
بلوچستان کے ضلع سبی اور سندھ کے شہر کراچی میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران چار افراد کے مبینہ طور پر لاپتہ کیے جانے کے واقعات سامنے آئے ہیں، جس پر اہلِ خانہ میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق بلوچستان کے ضلع سبی کے مختلف علاقوں—لوڑی، گژک اور گلو—میں فورسز کی جانب سے آپریشن کیا گیا، جس دوران گھروں پر چھاپے مارے گئے۔ کارروائی کے دوران دو افراد، محمد مری ولد جوان سال اور لہرو مری ولد مٹو، کو حراست میں لے لیا گیا۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ دونوں کو فورسز اپنے ساتھ لے گئیں، تاہم بعد ازاں ان کی حراست یا موجودہ مقام کے حوالے سے کوئی باضابطہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب کراچی میں بھی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے دو افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔ تفصیلات کے مطابق عاصم ولد اصغر، جو پیشے کے لحاظ سے تاجر اور جیونی (پنوان) کے رہائشی ہیں، کو 16 مارچ کی شب کراچی کے علاقے شاہ علی شرافی گوٹھ سے مبینہ طور پر رینجرز اہلکاروں نے حراست میں لیا، جس کے بعد ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔ اہلِ خانہ نے ان کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔
اسی طرح شبیر بلوچ ولد حاجی قادر بخش، جو زہری خضدار کے رہائشی ہیں، کو گزشتہ سال 13 نومبر کو کراچی کے ایک نرسنگ ہاسٹل سے حراست میں لینے کے بعد سے لاپتہ بتایا جا رہا ہے۔
چاروں افراد کے اہلِ خانہ نے حکام سے اپیل کی ہے کہ ان کے پیاروں کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے اور ان کی گمشدگی کے حوالے سے فوری اور شفاف معلومات فراہم کی جائیں۔
