پنجابی ریاست کا اعتراف اور بلوچ کے لیے قیمت

تحریر: دل مراد بلوچ

فروری 2022 کو بلوچستان میں پاکستانی فوج پر بڑے پیمانے پر حملے ہوئے تو اس وقت میں نے لکھا تھا کہ”نوشکی اور پنجگور میں پاکستانی فوج پر تاریخ ساز حملوں کے بعد وہ حلقے بھی بولنے لگے ہیں جو عموماً ریاستی بیانیے کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ ان حلقوں کی طرف سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ بلوچوں کو "حقوق” دیے جائیں، ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کیا جائے اور یہ تسلیم کیا جائے کہ بلوچوں کو محض بندوق کے زور پر زیر نہیں کیا جا سکتا، بلوچ بہادر ہیں وغیرہ وغیرہ۔”

اکتیس جنوری کو اس سے کئی درجہ بڑے حملے ہوئے اور پوری پاکستان ریاست، فوج، مقتدرہ اور پنجابی ایلیٹ نے اس کی واضح طور پر شدت محسوس کی لیکن اس بار فرق ہے، واضح فرق، جب اکبر خان قتل ہوئے، جب غلام محمد قتل ہوئے یا اس درجے کے واقعات ہوئے یا پاکستانی فوج پر بڑے ہوتے تھے تو پنجابی دانش ور، صحافی طبقہ اور ریاست کے اثاثے بلوچ کے حقوق، ماضی کی غلطیاں جیسے رٹے رٹائے جملے دہرانے کے لیے گھنٹوں ٹی وی اسکرینوں پر بولتے رہتے، اخبارات کے ہزاروں صفحات کالے کیے جاتے رہتے لیکن اب بڑی فرق آیا ہے۔

فرق یہ ہے کہ آج پنجاب میں ایک بھی ایسی وزن دار آواز ایسی نہیں جو بول رہا ہو کہ بلوچ کے ساتھ زیادتیاں ہوئی ہیں، ایک بھی یہ نہیں کہہ رہا ہے کہ بلوچوں کو حقوق دیے جائیں، ایک بھی یہ نہیں کہہ رہا ہے کہ بلوچ کا مسئلہ بندوق سے حل نہیں کیا جاسکتا ہے بلکہ سبھی وہی زبان بول رہے ہیں جو فوج کا زبان ہے، وہی زبان بول رہے ہیں جو آرمی چیف اور فوجی ترجمان کا زبان ہے۔ آپ اندازہ کریں کہ حامد میر جیسا معقول صحافی بھی ایک نامعقول مفروضے یعنی اسرائیل کی مدد کے الزام کی آڑ میں بلوچ کے خلاف صف آرا ہوچکا ہے، بڑے بڑے یوٹیوبر جن کی شہرت تجریہ، تحقیق اور حقائق منظرعام پر لانا ہے، آج بلوچ کے لیے کسی رو رعایت کے بغیر مزید فوجی آپریشن، مزید کشت و خون کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

آج پاکستان اس نہج پر پہنچ چکا ہے کہ اپنے پاکستانی فریم ورک پر ایمان لانے والے اور پاکستانی پارلیمانی سیاست کے نمایاں آواز اخترمینگل اور ڈاکٹر مالک کا لاج تک نہیں رکھتا بلکہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں پنجابی وزیر داخلہ کہہ رہے ہیں کہ ان کے منہ پر واشگاف الفاظ میں کہہ دیا "آپریشن ہوگا، جبری گمشدگیاں ہوں گی” جس پر سمی دین نے احتجاج کی، یہ احتجاج نقار خانے میں طوطی کی آواز سہی لیکن پاکستان کے سامنے بلوچ ہونے کا زندہ گواہی تھیی۔

اس فرق تک پہنچنے کے لیے بلوچ کس آتش و آہن کی بارش سے گزرا ہے، حساب کتاب کا موقع نہیں لیکن آج پاکستانی ریاست، میڈیا، ایلیٹ اور مقتدرہ وغیرہ إقرار کر رہے ہیں کہ یہ حقوق کا جنگ نہیں، یہ این ایف سی ایوارڈ کا مسئلہ نہیں، یہ دو وجود کا جنگ ہے اس میں کسی ایک کی کامیابی دوسرے کی وجود کے موجود صورت کا خاتمہ کردے گا اور عالمی سطح پر بلوچ کے بارے تاثر ایک فریق کی حیثیت سے ابھر رہا ہے نہ کہ حقوق کے لیے لڑنے والے، یا ماضی کے پاکستانی غلطیوں سے ناراض نوجوان کی مسلح جدوجہد وغیرہ

ان حملوں کے پہلے دن بی بی سی نے دہشت گرد کا لفظ استعمال کیا لیکن جوں جوں معلومات آتے رہے ہیں، بی بی سی سمیت تمام نشریاتی اداروں نے کہیں عسکریت تو علیحدگی پسند کا اصطلاح استعمال کیا، اکتیس جنوری کو شروع ہونے والے واقعات کو دنیا کے تمام چینلز نے کور کیا، عالمی طاقتوں کے انٹیلی جینس اداروں نے بہر صورت اس کی شدت اور حکمت عملیوں اور اہداف کا جائزہ لیا ہوگا۔

آج پنجابی وہی بول رہا ہے جس کی توقع بلوچ دو عشروں سے کر رہا تھا لیکن پنجابی اپنی زبان سے إقرار کرکے بلوچ قومی تحریک کو اہمیت دینے کا روادار نہیں تھا لیکن جب کاری ضرب پڑی تو چیخ اٹھا، یہ چیخ پنجابی ریاست کی وجود کے بنیادیں ہلانے سے اٹھی ہے، پنجابی کی تاریخ دیکھ کر یہ کہنا مشکل نہیں کہ یہ اعتراف کسی اخلاقی بیداری کا نہیں بلکہ خوف، دباؤ اور کاری ضرب کا نتیجہ ہے اور بلوچ اس کی بڑی قیمت ادا کر رہی ہے۔

گوکہ آج بھی پنجابی ریاست بلوچ قومی تحریک کے پراکسی یا دہشت گردی جیسے ریاستوں کے منشا اور وجود کے خلاف جانے والی اصطلاح استعمال کر رہا ہے لیکن یہ اعتراف ثابت کرتا ہے کہ اب بیانیے یا فوجی نقطہ نظر سے دفاعی پوزیشن پر چلا گیا ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں پنجابی شکست کھا چکا ہے بلکہ اس پوزیشن پر پاکستان عملی طور پر زیادہ جارح ہوگی، یہ جارحیت نہتے لوگوں کی خلاف ہوگی۔

بلوچ آج جنگی سماج میں تبدیل ہو رہا ہے، جنگ اور معرکہ آرائی ہمیشہ سے انسانی جذبات کو برانگیختہ کرتے ہیں بڑے واقعات سے جذبات کی شدید لہریں امڈ آتی ہیں، سماج کا بڑا حصہ جذبات میں بہہ سا جاتا ہے اور یہیں "ہائپ” جنم لیتی ہے، درد مندانہ گزارش ہے کہ بلوچ نوجوان اور بلوچ دانش "ہائپ” سے بچیں، ہمیں جوش و جذبات میں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ کروڑوں بلوچوں کو ہم فی الحال تحفظ دینے کے مقام پر نہیں پہنچے ہیں، ابھی وہ مقام دور ہے، ابھی کروڑوں بلوچ اسی ریاست کے بندوبست میں زندگی کر رہے ہیں اور ریاست نے واضح طور پر "اجتماعی سزا” کا اعلان کیا ہے، اب یہ ریاست مزید خون ریزی کرے گا اور یہ خون ریزی اور سزا سرمچار کے خلاف کم سماج کے خلاف ہوگا۔

بیس سالہ تجربہ ثابت کرچکا ہے کہ پاکستان سرمچار کے خلاف اپنی تمام تر عسکری حربے آزما چکا ہے، تمام حربے ناکامی سے دوچار ہیں کیونکہ بلوچستان کی جغرافیہ اتنی وسیع اور گوریلا پر اتنا مہربان ہے کہ تجربہ کار فوج، جدید عسکری ٹیکنالوجی، امریکہ، چین سمیت دفاعی شعبوں میں ترقی یافتہ ممالک سے فوجی اشتراک کے باوجود ریاست پاکستان بلوچ سرمچار کے خلاف ہزایمت سے دوچار ہے، یہی بنیادی وجہ ہے کہ ریاست اپنی شکست و ہزیمت کا بدلہ عام بلوچ سے لے رہا ہے، اپنی غصہ نہتے لوگوں پر نکال رہا ہے، ریاستی پالیسی کے طور پر اعلان کے بعد یہ واضح ہوچکا ہے کہ اجتماعی سزا کا بار عام بلوچ پر آئے گا، خواتین پر آئے گا، اب پاکستان پہاڑی سلسلوں، دیہی علاقوں اور شہروں میں کوئی فرق روا رکھے بغیر تباہی کرے گا۔

اس پوزیشن پر”ہائپ” سے متاثر ہونا ہمیں تلخ زمینی حقائق سے غافل کرسکتا ہے، یہ سوچنے کا مقام ہے، یہ اپنی فرائض یاد رکھنے کا مقام ہے کیونکہ قومی نجات سے قبل قدم قدم پر ہمیں تلخ اور بے رحم زمینی حقائق سے روبرو ہونا پڑتا ہے، اس سے انحراف اور فرار دونوں ناممکن ہیں، لہٰذا جب تک ہماری طاقت پاکستان کے برابر یا اس سے زیادہ نہیں ہوگا، پاکستان عام آبادیوں اور نہتے لوگوں کو تیزی اور مزید درندگی سے سے نشانہ بنائے گا، ایسے عالم میں متاثرین کی کون زبان و سیاسی آواز بنے گا، کون جبری گمشدگاں کی یافت کے لیے جدوجہد کرے گا، کون عالمی اداروں تک بلوچ درد کی داستان پہنچائے گا یا رسائی حاصل کرے گا، کون چیختی چلاتی ماؤں کی صدا بنے گا۔ جس رفتار سے پاکستان کی سفاکیت بڑھے گا اسی تناسب سے سیاسی ورکر کے فرائض میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مظلوم اور نسل کشی سے دوچار قوم کے ذمہ دار سیاسی ورکر کی حیثیت سے ہمیں "ہائپ” کا شکار نہیں بننا چاہئے بلکہ اپنی اپنی ذمہ داریوں کا بار اٹھانا چاہئے ، یہ ہمارا قومی ذمہ داری ہے، یہ ہمارا انسانی ذمہ داری ہے، یہ ہم پر فرض ہے اور شہدا کا ہم پر قرض بھی۔

مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

پانک کی سال 2025 کی رپورٹ: پاکستانی فوج کے ہاتھوں بلوچستان میں 225 افراد ماورائے عدالت قتل اور 1355 جبری لاپتہ

منگل فروری 10 , 2026
بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے انسانی حقوق کے ادارے پانک نے اپنی سالانہ رپورٹ جاری کی ہے۔ پانک کی سالانہ انسانی حقوق رپورٹ کے مطابق، 2025 میں بلوچستان میں پاکستانی فوج نے 225 افراد کو ماورائے عدالت قتل کیا جبکہ 1355 افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ