کوئٹہ، وڈھ اور اورناچ میں حملے، نوشکی میں سیکیورٹی صورتِ حال بدستور کشیدہ

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں حالیہ مسلح کارروائیوں اور سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز کے باوجود صوبے کی مجموعی صورتِ حال بدستور کشیدہ ہے، جبکہ کئی علاقوں میں بے یقینی برقرار ہے۔

تازہ اطلاعات کے مطابق نوشکی کے علاقے احمد وال میں بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے ایک فوجی کیمپ اور قریبی پوسٹوں پر کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ احمد وال نوشکی شہر سے تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس سے قبل گلنگور کے علاقے میں بھی ایک مرکزی کیمپ پر کنٹرول حاصل کرنے اور وہاں موجود اسلحہ و جنگی سامان تحویل میں لینے کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں، جو نوشکی سے تقریباً 34 کلومیٹر دور ہے۔

ادھر پانچویں روز بھی نوشکی شہر میں حالات معمول پر نہیں آ سکے۔ شہر میں فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، تاہم انٹرنیٹ سروس معطل ہونے کے باعث معلومات کی بروقت تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔

واضح رہے کہ بلوچ لبریشن آرمی نے ہفتے کی صبح بلوچستان کے 12 شہروں میں بیک وقت حملوں کا آغاز کرتے ہوئے اپنے آپریشن “ہیروف” (کالی آندھی) کا اعلان کیا تھا۔ اس آپریشن کے تحت کوئٹہ، نوشکی، دالبندین، خاران، مستونگ، قلات، خضدار، گوادر، پسنی، تربت، تمپ سمیت مختلف علاقوں میں کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

دوسری جانب کوئٹہ کے مشرقی بائی پاس کے قریب گزشتہ شب شدید فائرنگ اور دھماکے کی آوازوں سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ تاحال واقعے کی نوعیت اور نقصانات سے متعلق سرکاری طور پر تفصیلات جاری نہیں کی جا سکیں۔

اسی طرح خضدار کے علاقوں وڈھ اور اورناچ میں بھی مسلح افراد کی جانب سے حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جہاں شدید فائرنگ اور بھاری ہتھیاروں کے استعمال کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق جانی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کی باضابطہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

اطلاعات کے مطابق بعض شاہراہوں پر مسلح افراد کی جانب سے ناکہ بندی کی گئی، جس کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے احتیاطی تدابیر کے تحت ٹرانسپورٹ عارضی طور پر روک دی ہے اور شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔

مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

بی این ایم چیئرمین کے والد اور دیگر عزیزوں کی جبری گمشدگیاں بلوچ قوم کے خلاف اجتماعی سزا کا تسلسل ہیں۔ ترجمان، بی این ایم

بدھ فروری 4 , 2026
بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے ترجمان نے کہا ہے کہ بی این ایم کے چیئرمین کے والد اور قریبی عزیزوں کی جبری گمشدگیاں کوئی منفرد یا الگ تھلگ واقعہ نہیں، بلکہ یہ اس منظم پالیسی کا حصہ ہیں جس کے تحت دہائیوں سے بلوچ قوم کو اجتماعی سزا […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ