کوئٹہ: جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج 6107ویں روز میں داخل، لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ

کوئٹہ میں جبری گمشدگیوں کے خلاف جاری احتجاجی دھرنا 6107ویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔ یہ احتجاجی کیمپ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام قائم ہے۔

اس موقع پر مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے کیمپ کا دورہ کیا اور لاپتہ افراد کے اہل خانہ سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ شرکاء نے جبری گمشدگیوں کے خاتمے اور لاپتہ افراد کی فوری بازیابی کا مطالبہ بھی کیا۔

وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے اپنے بیان میں کہا کہ تنظیم نے سیف اللہ اور دانیال ناصر کے کیسز کمیشن آف انکوائری آن انفورسڈ ڈس اپیئرنسز اور صوبائی حکومت کو فراہم کر دیے ہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ دونوں نوجوانوں کی جلد بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر لاپتہ افراد پر کوئی الزام ہے تو انہیں منظرِ عام پر لا کر عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ ان کے اہل خانہ کو ذہنی اذیت سے نجات مل سکے۔

واضح رہے کہ سیف اللہ ولد عطاءاللہ کو مبینہ طور پر 12 مارچ کی رات کوئٹہ کے علاقے خلیفہ چوک، منو جان روڈ سے سی ٹی ڈی اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کر دیا، جبکہ دانیال ناصر ولد عبدالناصر کو 16 فروری کو کراچی میں NCCI ہسپتال کے قریب سے مبینہ طور پر سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں جبری طور پر لاپتہ کیے جانے کا الزام ہے۔

مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

جبری گمشدگیوں اور میڈیا ٹرائل کے ذریعے بلوچ خواتین کو خاموش کرانے کی منظم کوششیں بے نقاب ہو چکی ہیں، ڈاکٹر صبیحہ بلوچ

جمعرات مارچ 19 , 2026
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مرکزی رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ جن مظالم کے خلاف وہ مسلسل آواز بلند کرتی رہی ہیں، آج انہی حقائق کا اعتراف متعلقہ حلقوں کی جانب سے خود میڈیا پر کیا جا […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ