
اہل خانہ کے مطابق گل محمد مری کو 2012 میں پاکستانی فورسز نے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا تھا، جس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی اطلاع سامنے نہ آسکی۔ اس واقعے کے بعد اماں حوری نے اپنے بیٹے کی بازیابی کے لیے طویل قانونی اور احتجاجی جدوجہد کا آغاز کیا۔
انہوں نے کوئٹہ اور اسلام آباد میں متعدد دھرنوں میں شرکت کی اور کمیشنوں و عدالتوں میں چودہ برس تک اپنے بیٹے کا مقدمہ لڑتی رہیں۔ بیوگی کے تین دہائیوں سے زائد عرصے اور مسلسل ذہنی اذیت کے باوجود وہ سڑکوں، احتجاجی کیمپوں اور جلسوں میں اپنے بیٹے کی تصویر اٹھائے نظر آتی رہیں۔
اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ اماں حوری نے لاٹھی چارج، دھمکیوں، بھوک اور تھکن سمیت مختلف مشکلات کا سامنا کیا لیکن اپنی جدوجہد ترک نہیں کی۔ وہ 2023 میں مختلف احتجاجی سرگرمیوں میں بھی شریک رہیں اور انصاف کی فراہمی کے مطالبے سے پیچھے نہ ہٹیں۔ 2025 میں بھی وہ اسلام آباد جا کر اپنے بیٹے کی بازیابی کے لیے آواز اٹھاتی رہیں۔
اماں حوری اپنے بیٹے کو آخری بار دیکھے بغیر دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ ان کی وفات پر مختلف سماجی حلقوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جبری گمشدہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ دہرایا ہے۔ لواحقین اور کارکنان کا کہنا ہے کہ جب تک تمام لاپتہ افراد کو بازیاب نہیں کرایا جاتا، ماؤں اور خاندانوں کا یہ طویل اور اذیت ناک انتظار ختم نہیں ہوگا۔
