محمود خان اچکزئی کا بیان اور حقیقت

تحریر: قدیر بلوچ

حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر ایک بیان بہت تیزی سے وائرل ہوا، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پشتون قوم کے ایک جانے مانے رہنما اور پاکستان کی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پاکستان آئین تحفظ موومنٹ کے سربراہ محمود خان اچکزئی یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں:

"کسی بھی بلوچ سردار یا کسی بلوچ وڈیرے کا کوئٹہ میں دس ایکڑ زمین بھی نہیں ہے”

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب بلوچستان کے حالات انتہائی کشیدہ تھے۔ مسلح افراد اور سیکیورٹی فورسز بلوچستان کے کئی شہروں میں آمنے سامنے تھے اور اسی تناظر میں پاکستان کی قومی اسمبلی کا ایک ہنگامی اجلاس بلایا گیا، جس میں متعدد ارکانِ قومی اسمبلی نے شرکت کی اور بلوچستان کی صورتِ حال پر اظہارِ خیال کیا۔

پاکستانی زیر انتظام بلوچستان کے دالحکومت کوئٹہ

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب بھی بلوچستان کے معاملے پر قومی اسمبلی میں ہنگامی اجلاس یا کسی کمیٹی کا اجلاس بلایا جاتا ہے تو زیادہ تر وہ لوگ گفتگو کرتے ہیں جن کا نہ تو بلوچستان سے براہِ راست تعلق ہوتا ہے اور نہ ہی انہیں بلوچستان کے مسائل کا حقیقی ادراک ہوتا ہے۔ چند ایک افراد کے سوا، جو خود بلوچ ہوتے ہوئے بھی اس مسئلے میں سنجیدہ دلچسپی نہیں لیتے۔

اسی وجہ سے نہ بلوچستان کے مسئلے کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے اور نہ ہی اس میں حقیقی دلچسپی دکھائی جاتی ہے۔ بلکہ اکثر اسے صرف روزگار اور بھوک کا مسئلہ قرار دے کر معاملات کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اب ہم دوبارہ محمود خان اچکزئی کے حالیہ بیان کی طرف آتے ہیں۔ جب انہیں اظہارِ خیال کا موقع ملا تو انہوں نے بڑے جوش و ولولے سے وہی بات دہرائی کہ بلوچوں کی کوئٹہ میں دس ایکڑ زمین بھی نہیں ہے۔ کچھ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ بات انہوں نے جذباتی انداز میں کہی، لیکن حقیقت میں دیکھا جائے تو یہ بیان نہ تو جذباتی تھا اور نہ ہی وہ کوئی جذباتی شخصیت ہیں۔

ہر ہنگامی اجلاس میں اگر اکثریت نہیں تو کم از کم ایک ایسا شخص ضرور ہوتا ہے جو عوامی توجہ کو اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے، چاہے اس کے لیے اسے گھر کی باتیں ہی کیوں نہ کرنی پڑیں۔ اس بار یہ کردار محمود خان اچکزئی نے ادا کیا، اور کوئٹہ میں بلوچ قوم کو مہاجر قرار دینے کی کوشش کی گئی۔

یہاں کچھ نام نہاد بلوچ میر اور سردار بھی اسی بیانیے کو آگے بڑھانے میں لگے ہوئے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ ہم غزنوی دور سے یہاں آباد ہیں، تو کوئی طنزیہ انداز میں کہتا ہے کہ لگتا ہے اچکزئی کا نانا پٹواری تھا۔ یہ بحث ایک ایسا رخ اختیار کر چکی ہے جو عوامی توجہ کو اصل مسائل سے ہٹانے کے مترادف ہے۔

محمود خان اچکزئی گویا تاریخ کو بھی رد کر رہے ہیں۔ یہ بات اس لیے کہنا پڑتی ہے کہ بلوچ اور پشتون دوستی کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ دونوں اقوام صدیوں سے ہمسائے ہیں اور ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے کام آئے ہیں۔ ہم بہت پیچھے ماضی میں نہیں جائیں گے بلکہ ماضی قریب کی ایک مثال کافی ہے۔

ستر کی دہائی میں جب نواب خیر بخش مری کے لیے پاکستان میں رہ کر سیاست کرنا اور آزادیٔ وطن کی بات کرنا مشکل ہو گیا تھا تو وہ اپنے قبیلے کے لوگوں کے ہمراہ کوہلو اور کاہان سے ہجرت کر کے افغانستان چلے گئے، جہاں افغان عوام نے انہیں عزت دی، خوش آمدید کہا اور اپنے سینے سے لگایا۔ نواب خیر بخش مری اپنے قبائل کے ہمراہ طویل عرصے تک افغانستان میں مقیم رہے۔ آخرکار 1993ء میں وہ واپس بلوچستان آئے اور اپنی جدوجہد جاری رکھی۔

اسی طرح جب امریکہ نے افغانستان میں مداخلت کی تو عام افغان شہری کے لیے وہاں رہنا ناممکن ہو گیا اور انہوں نے بلوچستان کا رخ کیا۔ بلوچوں نے انہیں جگہ دی، عزت دی۔ کوئٹہ سے لے کر گوادر تک، مستونگ سے کراچی اور پورے نصیر آباد و سبی میں افغان آباد ہوئے۔ بلوچوں نے کبھی انہیں اپنی سرزمین سے نکالنے کی دھمکی نہیں دی اور نہ ہی زبردستی نکالا۔ بلوچوں نے یہ بھی نہیں کہا کہ یہ ہماری زمین ہے، تم کون ہوتے ہو یہاں رہنے والے۔

لیکن جس ریاست کی قومی اسمبلی میں خود محمود خان اچکزئی رکن ہیں، اسی ریاست نے بے دردی سے افغان شہریوں کو نکالا، ان کے کاروبار چھین لیے، ان کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا گیا، انہیں جیلوں میں ڈالا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور انہیں اپنی جمی جمائی روزگار سے بے دخل کیا گیا۔ اس پر بلوچوں نے مذمت کی، لیکن تب محمود خان اچکزئی نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ پشتونوں کو ان کے آبائی علاقوں سے کیوں نکالا جا رہا ہے۔

لیکن آج، جب عوام کی توجہ مکمل طور پر بلوچستان کے کٹھن حالات پر مرکوز ہے، تو اچکزئی کو یاد آیا کہ یہی موقع ہے کچھ اور بیانیہ بنانے کا۔ اور یوں بلوچوں کو عرب یا ترک نسل سے آیا ہوا مہاجر قرار دینے کی کوشش کی گئی۔

بلوچ اور پشتون دونوں اقوام سے گزارش ہے کہ وہ ان سیاسی بیانیوں اور نفرت انگیز گفتگو کا حصہ نہ بنیں۔ آپ دونوں اقوام مظلوم ہیں، آپ دونوں پر طرح طرح کے ظلم ڈھائے گئے ہیں، اور انہی لیڈروں کی وجہ سے اکثر ظلم کے پہاڑ ٹوٹے ہیں۔

کوئٹہ کس کا ہے؟ یہ اس وقت ایسی بحث ہے جو دونوں مظلوم اقوام کو ایک دوسرے سے دور کرنے اور ایک دوسرے کے خلاف نفرت پھیلانے کی مترادف ہے۔البتہ کوئٹہ یا محمود خان کی خاندانی تاریخ سے آگاہ ہونا چاہتے ہیں تو انور ساجدی کا تازہ کالم ضرور پڑھیں۔

مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

بلوچستان میں جبری گمشدگیاں ، فوج کی شہری آبادیوں پر حملے اور اجتماعی سزاؤں کے خلاف جرمنی میں بی این ایم کا مظاہرہ

پیر فروری 9 , 2026
بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) نے جرمنی کے شہر ٹریئر میں واقع پورٹا نیگرا پلاٹس پر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا، جس کا مقصد بلوچستان میں جاری منظم اور سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا تھا۔ احتجاجی مظاہرے میں انسانی حقوق کے کارکنان اور […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ