
کوئٹہ — بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف سرگرم تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ نے آج اپنے 6095 دن مکمل کر لیے۔ تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کی قیادت میں جاری اس کیمپ کو دنیا کا طویل ترین اور پُرامن احتجاج قرار دیا جاتا ہے۔
احتجاجی کیمپ میں جبری لاپتہ افراد محمود علی لانگو اور نعمت اللہ کے اہلِ خانہ نے شرکت کی۔ اس موقع پر نعمت اللہ کی والدہ جبکہ محمود علی لانگو کی والدہ، کمسن بیٹی اور دادا بھی موجود تھے۔ لواحقین نے اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے پُرامن احتجاج ریکارڈ کرایا اور اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ وہ ان کی فریاد سنیں اور ملکی قوانین کے تحت انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں۔
لواحقین کا کہنا تھا کہ ان کا احتجاج محض اس لیے ہے تاکہ ذمہ دار ادارے ان کے مسائل کا نوٹس لیں اور انہیں اپنے پیاروں کی جبری گمشدگی کی اذیت سے نجات دلائیں۔ ان کے مطابق برسوں سے جاری یہ کرب ان کی زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔
وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ جبری لاپتہ افراد کے خاندان انصاف کی فراہمی کے لیے قائم اداروں سے رجوع کرنے کے ساتھ ساتھ پُرامن احتجاج بھی جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ انہیں کسی سطح پر مؤثر داد رسی نہیں مل رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال شہریوں کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں کے سربراہان سے مطالبہ کیا کہ جبری گمشدگیوں کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور محمود علی لانگو اور نعمت اللہ سمیت تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنا کر لواحقین کو طویل اذیت سے نجات دلائی جائے۔
