
بلوچستان بھر میں سکیورٹی صورتحال بدستور انتہائی کشیدہ ہے۔ ہفتے کے روز مستونگ اور گوادر میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں علی الصبح مختلف علاقوں میں حملوں اور جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔ پولیس ذرائع کے مطابق کوئٹہ ہاکی گراؤنڈ کے قریب پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے ایک واقعے میں ڈی ایس پی کوئٹہ سمیت درجنوں اہلکار ہلاک ہوئے۔
واقعے میں ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی نمازِ جنازہ پولیس لائن کوئٹہ میں ادا کی گئی۔ نمازِ جنازہ میں وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، کور کمانڈر بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمد خان، آئی جی پولیس بلوچستان، صوبائی وزراء، اراکینِ اسمبلی اور دیگر اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔
دوسری جانب سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کوئٹہ سمیت کئی اضلاع میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے، حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات جبکہ داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی کی گئی ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں۔
