
میں یہ کھلا خط ایک سیاسی کارکن، انسانی حقوق کے محافظ، اور ایک ایسے عوام کے نمائندے کی حیثیت سے لکھ رہا ہوں جو دہائیوں سے پاکستانی ریاست کے مسلط کردہ قبضے، جبر اور خاموشی کا سامنا کر رہے ہیں۔
ایمان مزاری اور ان کے شوہر و قانونی وکیل، ایڈووکیٹ ہادی چٹھہ کی حالیہ غیرقانونی اور ناجائز گرفتاری محض دو افراد پر حملہ نہیں ہے۔ یہ سچ پر، قانونی پیشے پر، اور پاکستان میں ریاستی جرائم کے خلاف آواز بلند کرنے والوں پر براہِ راست حملہ ہے۔
پاکستان آج بھی بلوچستان کا قابض اور نوآبادیاتی حکمران ہے، جہاں جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل، من مانی گرفتاریاں اور تشدد ایک معمول بن چکے ہیں۔ ہزاروں بلوچ مرد، عورتیں اور بچے پاکستانی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں اغوا ہو چکے ہیں، بہت سے کبھی واپس نہیں آئے، جبکہ بعض کی مسخ شدہ لاشیں ویران علاقوں سے برآمد ہوئیں۔ اس خوف کے ماحول میں خاموشی تشدد کے ذریعے مسلط کی جاتی ہے۔
ایمان مزاری نے خاموش رہنے سے انکار کیا۔
وہ ان چند جرات مند آوازوں میں شامل ہو گئیں جو مسلسل جبری گمشدگیوں کے متاثرین، خصوصاً بلوچ، پشتون اور دیگر محکوم اقوام کے لیے بولتی رہیں۔ انہوں نے پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کی بے لگام طاقت کو للکارا، غیرقانونی حراستوں پر سوال اٹھائے، اور ان خاندانوں کے شانہ بشانہ کھڑی رہیں جو برسوں، بلکہ دہائیوں سے اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر ہیں۔
اسی جرات کی انہیں سزا دی جا رہی ہے۔
ایڈووکیٹ ہادی چٹھہ کا “جرم” بھی اتنا ہی واضح ہے: انہوں نے قانون کا ساتھ دیا اور جرائم کے خلاف کھڑے ہوئے۔ انہوں نے ایک ایسے نظام میں بنیادی حقوق کا دفاع کیا جہاں قانون فوجی احکامات کے تابع ہے۔ ان کی گرفتاری اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ اگر کوئی وکیل بھی ریاستی جبر کے آگے سر جھکانے سے انکار کرے تو وہ پاکستان میں محفوظ نہیں رہتا۔
اس واقعے کو اس کے درست تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ پاکستان انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں حادثاتی طور پر نہیں کرتا بلکہ خاص طور پر بلوچستان جیسے مقبوضہ علاقوں میں یہ عمل منظم اور ریاستی پالیسی کے تحت ہوتا ہے۔ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی گرفتاری اسی پالیسی کا تسلسل ہے جو اختلافِ رائے کو جرم بناتی، مزاحمت کو کچلتی اور متاثرین کی آوازوں کو مٹاتی ہے۔
بین الاقوامی برادری سے میں واضح طور پر کہتا ہوں:
خاموشی غیرجانبداری نہیں رہی، یہ شراکتِ جرم بن چکی ہے۔
پاکستان بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں کا دستخط کنندہ ہے، اس کے باوجود وہ اظہارِ رائے کی آزادی، قانونی دفاع کے حق اور من مانی گرفتاری سے تحفظ جیسے بنیادی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکن جیلوں میں ڈالے جا رہے ہیں۔ صحافی اغوا ہو رہے ہیں۔ وکلاء کو دھمکایا جا رہا ہے۔ پاکستان کے اندر مقبوضہ تمام قوموں کو غلاموں کی طرح برتا جا رہا ہے۔
میں مطالبہ کرتا ہوں:
اقوامِ متحدہ اور اس کے خصوصی نمائندگان
بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں
عالمی بار ایسوسی ایشنز اور قانونی ادارے
جمہوری حکومتیں اور دنیا بھر کی سول سوسائٹی
ان گرفتاریوں کی غیرمشروط مذمت کریں اور ایمان مزاری اور ایڈووکیٹ ہادی چٹھہ کی فوری اور غیرمشروط رہائی کا مطالبہ کریں۔
لاپتہ افراد کے لیے بولنے والی آوازوں کو ہتھکڑیوں اور قید خانوں سے خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک بلوچستان مقبوضہ رہے گا، مزاحمت کی آوازیں بلند ہوتی رہیں گی۔
انصاف میں تاخیر، ناانصافی کو دوام دیتی ہے، اور اب دنیا مزید نظریں نہیں چرا سکتی۔
ڈاکٹر نسیم بلوچ
چیئرمین
بلوچ نیشنل موومنٹ (BNM)
