قربانی، شعور اور بقا کی جدوجہد

تحریر: دودا الطاف

آج بلوچستان کی سرزمین فدائیوں کے خون کی خوشبو سے مہک رہی ہے۔ یہ خوشبو صدیوں کی محکومی، جبر، استحصال اور خاموشی کے اندھیروں سے ابھرتی ہوئی تاریخ کے سینے پر گزرتے ہوئے ایک روشن چراغ بن چکی ہے، جو کہتی ہے کہ اب خاموشی کا دور ختم ہو گیا ہے۔ آئیں، اس بقا کی جنگ میں موت سے لڑ کر خود کو لافانی بنائیں، کیونکہ ظلم کے خلاف مزاحمت سے بڑھ کر کوئی شے وجود نہیں رکھتی۔ کیونکہ آج کی موت اور قربانی کل ہمارے لیے مستقبل کا سنہرا باب ہوگی۔ اب کوئی یہ کہنے کی جسارت نہیں کرے گا کہ صرف نو عمر اور جذباتی نوجوان اس جنگ کا حصہ بن چکے ہیں، بلکہ اب جدوجہد ہر بلوچ کے ڈی این اے میں سرایت کر چکی ہے۔ چاہے وہ بوڑھا ہو، ماں باپ ہوں، بیٹا ہو یا بیٹی، سب سرزمین پر مر مٹنے کو تیار ہیں۔ جو قومیں اپنے حقوق کے لیے مزاحمت کرتی ہیں، وہ ہر صورت میں اپنے لیے سنہرا اور خوبصورت مستقبل حاصل کرتی ہیں، اور بلوچ کارواں اس مزاحمت کا شعوری ہمسفر بن چکا ہے۔

اور آج آسمان وجد میں ہے اور رقص کر رہا ہے، کیونکہ آج آسمان کو آنسو بہانے کی زحمت نہیں کرنی پڑ رہی۔ گزشتہ دو دنوں سے پھول جیسے نوجوان اپنے لہو کی ندیوں سے اس پیاسی دھرتی کو آبِ رواں عطا کر رہے ہیں، تاکہ کل یہاں خون کی ندیاں آزادی اور مستقبل کو روشن کریں گی۔ جس راہ پر ہزاروں مسافر گزر چکے ہیں اور ہزاروں آنے والے ہیں۔

تاریخ کے سنہرے اوراق سے

مورخ کو لکھنے کے لیے قلم کی ضرورت نہیں، کیونکہ آج ہر قطرۂ خون خود ایک داستانِ وفا اور عشقِ سرزمین ہے، ایک سنہرا ورق ہے۔ بلوچ قومی جدوجہد وہ ساعت پار کر چکی ہے جہاں وضاحت بے کار ہو گئی ہے، اس لیے کہ دلیل پہلے ہی ختم ہو چکی ہے۔ جہاں قلم کی نوک سے جتنے بھی الفاظ لکھے جائیں، کم پڑ جائیں گے۔ تاریخ میں بلوچ قومی جنگِ آزادی اب ایک فیصلہ کن موڑ میں داخل ہو چکی ہے، جہاں تاریخ اب وضاحت نہیں مانگتی، دلیل نہیں سنتی بلکہ کردار اور قربانی کو دیکھتی ہے۔ کیونکہ بقول کماش بیشر زیب کہ تحریکیں ہیروز سے نہیں بلکہ کردار سے زندہ رہتی ہیں، اور کردار شعور، فکری فصلوں، نظم و ضبط اور خود احتسابی سے بنتا ہے۔

جنگ اور قربانی کا فلسفہ

ہم نے اکثر جنگی داستانیں سنی اور پڑھی ہیں، لیکن آج بلوچستان میں بلوچ بہنیں اپنے بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہیں اور کندھے سے کندھا ملا کر دشمن کے کیمپوں میں گھس کر اس غرور کو خاک میں ملا رہی ہیں۔ فدائی حوا مسکراہٹ کے ساتھ بندوق کے ٹریگر پر ہاتھ رکھ کر دشمن کو للکار کر کہہ رہی ہے کہ اب ہم اپنی روح کے ساتھ مزید سمجھوتہ نہیں کر سکتیں۔ اب ظلم و جبر کی داستان، خاموشی، وضاحت اور مزید قید ناقابلِ برداشت ہے۔ اگر کل کو مستقبل سنہرا بنانا ہے تو آج کے دن کو قربانی دینا پڑے گا۔

اور فدائی کماش فضل، جو اپنے آخری پیغام میں کہتا ہے کہ بلوچ نوجوان پہلے ہی اس قربانی اور فلسفے کی راہ پر چل رہے ہیں، میں نے اس راستے کا انتخاب اس لیے کیا ہے تاکہ بزرگ اور کماش اس بات کو سمجھیں کہ یہ ان کی سرزمین کی بقا کی جنگ ہے اور انہیں بھی اس کارواں میں شامل ہونا چاہیے۔ کماش فضل نے 70 برس کی عمر میں ایک نئی داستان رقم کی ہے اور آج سے 70 سال پہلے بابو نوروز خان کی یاد کو اس نے دوبارہ زندہ کیا ہے۔ بلوچ بزرگ بھی پاکستان کے ظلم و جبر، محکومیت اور قبضے کے خلاف اپنی آخری سانس تک مزاحمت کریں گے۔

لمہ گل بی بی

گل بی بی بلوچ تاریخ کے اندر ایک سنہری داستان ہے۔ اس داستان کو ہم سب نے سنا بھی ہے، لیکن آج 60 برس کی ہتم ناز کی شکل میں گل بی بی کی داستان دو سو سال بعد قبضہ گیر اور غلامی کے خلاف مزاحمت کے طور پر زندہ ہے۔

پاکستان کا برسوں سے جاری پروپیگنڈا اور دعویٰ:

پاکستان برسوں سے یہ دعویٰ کرتا آ رہا تھا کہ یہ جدوجہد محض چند افراد یا کسی ایک گروہ تک محدود ہے، مگر آج شال کی گلیوں سے لے کر پسنی کے ساحلوں تک، خاران کے سنگلاخ پہاڑوں سے گوادر کی بندرگاہوں تک، بلوچ قوم کی بہادر بیٹیاں، بیٹے، کماش و بزرگ سب اس کارواں کے مسافر بن گئے ہیں۔ جہاں فدائی حوا اور فدائی آصفہ کی شکل میں بیٹیاں، لمہ ہاتم ناز کی شکل میں ایک ماں، فدائی کماش فضل کی شکل میں ایک بزرگ اور یاسمہ وسیم کی شکل میں میاں بیوی اس جھوٹے بیانیے کو رد کرتے ہوئے اعلان کر رہے ہیں کہ یہ جنگ کسی ایک تنظیم یا وقتی ردعمل کا نام نہیں بلکہ ایک تاریخی ناگزیر حقیقت ہے۔

جہاں آج بلوچ بیٹیاں تاریخ کا دھارا موڑ رہی ہیں، نوجوان عملی مزاحمت اور شعوری جدوجہد کی علامت بن چکے ہیں، اور بزرگ اس تحریک کو فکری و نظریاتی استحکام فراہم کر رہے ہیں۔ پوری قوم اختلافات سے بلند ہو کر ایک ہی راستے، ایک ہی فلسفے اور ایک ہی مقصد کے تحت پیش قدمی کر رہی ہے کہ ہماری سرزمین، جو قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود سیاسی بے اختیاری، معاشی استحصال اور قومی محرومی کا استعارہ بنی رہی، آج خون اور قربانی کے ذریعے اپنے حقوق کا مطالبہ بلند کر رہی ہے۔

اور آج بلوچ شہزادوں اور شہزادیوں کی قربانی دراصل فضا پر گواہی دے رہی ہے کہ آزادی کوئی تحفہ نہیں بلکہ ایک فکری سفر ہے جو قربانی، سوال اور مزاحمت کے راستوں سے گزرتا ہے۔ یہ تحریک کسی ایک نسل یا لمحے کی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک سیاسی وراثت ہے۔ یہ وراثت انہیں سکھاتی ہے کہ یہ بقا کی جنگ ہے، آزادی کی جنگ ہے، اور اُس آنے والے کل کی جنگ ہے جو غلامی کے سائے میں نہیں بلکہ خودداری، خود اختیاری، وقار اور قومی شعور کی روشنی میں جنم لے گا۔

مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

بلوچستان میں بدلتا منظرنامہ: طاقت، تنظیم اور عوام

جمعرات فروری 12 , 2026
تحریر: وسیم زہری بلوچستان، جسے دنیا شاید بھول چکی ہے، تاریخ کے اوراق میں ایک وقت ایک بڑی سلطنت کا مالک رہا ہے۔ خانِ قلات نوری نصیر خان کے دور کو بلوچ قوم سمیت اُن کے ہمسایہ ممالک آج بھی فخر اور احترام سے یاد کرتے ہیں۔ نوری نصیر خان […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ