
دامنِ شاشان میں بسا وادیٔ گریشہ کوئی بہت بڑا علاقہ نہیں لیکن اتنا چھوٹا بھی نہیں۔ چھوٹے چھوٹے گاؤں پر مشتمل یہ وادی اپنے باسیوں کے لیے ایک الگ دنیا ہے۔
جب میں نے علاقہ چھوڑا تو وہاں مکان کچے تھے۔ ہوا خوب چلتی تھی، گرمی کا نام و نشان نہ تھا۔ اب سنا ہے کہ پکے گھر بن رہے ہیں اور کچے مکان ڈھ رہے ہیں۔ معلوم نہیں یہ ترقی ہے یا تنزلی، کیونکہ پکے مکان گرمیوں میں زیادہ گرم اور سردیوں میں بہت سرد ہوتے ہیں۔
گریشہ میں ایک گاؤں ہے، جس کا نام گواراست ہے۔ مدتوں اس شش و پنج میں رہا کہ آخر گواراست کا مطلب کیا ہے۔ ایک دن اپنے ابلی جان سے پوچھا تو انہوں نے کہا
’’کبھی گھر سے نکلو تو جانو کہ گواراست کیا ہوتا ہے۔‘‘
طنز تو خوب چبھا لیکن میں گھر سے نکل نہ سکا۔ پھر بھی اصرار کیا
’’ابا، معنی تو بتا دیجیے!‘‘
ابلی نے بتایا کہ گواراست دو لفظوں سے مل کر بنا ہے: گوات اور راست۔ یعنی وہ جگہ جہاں ہوا سیدھی چلنے لگتی ہے۔ یہاں قریب کوئی پہاڑ نہیں۔ شمال مغرب کے پہاڑ بھی گواراست سے دور ہیں، اس لیے جب گوریچ ان پہاڑوں کو پار کرتی ہے تو یہاں سیدھی چلنے لگتی ہے۔
ویسے گوادر کے معنی بھی ہوا کا دروازہ ہیں، یعنی وہ مقام جہاں سے ہوا داخل ہوتی ہے۔ یوں کہہ سکتے ہیں کہ گوادر بلوچستان کے لیے سانس لینے کا دروازہ ہے۔
گوادر ہو یا گواراست، ہوا کو سیدھا ہی چلنا چاہیے لیکن راستے میں رکاوٹیں بھی تو ہوتی ہیں۔ کچھ قدرتی اور کچھ مصنوعی، انسانوں کی کھڑی کی ہوئی۔ جہاں جہاں انسانوں نے ہوا کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کیں، وہاں ہوا کبھی کبھی بگولہ بن جاتی ہے۔
سنا ہے کل رات سے گوادر میں بگولے چل رہے ہیں۔
