں پیش پیش رہتے تھے۔ آپ کی مثبت سوچ اور خوش مزاجی ہمیشہ محاذ پر موجود ساتھیوں میں ایک نئی توانائی پھونکتی رہی۔ تنظیم کے ساتھ اپنی نظریاتی وابستگی کو مزید وسعت دیتے ہوئے، 2026 کے آغاز میں آپ نے بطورِ جند ندر اپنا نام سدو آپریشن بٹالین (سوب) میں درج کروایا اور باضابطہ طور پر سوب کے کیمپ میں منتقل ہو گئے۔ کیمپ کی سخت ترین اور جان گداز تربیت کے دوران آپ نے بے پناہ محنت، لگن اور استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ٹریننگ کو کامیابی کے ساتھ مکمل کیا۔تربیت کے اس طویل اور کٹھن سفر کے دوران آپ نے کبھی بھی تھکاوٹ یا کمزوری کا احساس تک نہیں ہونے دیا، بلکہ ہمیشہ اپنے ساتھیوں کا حوصلہ بڑھایا ہے۔
ترجمان نے بیان میں کہا کہ شہید ناصر علی اعلیٰ درجے کے تیکنیکی مہارت رکھتے تھے۔ آپ نے اپنی اس صلاحیت کا لوہا منواتے ہوئے نہ صرف تربیت کے دوران جملہ تکنیکی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، بلکہ تنظیم کے میڈیا سیل کے تکنیکی امور میں بھی اپنی گراں قدر خدمات پیش کیں اور ہر محاذ پر ایک مستعد اور کارآمد سرمچار کی حیثیت سے خود کو ثابت کیا۔ آپ کی یہ خاصیت تھی کہ آپ ہر وقت، ہر لمحہ تنظیم کے ہر کام کے لیے حاضر رہتے تھے۔ تنظیم کا کوئی بھی ایسا اہم مرحلہ یا آپریشن نہیں تھا جس میں آپ کی عملی شمولیت اور خدمات شامل نہ ہوں۔ آپ نے نہ صرف مادرِ وطن کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا، بلکہ اپنی پوری تنظیمی زندگی قربانی، جفاکشی اور بے لوث محنت کے جذبے سے سرشار رہ کر ایک ایسے عامل اور نظریاتی سرمچار کی عملی مثال قائم کی جو ہمیشہ عمل پر یقین رکھتے تھے۔ گوادر کے اس تاریخی معرکے کے دوران آپ نے جس بہادری اور فہم کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو نبھایا، وہ ہمیشہ کے لیے تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہید مجید زیب عرف آفتاب ولد ڈناخان سکنہ ڈھاڈر، رند علی شجاعت، ادب دوستی، ماہرانہ سنیپرنگ اور لازوال قربانی کا روشن ستارہ تھے۔ آپ نے 2025 میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے انقلابی اور فکری پلیٹ فارم سے مسلح قومی دفاعی جدوجہد میں باضابطہ شمولیت اختیار کی اور ناگاہو پہاڑی محاذ پر منتقل ہو گئے۔ تنظیم میں شمولیت کے بعد آپ نے انتہائی مختصر عرصے میں گوریلہ جنگ کے تمام تر پیچیدہ داؤ پیچ سیکھ کر خود کو ایک ماہر اور دلیر جنگجو ثابت کیا اور ناگاہو، ڈھاڈر اور مستونگ کے محاذ پر خدمات سرانجام دئے۔ آپ کی عسکری مہارت اور بے باک بہادری اپنی مثال آپ تھی، اور آپ ہر کٹھن عسکری محاذ اور پیش قدمی کے دوران ہمیشہ صفِ اول میں موجود رہتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ اپنی قوم، مادری زبان، اور بلوچ ادب سے محبت و لگاؤ شہید مجید زیب کی شخصیت کا ایک ممتاز اور خوبصورت پہلو تھا۔ آپ ادب، شعر و شاعری اور فکری گفتگو کا بہترین ذوق رکھتے تھے۔ اپنی زمین، زبان اور قومی تشخص سے اسی والہانہ محبت اور ادبی و سیاسی شعور نے آپ کو اس حقیقت سے روشناس کروایا کہ قومی بقا اور آزادی کا راستہ بے لوث قربانی کا تقاضا کرتا ہے اور اسی فکری شعور کی بنیاد پر آپ نے خود کو وطن کی آزادی کے لیے ندر کرنے کا پختہ فیصلہ کیا۔
انکا کہنا تھا کہ قومی جدوجہد کو اس کی منزلِ مقصود تک پہنچانے کے جذبے سے سرشار ہو کر، فروری 2026 میں شہید مجید زیب نے بطورِ جند ندر اپنا نام سدو آپریشن بٹالین (سوب) میں درج کروایا اور باضابطہ طور پر سوب کے کیمپ میں منتقل ہو گئے۔ کیمپ میں منتقل ہونے کے بعد آپ نے انتہائی سخت اور جان گداز عسکری تربیت کو اپنے جفاکش، صابر اور محنتی مزاج کے بدولت نہایت آسانی اور کامیابی کے ساتھ مکمل کیا۔ نشانہ بازی اور اسنائپرنگ کے شعبے میں آپ کی غیر معمولی مہارت اور تکنیکی صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ کو تھرمل لیزر کی اہم ترین عسکری ذمہ داری سونپی گئی۔ گوادر میں سرانجام پانے والے تاریخی آپریشن الماس کے دوران شہید مجید زیب عرف آفتاب نے اپنی پوزیشن پر قائم رہتے ہوئے پوری رات تھرمل اسکوپ کی مدد سے تاریکی میں پیش قدمی کرنے کی دشمن کے ہر کوشش اور نقل و حرکت کو ناکام بنایا۔ آپ کی درست نشانہ بازی نے کیمپ کے اندر قابض پاکستانی فوج کے کئی اہلکاروں کو ہلاک کیا۔ آپ آخری دم تک اپنے مورچے پر ڈٹے رہے اور شجاعت کے ساتھ لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر کے تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہید حمید اللہ عرف بادل ولد عبدالمنان سکنہ بڑیچ ٹاؤن کوئٹہ شہری گوریلہ جنگ سے فدائی محاذ تک اخلاص، بے لوث ایثار اور قربانی کا درخشاں باب تھے۔ شہید حمید اللہ عرف بادل کا تعلق کوئٹہ کے علاقے بڑیچ ٹاؤن سے تھا، ان کے والد پشتون اور والدہ بلوچ ہیں۔ آپ نے 2024 کے ابتداء میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے انقلابی اور نظریاتی پلیٹ فارم سے مسلح قومی دفاعی جدوجہد کا باضابطہ آغاز کیا۔ تنظیم میں شمولیت کے بعد ابتدائی مرحلے میں آپ نے کوئٹہ جیسے سخت اور حساس شہری محاذ پر بطورِ شہری گوریلہ انتہائی دلیری، مہارت اور رازداری کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دیے، جہاں آپ نے دشمن کے انٹیلی جنس نیٹ ورک کو چکمہ دیتے ہوئے قابض فوج کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے، اہم انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے اور دیگر پیچیدہ عسکری کاموں میں بھرپور اور گراں قدر حصہ لیا۔ شہید حمید اللہ ایک انتہائی خاموش طبع، سنجیدہ، مخلص اور باعمل انسان تھے، اپنا تمام تر وقت تنظیمی ذمہ داریوں اور تفویض کردہ امور کو احسن طریقے سے پورا کرنے میں صرف کرتے تھے۔ شہری محاذ پر سرخرو ہونے کے بعد آپ نے ناگاہو کے پہاڑوں کو اپنا مسکن بنایا اور دلیری کے ساتھ جنگوں میں قابض دشمن سے نبردآزما رہے ہیں۔
ترجمان میجر گہرام نے کہا کہ مادر وطن کی آزادی اور قوم کی بقا کے لیے قربانی پیش کے جذبے سے سرشار ہو کر، جنوری 2025 میں شہید حمید اللہ نے رضاکارانہ طور پر بطورِ جند ندر اپنا نام سدو آپریشن بٹالین (سوب) میں درج کروایا۔ آپ نے سوب کے کیمپ کی انتہائی سخت عسکری تربیت کے تمام مراحل کو نہایت خوش اسلوبی، صبر اور استقامت کے ساتھ مکمل کیا۔ آپ اپنا بیشتر وقت عسکری ہنر کو مزید نکھارنے، جدید جنگی تکنیکیں سیکھنے اور اپنے آنے والے مشن کی تیاریوں میں گزارتے تھے۔ شہید حمید اللہ تنظیم کو اپنا سب سے بڑا اثاثہ اور قومی اثاثہ مانتے تھے اور یہی وجہ تھی کہ وہ تنظیمی کام کے ہر ایک مرحلے اور عمل کو اپنی پوری علمی، جسمانی اور فکری توانائی دینے کی بھرپور کوشش کرتے تھے۔
ترجمان نے کہا کہ گوادر میں سرانجام پانے والے تاریخ ساز آپریشن الماس کے دوران شہید حمید اللہ عرف بادل نے جس پامردی، شجاعت اور جند ندر جذبے کے ساتھ اپنے عسکری فرائض سرانجام دیے، وہ مستقبل کے جنگوں میں ہمارے سرمچاروں کے رہنما اصول ہوں گے۔ آپ نے دشمن کے روبرو معرکے میں پختہ عزم کا مظاہرہ کیا اور آخری دم تک لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر کے تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ شہید برات عرف سفر جان ولد رحیم بخش سکنہ گیشکور کولواہ، شہری گوریلہ جنگ سے جندندری محاذ تک شجاعت اور لازوال ایثار اور قربانی کی روشن مثال تھے۔ شہید برات عرف سفر جان کا تعلق کولواہ کے علاقے گیشکور سے تھا۔ آپ نے اکتوبر 2023 میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے انقلابی اور نظریاتی پلیٹ فارم سے جدوجہدِ آزادی میں باضابطہ شمولیت اختیار کی۔ تنظیم میں شمولیت کے بعد ابتدائی مرحلے میں آپ نے شہری محاذ پر بطور شہری گوریلہ انتہائی متحرک رہتے ہوئے اپنے فرائض سرانجام دیے اور بعد ازاں آپ پہاڑی محاذ پر منتقل ہو گئے اور اپنے علم، بے باک بہادری اور بے پناہ جفاکشی کے بل بوتے پر خود کو ایک پختہ اور تجربے کار گوریلہ جنگجو ثابت کیا۔ قومی آزادی کی اس کٹھن راہ میں قربان ہونے کے عزم کے ساتھ، جنوری 2026 میں شہید برات نے رضاکارانہ طور پر اپنا نام سدو آپریشن بٹالین (سوب) میں درج کروایا اور باضابطہ طور پر سوب کے کیمپ میں منتقل ہو گئے۔ آپ ایک انتہائی محنتی، جفاکش اور پختہ نظریاتی شخصیت کے مالک تھے، جن کی استقامت اور انقلابی جذبے نے ہمیشہ کیمپ کے دیگر سرمچاروں کے حوصلے بلند رکھنے اور ان میں نئی توانائی کا سبب بنتی رہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ تاریخ ساز آپریشن الماس کی منصوبہ بندی کے دوران شہید برات عرف سفر جان اس خاص عسکری تشکیل کا بنیادی حصہ تھے اور اس حساس مشن کی کامیابی کے لیے آپ کو ایک انتہائی اہم اور تزویراتی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ آپریشن کی مکمل تکمیل سے قبل ہی جب قابض پاکستانی فوج کے ساتھ روبرو جھڑپ کا آغاز ہوا، تو شہید برات نے بہادری اور بے خوفی کے ساتھ دشمن کی پیش قدمی کو روکے رکھا۔ آپ کی اس بے مثال جرات، بروقت عسکری فیصلے اور دلیری کی بدولت آپریشن الماس کے دیگر سرمچار دوست دشمن کے حملوں سے محفوظ رہے۔ شہید برات عرف سفر جان دشمن کے سامنے چٹان کی طرح ڈٹے رہے اور شجاعت کے ساتھ لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر کے تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے۔ آپ کی یہ عظمت اور قربانی اس بات کا ثبوت ہے کہ بی ایل ایف کا ہر سرمچار اپنے ساتھیوں کی حفاظتی ڈھال بن کر وطن کے دفاع کے لیے خود کو نذر کرنے کا جذبہ رکھتا ہے۔
انکا کہنا تھا کہ شہید مجاہد مہر عرف سگار زامرانی ولد نصیر احمد سکنہ اسپیتیں گر زامرانی جند ندری، شجاعت اور آپریشن الماس کا تاریخ ساز باب ہیں۔ آپ نے 25 اگست 2023 کو بلوچستان لبریشن فرنٹ کے انقلابی اور نظریاتی پلیٹ فارم سے مسلح قومی دفاعی جدوجہد کا باضابطہ آغاز کیا۔ تنظیم میں شمولیت کے بعد آپ نے زامران اور بلیدہ کے دشوار گزار عسکری محاذوں پر اپنے اعلیٰ گوریلہ ہنر اور عسکری بصیرت کے ساتھ متعدد معرکوں میں فعال حصہ لیا۔ شہید مجاہد مہر اپنے نام کی طرح ایک انتہائی مہربان، شفیق اور مخلص شخصیت کے مالک تھے۔ آپ کی سیاسی شعور، فکری پختگی اور تجربات نے آپ کو اپنے ساتھیوں میں ممتاز اور منفرد رکھا۔ آپ نے ہمیشہ اس فکر کی آبیاری کی کہ قومی آزادی کی منزل بے لوث ایثار اور عظیم قربانی کا تقاضا کرتی ہے۔
انکا کہنا تھا کہ مادری وطن پر خود کو ندر کرنے کے جذبے سے سرشار ہو کر، شہید مجاہد مہر نے 20 دسمبر 2025 کو رضاکارانہ طور پر بطورِ جند ندر اپنا نام سدو آپریشن بٹالین (سوب) میں درج کروایا اور باضابطہ طور پر سوب کے کیمپ میں منتقل ہو گئے۔ کیمپ کی سخت، جان گداز اور کٹھن عسکری تربیت کو آپ نے بے مثال استقامت کے ساتھ مکمل کیا۔ کیمپ کے ماحول میں آپ ہر وقت ہنستے مسکراتے رہتے اور دیگر ساتھیوں کے ساتھ ہر کام میں شانہ بشانہ کھڑے رہتے۔ کسی بھی سخت اور مشکل کام میں، خواہ وہ اپنا ہو یا کسی دوسرے ساتھی کا، آپ ہمیشہ پیش پیش رہتے اور اپنی مہربان شخصیت سے ماحول کو پرعزم بنائے رکھتے۔
انہوں نے کہا کہ تاریخ ساز آپریشن الماس کی منصوبہ بندی کے دوران شہید مجاہد مہر نے اس معرکے کی سب سے تزویراتی ذمہ داری اپنے سر لی۔ ایک ماہر ڈرائیور ہونے کے ساتھ ساتھ آپ دشمن کی ہر نقل و حرکت اور ماحول کو فوراً بھانپنے کی غیر معمولی صلاحیت کے مالک تھے۔ آپ نے بارود سے لدی ہوئی گاڑی کو گوادر میں واقع قابض پاکستانی فوج کے مرکزی کیمپ کے مین گیٹ سے ٹکرا کر دشمن کے دفاعی حصار کے اڑا دینے اور اپنے ساتھیوں کے لیے پیش قدمی کا راستہ کلیئر کرنے کی ذمہ داری بخوبی قبول کی۔ 22 اکتوبر 2026 کو آپ نے اس جند ندری حملے کو کامیابی کے ساتھ سرانجام دے کر دشمن کے اعصابی نظام کو مفلوج کر دیا، جس کی بدولت سوب کے دیگر سرمچار کیمپ کے اندر داخل ہو کر دشمن پر کاری ضربیں لگانے میں کامیاب ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ جند ندر مجاہد مہر کی اس عظیم، لاثانی اور تاریخی قربانی کی بدولت ہی آپریشن الماس اپنے مقررہ اہداف کو حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ بلوچستان لبریشن فرنٹ اپنے اس جری، مہربان اور فتح کی بنیاد رکھنے والے سرمچار شہید مجاہد مہر عرف سگار زامرانی کو عقیدت و احترام کے ساتھ سرخ سلام پیش کرتی ہے اور ان کے دکھائے ہوئے اس انقلابی راستے پر گامزن رہتے ہوئے آزاد بلوچستان کے حصول تک اپنی مسلح جدوجہد کو جاری رکھنے کا عہد دہراتی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ گوادر کے ساحلی پٹی پر سرانجام پانے والے اس فتح مندانہ عسکری و سیاسی معرکہ آپریشن الماس کی تمام تر کامیابیوں کو شہداء کے مقدس خون، جند ندر سرمچاروں کی لازوال قربانیوں، اور بلوچ قوم کی بے لوث و نڈر حمایت کے نام کرتی ہے۔ یہ معرکہ ایک واضح اعلان ہے کہ بلوچ قوم اپنی سرزمین، ساحل و وسائل، اور قومی تشخص کے دفاع کے لیے کسی بھی نوعیت کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کرے گی۔ قابض پاکستانی ریاست، اس کے فوجی جرنیلوں، انٹیلی جنس ایجنسیوں، اور استحصالی شراکت داروں کے لیے ہمارا حتمی پیغام ہے کہ وہ اس خوش فہمی سے نکل جائیں کہ وہ خوف، جبری گمشدگیوں، یا نام نہاد معاشی منصوبوں کے ذریعے بلوچ قوم کو دھوکا دے کر غلام رکھ سکتے ہیں۔
ترجمان نے واضح کیا کہ جب تک قابض پاکستانی فوج کا آخری سپاہی ہماری مقدس سرزمین سے نکل نہیں جاتا اور ایک آزاد، جمہوری، و خود مختار بلوچستان کا سورج طلوع نہیں ہوتا، بی ایل ایف کے سرمچاروں کے یہ صاعقہ فگن، بے رحم، اور منظم حملے مزید شدت، وسعت، اور تندہی کے ساتھ جاری رہیں گے۔