
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے 8 مارچ کو تمپ کے نواحی علاقے اپسی کہن میں قابض پاکستانی فوج کے خلاف ایک مربوط اور منظم آپریشن سرانجام دیا۔ آپریشن کا آغاز اس وقت ہوا جب سرمچاروں کے مختلف دستوں نے اپسی کہن اور شیپچار کے سنگم پر واقع دشمن کے کلیدی چیک پوسٹ “پاپا ون” کے دو چوکیوں مختلف اطراف سے محاصرہ کر لیا۔ بی-10 82 ایم ایم، اسنائپرز، راکٹوں، ایل ایم جی اور گرنیڈ لانچرز سے کیے گئے اس شدید حملے میں وہاں تعینات 6 فوجی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے، جبکہ پوسٹ کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔ دشمن کے خلاف یہ حملہ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہا۔ ترجمان نے کہا کہ کارروائی کے دوسرے مرحلے میں سرمچاروں نے حملوں کا دائرہ کار پھیلاتے ہوئے شیپچار کے درمیان قائم “پاپا ٹو” کے مزید تین فوجی چیک پوسٹوں پر بیک وقت حملہ کر دیا۔ ان حملوں میں خودکار ہتھیاروں اور بھاری مارٹر گولوں کا موثر استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں مزید 5 فوجی اہلکار ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران قابض فوج نے سرمچاروں کی پوزیشنز کا سراغ لگانے کے لیے ایک کواڈ کاپٹر (ڈرون) فضا میں بھیجا، جسے مستعد سرمچاروں نے بروقت نشانہ بنا کر فضا میں ہی تباہ کر دیا، جس سے دشمن کا فضائی نگرانی کا نظام مفلوج ہو گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عبدوئی اور شیپچار کے درمیان جب قابض فوج کا ایک دستہ ہلاک اور زخمی اہلکاروں کی لاشیں اٹھانے کے لیے جائے وقوعہ کی طرف بڑھ رہا تھا، وہاں موجود پہلے سے گھات لگائے سرمچاروں نے آئی ای ڈی بم سے فوجی دستے کو نشانہ بنایا۔ دھماکے کے نتیجے میں 4 فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے اور گاڑی مکمل تباہ ہو گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ ایک اور کارروائی میں، سرمچاروں نے 9 مارچ کو تربت کے علاقے جوسک بلیدہ کراس پر گیس بردار دو باؤزر گاڑیوں کے ٹائر برسٹ کر کے انہیں نذرِ آتش کر دیا۔ یہ گاڑیاں پنجاب کی صنعتوں کے لیے گیس لے جا رہی تھیں۔ ترجمان نے آخر میں کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ تمپ اپسی کہن میں مربوط آپریشن کے دوران مجموعی طور پر قابض فوج کے 15 اہلکار کی ہلاکت اور ان کے جنگی ساز و سامان اور انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے اور تربت میں گیس باؤزر کو نزر آتش کرنے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ بی ایل ایف بلوچستان کی آزادی تک دشمن فوج پر مہلک حملے جاری رکھے گا۔
