
بلوچستان کے مختلف اضلاع میں گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران پاکستانی فورسز کو نشانہ بنانے کے متعدد واقعات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ علاقائی ذرائع کے مطابق یہ حملے خاران، ڈغاری اور پنجگور کے علاقوں میں پیش آئے ہیں، جن میں جانی و مالی نقصانات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ضلع خاران کے علاقے گرُک کے قریب مسلح افراد نے پاکستانی فوج کے گاڑیوں کے ایک قافلے کو نشانہ بنایا۔ مقامی اطلاعات کے مطابق حملے میں فوج کی کم از کم چھ گاڑیاں زد میں آئیں جبکہ غیر مصدقہ اطلاعات میں درجنوں اہلکاروں کے ہلاک اور زخمی ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ واقعے کے بعد علاقے میں فورسز کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے اور فضائی نگرانی کے لیے ڈرون طیاروں کی پروازیں جاری ہیں۔ تاہم حکام کی جانب سے تاحال واقعے کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ادھر کوئٹہ کے قریب ڈغاری کے علاقے پنگو میں بھی پاکستانی فورسز کی ایک گاڑی دھماکے کی زد میں آنے کی اطلاع ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں جانی نقصان ہوا ہے، تاہم ہلاکتوں اور زخمیوں کی حتمی تعداد فوری طور پر واضح نہیں ہو سکی۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے قبل اسی مقام پر محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں کو بھی گھات لگا کر نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں دو اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے تھے۔
دریں اثنا ضلع پنجگور کے علاقے پروم میں بھی گزشتہ شب مسلح افراد نے پاکستانی فوج کے ایک قافلے کو گھات لگا کر نشانہ بنایا۔ ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے ممکنہ طور پر جدید آلات جیسے تھرمل اسکوپس اور نائٹ وژن کا استعمال کیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے میں فوج کی ایک گاڑی براہ راست نشانہ بنی جبکہ مزید دو گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
علاقائی ذرائع کے مطابق خاران کے علاقے گرُک میں پاکستانی فوج کے لیے راشن لے جانے والی ایک ٹرک کو بھی مسلح افراد نے روک کر راشن سمیت ضبط کر لیا۔
اسی دوران پنجگور کے علاقے پروم میں ایک اور حملے کی اطلاع سامنے آئی ہے جہاں عینی شاہدین کے مطابق ایک اہلکار ہلاک ہوا جس کی لاش بعد ازاں قریبی فوجی کیمپ منتقل کر دی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ شب ہونے والے حملے کے بعد جب ایک کمانڈنٹ جائے وقوعہ کے معائنے کے لیے پہنچے تو وہاں موجود ایک اہلکار کو مبینہ طور پر اسنائپر حملے کا نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب مقامی ذرائع کے مطابق خاران اور ڈغاری کے علاقوں میں ممکنہ آپریشن کے خدشے کے پیش نظر ڈرون اور ہیلی کاپٹروں کی پروازیں بھی دیکھی گئی ہیں۔ حکام کی جانب سے ان واقعات سے متعلق باضابطہ موقف ابھی تک جاری نہیں کیا گیا۔
