
بلوچستان ضلع پنجگور کے علاقے شاپاتان سے دو افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جن میں سے ایک کی شناخت جبری لاپتہ جنگیان ولد عبدالرشید کے نام سے ہوئی ہے جبکہ دوسرے شخص کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔
ذرائع کے مطابق شناخت ہونے والے نوجوان جنگیان کو 26 مئی 2025 کو پنجگور کے علاقے پروم جائین سے پاکستانی فورسز اور مقامی ڈیتھ اسکواڈ کی جانب سے حراست میں لیا گیا تھا، جس کے بعد سے وہ لاپتہ تھے۔ اہل خانہ کے مطابق انہیں جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا اور طویل عرصے تک ان کے بارے میں کوئی اطلاع فراہم نہیں کی گئی۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ دونوں لاشوں پر تشدد اور گولیوں کے نشانات موجود تھے، جس سے شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انہیں قتل کرنے سے قبل سخت تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
یاد رہے کہ صرف پنجگور میں ایک ہفتے کے دوران کم از کم 7 سے 8 لاشیں برآمد ہوچکی ہیں، جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ پہلے سے زیر حراست اور جبری لاپتہ افراد کی تھیں۔
