
نوشکی کے علاقے کلی شریف خان میں پاکستانی فورسز کی کارروائی کے دوران ایک رہائشی مکان کو ہیوی مشینری کے ذریعے مسمار کر دیا گیا، جبکہ اہلِ خانہ کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور تشدد کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران نزیر احمد بادینی کو حراست میں لے کر جبری لاپتہ کردیا گیا۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ کارروائی کے وقت گھر میں خواتین اور بچے موجود تھے، جنہیں مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق فورسز اہلکاروں نے خواتین کو بندوق کے بٹ مارے اور گھر کا سامان بھی نقصان پہنچایا۔
نزیر احمد بادینی معروف براہوئی شاعر ابصار بلوچ کے والد بتائے جاتے ہیں۔ خاندان کے قریبی ذرائع کے مطابق انہیں کارروائی کے دوران اپنے ہمراہ لے جایا گیا، جس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔
یاد رہے کہ نزیر بادینی کے بیٹے بالاچ بادینی، جو ایک مقامی فٹبال کھلاڑی تھے، مئی 2024 میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے جاں بحق ہو گئے تھے۔ مقامی افراد کہنا ہے کہ انہیں ماضی میں بھی حراست میں لیا گیا تھا اور بعد ازاں مسلح افراد نے نشانہ بنایا۔
