
تحریر: وسیم زہری
بلوچستان، جسے دنیا شاید بھول چکی ہے، تاریخ کے اوراق میں ایک وقت ایک بڑی سلطنت کا مالک رہا ہے۔ خانِ قلات نوری نصیر خان کے دور کو بلوچ قوم سمیت اُن کے ہمسایہ ممالک آج بھی فخر اور احترام سے یاد کرتے ہیں۔ نوری نصیر خان نے پوری بلوچ قوم کو یکجا کرنے اور اسے ایک مضبوط حیثیت دینے میں نمایاں کردار ادا کیا، جہاں لوگ اندرونی طور پر امن، محبت اور بھائی چارے کے ساتھ رہتے تھے اور نوآبادیاتی حملہ آوروں کے خلاف دلیری سے مزاحمت کرتے رہے۔ یہ مزاحمتی سلسلہ آج بھی کسی نہ کسی صورت میں جاری نظر آتا ہے۔
لیکن جب دنیا تبدیلی کی طرف گامزن ہوئی اور تیزی سے ترقی کرنے لگی، کئی نئے ممالک آزاد ہوئے اور کئی دوبارہ قبضے میں چلے گئے۔ اس تیز رفتار تبدیلی کے دوران بلوچ پیچھے رہ گیا۔ دشمن کی چالوں کو سمجھنے میں ناکامی کے باعث وہ ایک بار پھر غلام قوموں کی فہرست میں شامل ہو گیا اور یوں ایک نئے نوآبادیاتی نظام میں جکڑ کر آہستہ آہستہ ایک طویل مگر خطرناک نفسیاتی غلامی کا شکار ہو گیا۔ اس کے اسباب کو ہماری کمزوریاں اور دشمن کی چالاکیاں قرار دیا جا سکتا ہے۔
اگرچہ بلوچ مزاحمت دہائیوں سے جاری ہے، مگر سن 2000 کے بعد شروع ہونے والی تحریک، جو آج تک مسلسل جاری ہے، اپنی سیاسی، شعوری اور مزاحمتی جدوجہد کے باعث ایک نہ ختم ہونے والی تحریک ثابت ہو رہی ہے۔ اس کی جڑیں عوام کی رگوں تک پھیل چکی ہیں اور لوگ اسے آزادی کی امید اور غلامی سے نجات کا ذریعہ سمجھنے لگے ہیں۔
ابتدائی ادوار میں اس تحریک کو کئی مشکلات کا سامنا رہا، جن میں ادارہ جاتی ڈھانچے کا فقدان اور عوام میں سیاسی شعور کی کمی شامل تھی، جو اسے کمزور بناتی رہی۔ یہ صورتحال تقریباً ہر تحریک کے آغاز میں دیکھی جاتی ہے۔ تاہم، گزشتہ چند برسوں میں یہ تحریک اپنے ابتدائی یا طفلانہ دور سے نکل کر ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جس کے اثرات واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔
جہاں ایک وقت قیادت کی شدید کمی محسوس کی جا رہی تھی، آج وہ خلا پُر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ خواہ سیاسی جدوجہد ہو یا مسلح مزاحمت، نئی قیادت سامنے آ چکی ہے۔ لوگ انہیں پہچان رہے ہیں، ان کی قربانیوں پر فخر کر رہے ہیں اور ان کی سوچ کے ساتھ چلنے کو تیار ہیں۔ بدلے میں یہ قیادت اپنے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے تنظیم اور تحریک میں نئی حکمتِ عملی اور تبدیلیاں لا رہی ہے۔ اسی عمل سے ایک قوم کو دوبارہ جوڑنے کا ارتقائی سفر مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔
گوریلا جنگ کے اصول اور ضروریات وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ ایک دور میں حملہ کر کے فرار ہونا مؤثر حکمتِ عملی تھی اور یہ طریقہ کار کارگر بھی ثابت ہوا۔ آج وقت نے مزید تبدیلیوں کا تقاضا کیا تو گوریلاؤں نے سوچ سمجھ کر نئی حکمتِ عملی اپنانے کی کوشش کی۔ ایک طویل جنگ دشمن کو کمزور کر کے پیچھے دھکیل سکتی ہے، جبکہ کچھ مربوط اور منظم حملے اسے گھٹنوں پر لا سکتے ہیں۔ اس تبدیلی کو بلوچ فدائیوں نے بخوبی عملی جامہ پہنایا، جنہیں ہم مجید بریگیڈ کے نام سے جانتے ہیں۔
سن 2011 میں اس پالیسی کو اپنانے کے بعد کچھ عرصہ گزرا اور 2018 میں اسے باقاعدہ تنظیمی ڈھانچے کا حصہ بنایا گیا، جب استاد اسلم بلوچ کے بیٹے فدائی ریحان بلوچ نے دالبندین میں چینی بس پر حملہ کر کے اس مرحلے کا آغاز کیا۔
آپریشن گنجل، جو نوشکی اور پنجگور میں ہوا؛ آپریشن مچھ، جس میں تین دن تک مچھ شہر کو کنٹرول میں رکھا گیا؛ آپریشن درہ بولان–مشقاف، جو ایک ہفتے تک جاری رہا؛ اور کراچی سمیت گوادر میں مختلف اوقات میں کیے گئے انفرادی فدائی حملے اسی طرح آپریشن ہیروف فیز 1.0، جو بلوچستان کے کئی اضلاع میں کامیابی سے مکمل ہو یہ سب اہم مثالیں ہیں۔ ان کارروائیوں میں بی ایل اے کے مختلف یونٹس نے حصہ لیا، مگر خاص طور پر مجید بریگیڈ کا کردار قابلِ ذکر رہا، جس نے گوریلا جنگ کو محض چھاپہ مار کارروائیوں سے نکال کر دشمن کے کیمپوں تک پہنچایا، اور اب یہ عمل شہروں تک پھیل چکا ہے۔
سن 2025 میں آپریشن درہ بولان–مشقاف نے تاریخ کے صفحات میں ایک منفرد مقام حاصل کیا۔ اسی مرحلے سے بلوچ مسلح تنظیموں نے اپنی طاقت کا بھرپور اظہار شروع کیا اور عالمی توجہ حاصل کرنے میں کامیابی پائی۔
چند ہفتے قبل آپریشن ہیروف 2.0 کا آغاز ہوا، جس میں چودہ شہروں میں پے در پے حملے کیے گئے، بعض مقامات پر کنٹرول قائم کیا گیا، اور کوئٹہ شہر میں داخل ہو کر ریاست کے ریڈ زون تک منظم انداز میں پہنچ کر فدائی حملہ کیا گیا، جو ایک کھلا چیلنج تھا۔ یہ اقدام اپنی طاقت منوانے کی حکمتِ عملی ثابت ہوا اور ایک نئی ریاست کی تشکیل کا پیغام دینے کے مترادف سمجھا گیا۔
بلوچ لبریشن آرمی نے اس مہم کو اپنی تاریخ کی ایک اہم جنگی مہم قرار دیتے ہوئے تین نکات پر توجہ دلائی:
اول، یہ ثابت کرنا کہ بلوچ سرمچار اپنی مرضی کے مطابق شہری علاقوں پر حملہ کرنے اور کنٹرول قائم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
دوم، بلوچ قوم کو یہ پیغام دینا کہ یہ مزاحمت اجتماعی اعتماد اور تنظیمی قوت پر قائم ہے۔
سوم، قابض افواج کی اس مفروضہ برتری کو توڑنا، جو بلوچستان میں بلاچیلنج اختیار کے دعوؤں پر مبنی تھی۔
یہ نتائج محض علامتی نہیں تھے بلکہ عملی، سیاسی اور گہرے نفسیاتی اثرات کے حامل تھے۔ ریاست پر بلوچ قوم کا اعتماد تقریباً ختم ہو چکا تھا اور ریاستی رِٹ اور انٹیلیجنس کی ناکامی واضح طور پر نظر آ رہی تھی۔ بلوچ عوام نے اپنی تنظیم کو محفوظ رکھا اور جب سرمچار شہروں میں داخل ہوئے تو لوگ اجتماع کی صورت میں ان سے ملنے نکل آئے اور ان کی مدد و خدمت کی۔ یہی عوامی حمایت گوریلا تحریک کی زندگی ہوتی ہے، اور عوام انہیں اپنی دفاعی قوت کے طور پر قبول کر چکے ہیں۔
قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس نئی حکمتِ عملی میں بلوچ نوجوانوں کے ساتھ ساتھ بلوچ بہنوں نے بھی فرنٹ لائن پر کردار ادا کیا ہے۔ وہ سیاست سے لے کر مسلح جدوجہد تک قیادت اور کمانڈ کے فرائض انجام دے رہی ہیں اور فدائی عمل میں بھی پیش پیش ہیں۔ وہ اپنے ساتھیوں کے شانہ بشانہ تاریخ رقم کر رہی ہیں۔ ایک طرف وہ ماں کی صورت میں شہیدوں کو لوریاں دیتی ہیں تو دوسری جانب بی بی ہتم ناز جیسے کردار بھی ادا کرتی ہیں۔ دنیا اسے آپریشن کے نام سے جانتی ہو، مگر بلوچ قوم اس میں اپنے لیے سیاسی، جنگی، شناختی، ثقافتی اور اجتماعی جدوجہد کی جھلک دیکھتی ہے، جو مشکلات سے گزرتے ہوئے منظم انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔
بشیر زیب بلوچ (بی ایل اے چیف کمانڈر) اپنے پیغام میں بے رحم جنگ کی پالیسی اپنانے کی بات کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ بلوچ قوم کو اپنی کھوئی ہوئی طاقت دوبارہ حاصل کرنے کا اشارہ دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا کمزور کی بات نہیں سنتی بلکہ طاقت کی زبان سمجھتی ہے، جہاں “کچھ لو اور کچھ دو” کے مفادات پر معاملات طے ہوتے ہیں۔ محض انسانیت کے دعوؤں پر کمزور کے ساتھ کوئی نہیں بیٹھتا؛ عالمی سیاست طاقت کے اصولوں پر چلتی ہے۔ اس لیے ایک طاقتور قوم بننا ضروری ہے، اور ان کے نزدیک یہ طاقت بے رحم جدوجہد میں پوشیدہ ہے۔
یہیں سے وہ امیدیں جنم لیتی ہیں جو گزشتہ 77 برسوں سے نوآبادیاتی ظلم و جبر، سیاسی، معاشی اور فوجی قتل و غارت کے باعث دبائی گئی تھیں۔ آج شال کی سڑکوں پر ایک ماں کا اپنے بیٹوں کے ہاتھ چومنا دوبارہ جینے کی امید دلاتا ہے۔ جب کوئی قوم خود پر بھروسہ کر لیتی ہے اور اپنی اندرونی طاقت کو اجتماعی عمل میں ڈھال دیتی ہے تو اسے آزادی سے کوئی نہیں روک سکتا، کیونکہ طاقت کا اصل سرچشمہ عوام ہوتے ہیں۔ بلوچ عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے کہ وہ بلوچ سرمچاروں کو ہی اپنا محافظ سمجھتے ہیں، اور وہ ریاست جس کی بنیاد نوری نصیر خان نے رکھی تھی، آج ایک بار پھر حقیقت کا روپ دھارتی دکھائی دے رہی ہے۔
