
گوادر/ملتان/نوشکی: بلوچستان اور پنجاب کے مختلف علاقوں سے نوجوانوں اور مزدوروں کے جبری طور پر لاپتہ کیے جانے کے واقعات سامنے آئے ہیں، جن پر متاثرہ خاندانوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر کی تحصیل جیونی کے علاقے پانوان سے 16 سالہ طالب علم عبداللہ بلوچ ولد حکیم بلوچ کو 9 مارچ 2026 کو مبینہ طور پر پاکستانی فورسز نے گھر سے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کر دیا۔ اہلِ خانہ کے مطابق فرنٹیئر کور (ایف سی) کے اہلکار، جن کے ہمراہ ملٹری انٹیلی جنس کے اہلکار بھی موجود تھے، نے گھر پر چھاپہ مارا اور عبداللہ بلوچ کو اپنے ساتھ لے گئے۔ واقعے کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی۔
دوسری جانب مقامی ذرائع کے مطابق 14 فروری 2026 کی شام پنجاب کے شہر ملتان کے علاقے ٹبہ سے چار بلوچ افراد کو بھی مبینہ طور پر سیکیورٹی اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کر دیا۔ لاپتہ ہونے والوں کی شناخت کوہ سلیمان کے علاقے فضلہ کچ سے تعلق رکھنے والے محمد اسماعیل بزدار ولد خدا بخش، 20 سالہ جلیل بزدار ولد محمد، 20 سالہ محمد لطیف بزدار اور 37 سالہ غلام دین بزدار ولد محمد خان کے ناموں سے ہوئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ چاروں افراد مزدوری کرتے تھے۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ افراد کو 14 فروری کی رات تقریباً آٹھ بجے ملتان ٹبہ کے علاقے سے سی ٹی ڈی اہلکاروں نے حراست میں لیا، جس کے بعد سے ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ اب تک انہیں ان کی گرفتاری کے حوالے سے کوئی باضابطہ اطلاع نہیں دی گئی اور نہ ہی کسی تھانے یا عدالت میں ان کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہیں، جس کے باعث خاندان شدید پریشانی اور اضطراب کا شکار ہے۔
اسی طرح بلوچستان کے ضلع نوشکی کے علاقے جورکین سے بھی ایک ہفتہ قبل دو افراد کے جبری طور پر لاپتہ کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ لاپتہ افراد کی شناخت رؤف ولد خیر جان اور انجم ولد چاکر خان کے ناموں سے ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق انہیں بھی پاکستانی فورسز کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کر دیا۔
متاثرہ خاندانوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر ان افراد پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے، بصورت دیگر فوری طور پر رہا کیا جائے۔ انسانی حقوق کے حلقوں کے مطابق ایسے واقعات بلوچستان اور دیگر علاقوں میں جبری گمشدگیوں کے جاری سلسلے کی نشاندہی کرتے ہیں، جس سے متاثرہ خاندان شدید ذہنی اذیت کا سامنا کر رہے ہیں۔
