
بلوچستان کے اضلاع پنجگور اور مشکے سے دو نوجوانوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جو پاکستانی فورسز کی جبری گمشدگیوں کے شکار بنے تھے۔
آواران کے مشکے علاقے سے فتح ولد شہداد کی لاش ملی، جو میوار کا رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے ڈرائیور تھا۔ اہل خانہ کے مطابق فتح 13 جنوری 2026 کو اپنی گاڑی میں مسافر لے جا رہا تھا کہ اسی دن سے لاپتہ تھا۔ ذرائع کے مطابق آج اس کی لاش مشکے سے برآمد ہوئی۔
پنجگور سے یحییٰ ولد فضل کریم بلوچ کی لاش بھی ملی، جو خدابادان کا رہائشی تھا۔ مقامی ذرائع کے مطابق یحییٰ کو فورسز اور مبینہ ریاستی ڈیتھ اسکواڈ نے حراست میں لے کر قتل کیا اور لاش پھینک دی۔ بتایا گیا ہے کہ گذشتہ روز ایف سی نے یحییٰ کو ایک ساتھی کے ساتھ حراست میں لیا تھا، جس کے ساتھی کو فائرنگ کے دوران زخمی کیا گیا تھا۔ بعد ازاں یحییٰ کی لاش مردہ حالت میں سول ہسپتال میں چھوڑ دی گئی۔
یہ واقعات بلوچستان میں بڑھتی ہوئی جبری گمشدگیوں اور ریاستی طاقت کے استعمال کے حوالے سے تشویش بڑھا رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے گروپ ان کیسز کو بروقت اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
