تاریخی آپریشن الماس اپنے تمام طے شدہ اہداف کامیابی سے حاصل کرنے کے بعد اختتام پذیر۔ بی ایل ایف

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی ایل ایف کا 22 اکتوبر کو گوادر اور گردونواح میں شروع ہونے والا تاریخی آپریشن الماس طویل اور شدید جھڑپوں کے بعد اپنے تمام طے شدہ اسٹریٹجک، عسکری اور معاشی اہداف کو کامیابی کے ساتھ حاصل کرنے کے بعد باضابطہ طور پر اختتام پذیر ہو گیا ہے۔ اس وسیع تر آپریشن کے دوران قابض پاکستانی فوج اور انٹیلی جنس نیٹ ورک کو ناقابلِ تلافی جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے جند ندر سرمچاروں نے فرنٹئر ورکس آرگنائزیشن کے مرکزی کیمپ کو نشانہ بنا کر بلخصوص گوادر اور بالعموم مکران میں استعماری منصوبوں کی تکمیل کے مرکز کو تباہ کردیا ہے اور دنیا پر عملی طور پر واضع کر دیا ہے کہ بلوچ قوم کی مرضی و منشا کے بغیر بلوچستان میں استعماری منصوبے کبھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ ایف ڈبلیو او کے مرکزی کیمپ میں انٹر سروس انٹلیجنس ( آئی ایس آئی ) اور ملٹری انٹلیجنس کے دفاتر و کیمپ ہمارے جند ندر سرمچاروں کا نشانہ بنے اور ان کے اعلیٰ افسران سمیت کئی اہلکار ان حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔ آپریشن الماس کے دوران قابض فوج کے تمام جوابی حملوں، بکتر بند گاڑیوں کی پیش قدمی کی کوششوں اور کمک کے قافلوں کو جند ندر سرمچاروں نے نہ صرف ناکام بنایا بلکہ انہیں پسپائی پر مجبور کر کے کیمپ پر اپنا مکمل غلبہ اور قبضہ بیس گھنٹوں تک برقرار رکھا۔

بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ سدو آپریشنل بٹالین کے آپریشن الماس کے دوران جند ندر سرمچاروں کی بہادرانہ کارروائیوں کے نتیجے میں ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے افسران، اسپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) کے اہلکاروں اور ریگولر فوج کے درجنوں اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ دشمن کے مرکزی کیمپ، چوکیوں، داخلی بیرکس اور انتظامی دفاتر کو دھماکوں اور حملوں کے ذریعے مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے جبکہ قابض فوج کی متعدد بکتر بند گاڑیاں اور جاسوس ڈرون و کواڈ کاپٹرز بھی فائرنگ اور حملوں میں تباہ کر دیے گئے۔

انکا کہنا تھا کہ آپریشن الماس کے دوران قابض دشمن کو بارہا ہزیمت سے دوچار کرنے کے بعد سدو آپریشنل بٹالین کے جند ندر سرمچاروں نے آخری گولی کے فلسفے پر عمل کرتے ہوئے خود کو آزادی کے راہ پر قربان کردیا اور بلوچ قومی تاریخ میں بہادری کے ایک نئے باب کا اضافہ کرگئے۔اس تاریخی معرکے میں جند ندر سرمچار خالد عرف زامر، بلکیس دیدگ عرف الماس، حمید اللہ عرف بادل، شکیل عرف سہراب، مجیب زیب عرف آفتاب، ناصر علی عرف نودان، مجاہد مہر عرف سگار زامرانی نے جامِ شہادت نوش کر کے آپریشن کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ اس کامیاب آپریشن کے دوران دشمن کو پہنچنے والے جانی و مالی نقصانات کی حتمی، جامع اور تفصیلی اعداد و شمار بہت جلد باضابطہ طور پر ذرائع ابلاغ کو جاری کرے گی۔

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

مدیر

نیوز ایڈیٹر زرمبش اردو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

کیچ: پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ نوجوان کی لاش برآمد

جمعہ اکتوبر 23 , 2026
بلوچستان کے ضلع کیچ کے تحصیل تمپ سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ کئے گئے نوجوان کی لاش برآمد ہوئی ہے۔ نوجوان کی شناخت عدیل ولد عبدالقیوم سکنہ کوھاڑ کے نام سے ہوئی ہے۔ مقامی زرائع کے مطابق عدیل بلوچ کی لاش سرنکن سے برآمد ہوئی ہے جسے تین […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ