
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جبری گمشدگیوں کے واقعات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جہاں اہلِ خانہ کے مطابق متعدد افراد کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق کوئٹہ، قلات اور کیچ سے مجموعی طور پر دس افراد کو تحویل میں لیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ لاپتہ افراد کی شناخت شعیب احمد ولد محمد بخش قمبرانی، صدام ولد عبدالہد، زبیر ولد خلیل احمد، جواد ولد عبدالرشید، عبدالرحیم ولد برکت علی، آصف ولد چیئرمین اسلام، یاسر ولد بلوچ، علی احمد ولد الطاف، رحیم بخش ولد کریم بخش اور سفر خان ولد محمد علی کے ناموں سے کی گئی ہے۔
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ مذکورہ افراد کو مختلف اوقات میں گھروں یا قریبی علاقوں سے حراست میں لیا گیا، تاہم بعد ازاں ان کے بارے میں کوئی سرکاری اطلاع فراہم نہیں کی گئی۔ حکام کی جانب سے اس حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا معاملہ گزشتہ دو دہائیوں سے انسانی حقوق کے ایک اہم مسئلے کے طور پر زیر بحث رہا ہے، جس پر قوم پرست جماعتیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں۔
دریں اثنا پنجگور کے علاقے شاپاتان سے ایک لاش برآمد ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق لاش کی شناخت چھ ماہ سے لاپتہ یحییٰ نور ولد نور محمد، سکنہ پروم (حال تار آفس) کے طور پر ہوئی ہے۔
اہلِ خانہ کا دعویٰ ہے کہ یحییٰ نور کو نامعلوم مسلح افراد نے ایئرپورٹ روڈ سے اغوا کیا تھا، جس کے بعد وہ لاپتہ تھے۔ مقامی انتظامیہ نے لاش کو تحویل میں لے کر اسپتال منتقل کیا جہاں شناخت کی تصدیق کی گئی۔
مقامی ذرائع نے اغوا کاروں کا تعلق ایک مبینہ سرکاری حمایت یافتہ مسلح گروہ سے جوڑا ہے، تاہم اس دعوے کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
ان حالیہ واقعات کے بعد بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے قانون اقدامات سے متعلق خدشات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں نے شفاف تحقیقات اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔
