
یونائیٹڈ افغان فرنٹ (UAF) نے بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ کے والد محمد بخش ساجدی اور ان کے دو قریبی رشتہ داروں کی مبینہ جبری گمشدگی کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
یونائیٹڈ افغان فرنٹ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، محمد بخش ساجدی، نعیم ساجدی اور رفیق بلوچ کو 2 فروری 2026 کو بلوچستان کے علاقے ہب چوکی میں واقع ان کی رہائش گاہ سے پاکستانی ریاستی سیکیورٹی فورسز نے حراست میں لیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ گرفتاری بغیر کسی الزام، قانونی جواز یا فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کے عمل میں لائی گئی، جس کے بعد سے تینوں افراد کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
یو اے ایف نے اس واقعے کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر نسیم بلوچ اور بلوچ نیشنل موومنٹ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ڈاکٹر نسیم بلوچ ایک پُرامن سیاسی رہنما اور انسانی حقوق کے سرگرم علمبردار ہیں، اور ان کی سیاسی جدوجہد بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے تحت جائز اور محفوظ ہے۔
یونائیٹڈ افغان فرنٹ کے مطابق، ڈاکٹر نسیم بلوچ کے اہلِ خانہ کو نشانہ بنانا بلوچستان میں سیاسی اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے خوف، جبر اور ہراسانی کے ایک وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔
بیان میں اقوامِ متحدہ کے ورکنگ گروپ برائے جبری یا غیر رضاکارانہ گمشدگیاں (WGEID)، دفترِ اقوامِ متحدہ برائے ہائی کمشنر انسانی حقوق (OHCHR)، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ، برطانوی پارلیمنٹ اور یورپی پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیں اور محمد بخش ساجدی، نعیم ساجدی اور رفیق بلوچ کی محفوظ، غیر مشروط اور فوری رہائی کو یقینی بنائیں۔
یونائیٹڈ افغان فرنٹ نے زور دیا کہ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ خطے میں امن، انصاف اور انسانی وقار کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے اور عالمی برادری کی خاموشی ایسے اقدامات کو مزید تقویت دے سکتی ہے۔
