جنیوا: بی این ایم کی عالمی مہم کا آغاز، اقوامِ متحدہ میں جبری گمشدگیوں اور اجتماعی سزا کا معاملہ اٹھا دیا گیا

جنیوا میں بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) نے اپنی عالمی مہم کے تسلسل میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس میں باقاعدہ سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ اجلاس 28 مارچ 2026 تک جاری رہے گا، جس کے دوران بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی صورتحال کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جائے گا۔

بی این ایم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ سرگرمیاں ایک ماہ پر مشتمل عالمی مہم کا حصہ ہیں، جس کا مقصد جبری گمشدگیوں، اجتماعی سزا اور دیگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو عالمی فورمز پر نمایاں کرنا ہے۔

اجلاس کے دوران بی این ایم کے نمائندے سلیم الٰہی بلوچ نے انسانی حقوق کونسل سے خطاب کرتے ہوئے اپنی ذاتی اور خاندانی داستان پیش کی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے بڑے بھائی زاہد بلوچ، جو بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آزاد) کے سابق چیئرمین تھے، کو 18 مارچ 2014 کو مبینہ طور پر پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کیا، اور بارہ سال گزرنے کے باوجود نہ انہیں عدالت میں پیش کیا گیا ہے اور نہ ہی خاندان کو ان کی حالت سے آگاہ کیا گیا ہے۔

سلیم الٰہی بلوچ نے مزید کہا کہ ان کے خاندان کو اجتماعی سزا کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ان کے مطابق 15 مارچ 2025 کو ان کے ایک اور بھائی شاہ جہاں کو مبینہ طور پر ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے مسلح گروہوں نے قتل کر دیا، جسے انہوں نے سیاسی سرگرمیوں کا ردعمل قرار دیا۔

انہوں نے اپنے خطاب میں یہ بھی الزام عائد کیا کہ بلوچستان میں سیاسی کارکنوں اور ان کے خاندانوں کو دبانے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں اثاثوں کی ضبطی، گھروں کی مسماری اور سفری پابندیاں شامل ہیں۔ سلیم بلوچ نے کہا کہ جبری گمشدگیوں کے متاثرین کے اہل خانہ کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ وہ خاموش رہیں۔

خطاب کے دوران انہوں نے انسانی حقوق کی کارکن مہرنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دیگر اراکین کی گرفتاری پر بھی تشویش کا اظہار کیا، اور کہا کہ انہیں مبینہ طور پر جھوٹے مقدمات میں حراست میں رکھا گیا ہے۔

آخر میں سلیم الٰہی بلوچ نے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور پاکستان پر دباؤ ڈالے کہ وہ جبری گمشدگیوں اور دیگر اقدامات کو فوری طور پر بند کرے۔

مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ