
بلوچ وومن فورم کی مرکزی آرگنائزر ڈاکٹر شلی بلوچ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان کے ضلع پنجگور سے انتہائی تشویشناک اطلاعات مسلسل سامنے آ رہی ہیں۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران یہاں سے 22 سے زائد نوجوانوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان میں سے کئی افراد اس سے قبل جبری گمشدگی کا شکار ہوئے تھے؛ انہیں حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کر دیا گیا تھا اور بعد ازاں ان کی لاشیں انتہائی افسوسناک حالات میں برآمد ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کئی برسوں سے خاندان اپنے پیاروں کی جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور انصاف کی مسلسل عدم فراہمی کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔ بے شمار مائیں، باپ اور بہن بھائی آج بھی اپنے ان عزیزوں کی تلاش میں ہیں جو بغیر کسی قانونی عمل اور جوابدہی کے لاپتہ کر دیے گئے۔
ڈاکٹر شلی بلوچ کے مطابق بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصول واضح طور پر یہ کہتے ہیں کہ کسی بھی فرد کو قانونی تقاضوں کے بغیر حراست میں نہیں رکھا جا سکتا، اور ہر شخص کو ایک آزاد اور غیر جانبدار عدالت میں شفاف اور منصفانہ ٹرائل کا حق حاصل ہے۔ جبری گمشدگیاں اور ماورائے عدالت قتل ان بنیادی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہیں اور یہ قانون کی حکمرانی کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کی موجودہ صورتحال فوری توجہ کی متقاضی ہے۔ ان واقعات کی آزاد اور غیر جانبدار اداروں کے ذریعے فوری اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف مل سکے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
