قابض پاکستانی ریاست بلوچستان میں اربوں روپے خرچ کرکے بلوچ قوم کی جائز تحریکِ آزادی کے خلاف منفی بیانیہ سازی کر رہی ہے۔ بی ایس او آزاد

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے ترجمان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جابر پاکستانی ریاست بلوچستان پر بزورِ طاقت قابض ہو کر 78 سالوں سے وہاں پر حکمرانی کر رہی ہے اور اپنے اس جبری قبضے کو برقرار رکھنے کے لیے بلوچ قوم کی نسل کشی کی جارہی ہے جہاں روزانہ کی بنیاد پر بلوچ فرزندوں کو جبری گمشدہ کرنے کے بعد ان کو سنگین اذیت دے کر غیر انسانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، کچھ کو تحویل میں قتل کرکے فیک انکاؤنٹر میں شہید کیا جاتا ہے اور ویرانوں میں ان کی مسخ شدہ لاشوں کو پھینک دیا جاتا ہے جبکہ کچھ کو چھوڑنے کے بعد اپنے کرایہ کے گروہوں، جیسا کہ ڈیتھ اسکواڈ، سے قتل کروایا جاتا ہے۔ بلوچستان میں ہر خاندان اس ریاستی ظلم و جبر کا شکار ہوکر ذہنی مریض بن چکا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں جاری جائز بلوچ قوم کی آزادی کی تحریک کو ناکام بنانے کے پاداش میں پاکستانی فوج بلوچ قوم کی نسل کشی کر رہی ہے۔ اس نسل کشی کو چھپانے کے لیے قابض ریاست اربوں روپے خرچ کرکے میڈیا میں بلوچ قوم کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرنے میں مصروف ہے جہاں بڑی تعداد میں جعلی سوشل میڈیا پیجز اور اکاؤنٹوں کے ذریعے روزانہ کی بنیاد پر جھوٹی خبریں نشر کی جاتی ہیں۔ بلوچ قوم کے اندر مایوسی پھیلانے کے لیے بلوچ قوم کے حقیقی رہنماؤں کے خلاف منفی پروپیگنڈہ اور ان کی کردار کشی سمیت دیگر غلیظ طریقوں سے ان کے خلاف غلط اور بیہودہ الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔ مگر یہ کوئی نیا ہتھکنڈہ نہیں بلکہ یہ قابض کا وطیرہ رہا ہے کہ اس نے ہمیشہ جھوٹ کا سہارا لے کر اپنی عوام سمیت عالمی میڈیا کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دوسری جانب قابض فوج اور اس کی کٹھ پتلی حکومت بلوچستان بھر میں نوجوانوں کو اپنی منفی اور جھوٹے بیانیوں پر لانے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر جامعات، کالجز اور اسکولوں سمیت دیگر تعلیمی و سماجی اداروں میں تقریبوں کا انعقاد کرکے ان کو بلوچ قومی تحریک کے خلاف ورغلانے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے۔ اسی طرح معاشرے میں کھلی کچہری کے نام پر لوگوں کو علاقوں میں جمع کرکے ان کو ہراساں کیا جاتا ہے اور دھمکایا جاتا ہے کہ کسی نے بلوچ قومی تحریک میں سرگرم سرمچاروں اور سیاسی کارکنان کی مدد کی تو انہیں سزا دی جائے گی۔ جبکہ دوسری جانب مظلوم خاندانوں کو کیمپوں میں بلا کر ان کی زبردستی ویڈیوز بنائی جاتی ہے کہ وہ بلوچ سرمچاروں کے خلاف بیان دیں، نہ دینے کی شکل میں متاثرہ خاندان کے دوسرے لوگوں کو جبری گمشدہ کیا جاتا ہے جو اجتماعی سزا کے زمرے میں آتی ہے۔ اسی طرح بلوچ جہدکاروں کی خاندانوں کو نام نہاد ڈیتھ اسکواڈ کے ذریعے شہید کیا جاتا ہے۔ ان تمام جرائم کو چھپانے کی خاطر قابض نے میڈیا میں جھوٹی خبروں کی ایک منظم جال بچھایا ہے جو تنخواہ لے کر پوری انسانیت کو مسخ کرنے میں مصروف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قابض پاکستانی فوج کو اچھی طرح پتا ہے کہ بلوچ قوم ایک حقیقی جنگ لڑ رہی ہے جو عوامی حمایت سے چل رہی ہے اسی لیے وہ اس حقیقی تحریک کو دبا تو نہیں سکتی مگر چھپانے کی خاطر آزاد میڈیا پر پابندی لگا کر اپنے منفی پروپیگنڈہ کا سہارا لے رہا ہے۔ اس کو ڈر ہے کہ اگر بلوچستان کی حقیقی کہانی دنیا کے سامنے آگیا اور تاریخی حقیقت پر غور کیا گیا تو بلوچ قومی تحریک پوری دنیا میں اپنی پہچان حاصل کر پائے گی اور سیاسی مینڈیٹ سے کامیابی ہوجائے گی۔

بیان میں کہا گیا کہ بلوچ عوام کے تمام مکتبہ فکر کے لوگ اس جدید و پیچیدہ دور میں قابض پاکستانی فوج کے جھوٹے پروپیگنڈوں سے خود کو محفوظ کریں اور اپنی حقیقی آزادی کی تحریک پر بھروسہ رکھیں کیونکہ دنیا کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ عوامی تحریک کو کچھلنا کسی بھی طاقت کے بس کی بات نہیں۔ دنیا میں جتنے بھی طاقتور ریاستیں رہی ہیں ان کو عوامی تحریک سے ہمیشہ شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ بلوچ قومی آزادی کی جنگ حقیقی عوامی حمایت سے ہی اپنے سفر میں رواں دواں ہے اور یہ تحریک ہمت، جذبہ، شعور اور مضبوط حکمتِ عملی سے وابستہ ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچستان کی آزادی کی تحریک کسی بھی منفی پروپیگنڈہ سے زیر نہیں ہو سکتی ہے۔ قابض پاکستانی ریاست جتنا بھی بلوچستان میں ظلم کرے اور اس کو چھپانے کی خاطر جتنے بھی پیسے خرچ کرے، منفی بیانیہ سازی کرے، اس سے بلوچستان کے نوجوان و عوام کبھی بھی گمراہ نہیں ہوں گے بلکہ اس سے بلوچ آزادی کی تحریک مزید شدت و جدت سے تمام محاذوں پر جاری رہے گی۔

مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

جبری گمشدگیوں کے خلاف وی بی ایم پی کا احتجاجی کیمپ 6076ویں روز میں داخل

بدھ فروری 11 , 2026
کوئٹہ: بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (VBMP) کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے جاری احتجاجی کیمپ 6076ویں روز میں داخل ہو گیا۔ کیمپ کی قیادت تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کر رہے ہیں جبکہ مرکزی سیکرٹری جنرل حوران بلوچ بھی اس موقع […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ