
بلوچستان کے علاقوں تمپ اور خاران میں پاکستانی فوج کی جانب سے آپریشن جاری ہے، جس کے دوران گھروں کو مسمار کرنے، مکینوں کو نشانہ بنانے اور زیورات قبضے میں لینے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق آج صبح کیچ کے علاقے تمپ میں کوہاڈ اور گردونواح میں آپریشن کا آغاز کیا گیا۔ علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ علاقے کو گھیرے میں لے کر گھر گھر چھاپے مارے گئے۔ ذرائع کے مطابق فورسز نے خواتین سمیت دیگر افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا اور گھروں میں موجود زیورات و دیگر قیمتی اشیاء قبضے میں لے لیں، جبکہ بعض گھروں کو مسمار اور نذر آتش بھی کیا گیا۔ گرفتاریوں کے حوالے سے تاحال کوئی تفصیلات موصول نہیں ہو سکیں۔
دوسری جانب خاران کے علاقے لجے اور اس سے متصل علاقوں میں بھی آپریشن کی اطلاعات ہیں۔ ایک علاقہ مکین کے مطابق علی الصبح فورسز کی متعدد گاڑیوں پر مشتمل قافلہ علاقے میں پہنچا اور گھیراؤ کے بعد کارروائی شروع کی گئی۔
یاد رہے کہ بلوچستان بھر میں حالیہ دنوں فوجی آپریشن میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ رواں ماہ کوئٹہ سمیت مختلف علاقوں سے متعدد افراد کے جبری لاپتہ کیے جانے اور بیس سے زائد افراد کی تشدد زدہ لاشیں ملنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جن میں سے کئی کی شناخت پہلے سے جبری لاپتہ افراد کے طور پر کی جا چکی ہے۔
