
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے 19 فروری کو پسنی کے علاقے کلانچ میں ڈوکی کے مقام پر قائم قابض پاکستانی فوج کی چوکی پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں دشمن کو جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
ترجمان نے کہا کہ ایک اور کارروائی میں 18 فروری کو بی ایل ایف کے سرمچاروں نے جھاؤ کے علاقے زیرکانی میں گھات لگا کر فوجی قافلے پر بھاری ہتھاروں سے حملہ کیا۔ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب قابض فوج ڈولیجی فوجی کیمپ سے نکل کر آپریشن کی غرض سے کورک کی جانب جا رہی تھی۔اس حملے میں دشمن فوج کے دو اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ باقی اہلکار اپنی گاڑیاں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ اس حملے کی زد میں آنے والے قافلے کی کمک کے لیے مزید فوجی دستے حرکت میں آگئے جنہیں بی ایل ایف کے اسنائپر ٹیم نے نشانہ بنایا جس میں دو مزید فوجی اہلکار موقع پر ہلاک ہو گئے۔ اس کارروائی میں مجموعی طور پر چار فوجی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جس کے بعد دشمن اہلکار پسپا ہو کر واپس چلے گئے۔
انہوں نے کہا کہ اسی روز 18 فروری کو سرمچاروں نے واشک، رخشان کے علاقے پتک میں سی پیک شاہراہ پر تین گھنٹے تک ناکہ بندی کرکے گاڑیوں کی تلاشی لی۔ تلاشی کے دوران سرمچاروں نے علاقے میں قابض فورسز کی نقل و حرکت کا جائزہ لیا اور مشکوک سرگرمیوں کی نگرانی کی۔ اس کارروائی کا مقصد علاقے میں دشمن فوج اور اس کے ایجنٹس کی نقل و حرکت کو روکنا اور متحرک فوجی دستوں اور ایجنٹس کو پکڑنا اور نشانہ بنانا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ پسنی میں قابض فوج کی چوکی اور جھاؤ میں فوج قافلہ اور اس کی کمک پر حملے میں چار اہلکاروں کی ہلاکت، اور واشک میں سی پیک شاہراہ پر ناکہ بندی کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔
