
پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے دعویٰ کیا ہے کہ 29 جنوری 2026 کو بلوچستان میں کیے گئے دو الگ الگ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران مجموعی طور پر 41 افراد مارے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پہلا آپریشن ضلع ہرنائی کے مضافاتی علاقے میں کیا گیا، جہاں شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 30 افراد ہلاک ہوئے۔ فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ کارروائی کے دوران بڑی مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ دوسرا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ضلع پنجگور میں کیا گیا، جس کے نتیجے میں 11 افراد مارے گئے۔
تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور نہ ہی کسی مسلح تنظیم کی جانب سے ان ہلاکتوں کی تصدیق یا ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔
دوسری جانب علاقائی ذرائع نے ماضی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ اس سے قبل بھی آئی ایس پی آر کے بعض دعوے متنازع ثابت ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق بعض مواقع پر جبری طور پر لاپتہ افراد کو ہلاک کر کے انہیں مسلح افراد ظاہر کرنے کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں، جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ پہلے سے حراست یا جیلوں میں تھے۔
ان حالیہ واقعات کے حوالے سے بھی آزاد ذرائع سے تصدیق ہونا باقی ہے۔
