
بلوچ نیشنل موومنٹ کے سیکریٹری جنرل دل مراد بلوچ نے شہید بانک زامر بگٹی کی 14ویں یومِ شہادت کے موقع پر انہیں اور ان کے ساتھ شہید ہونے والی کمسن جاناں ڈومکی اور ڈرائیور برکت کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کی آزادی، عزت اور انسانی وقار کے لیے جان نچھاور کرنے والے شہداء نے نہ صرف بلوچ قومی تحریک کو مضبوط بنیادیں فراہم کی ہے بلکہ پاکستان کی حیوانیت اور بلوچ نسل کشی کو عیاں کردیا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ شہداء کی قربانیاں محض تاریخ کا ایک باب نہیں بلکہ ایک زندہ عہد ہیں، جو ہر نسل کو یہ یاد دہانی کراتے ہیں کہ آزادی کے راستے میں سب سے بڑی قوت سچائی، ثابت قدمی اور مسلسل مزاحمت ہے۔
دل مراد بلوچ نے کہا کہ 31 جنوری 2012 کو کراچی گزری میں پاکستانی فوج سے وابستہ خفیہ اداروں نے گھات لگا کر زامر بگٹی کو نشانہ بنایا۔ اس سفاکانہ حملے میں زامر بگٹی، ان کی تیرہ سالہ بچی جاناں ڈومکی اور ڈرائیور برکت شہید ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ بانک زامر بگٹی کی قتل میں ایک عنصر یہ بھی تھا کہ وہ شہید نواب اکبر خان بگٹی کی پوتی اور براہمدگ بگٹی کی ہمشیرہ تھیں لیکن بانک زامر بگٹی محض ایک گھریلو خاتون نہ تھیں بلکہ قوم پرستانہ سوچ کے مالکن اور بلوچ جہدکاروں اور پاکستانی سفاکیت سے متاثرین کی مدد کرنے والی متحرک خاتون تھیں۔ انہیں اس کی سزا قتل کی صورت میں دی گئی۔
دل مراد بلوچ نے مزید کہا کہ بانک زامر بگٹی، ان کی کمسن بیٹی اور ڈرائیو کی شہادت بلوچ قوم کے خلاف اجتماعی سزا کی اس پالیسی کا حصہ تھا، جس کے تسلسل میں ریاست پاکستان نے ایک خاتون کو بچوں سمیت قتل کردیا۔
بیان میں کہا گیا کہ بلوچ نیشنل موومنٹ اس موقع پر شہید زامر بگٹی، جانان ڈومکی اور برکت شہید کو خراج پیش کرتا ہے اور بلوچ قوم کو یقین دلاتی ہے کہ شہداء کے لہو کی حرمت ہماری جدوجہد کا مرکز اور ہماری منزل بلوچ قومی آزادی ہے۔
