
کوئٹہ میں شدید سردی اور برفباری کے باوجود بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیر اہتمام احتجاجی کیمپ پیر کے روز 6060ویں دن بھی جاری رہا۔ احتجاجی کیمپ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کی قیادت میں لگایا گیا ہے۔
وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے اپنے بیان میں کہا کہ تنظیم گزشتہ 16 برسوں سے پرامن اور آئینی دائرے میں رہتے ہوئے جبری گمشدگیوں کے خلاف جدوجہد کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم کا مطالبہ ہے کہ پاکستان بالخصوص بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے قانون اقدامات کا مکمل خاتمہ کیا جائے اور تمام لاپتہ افراد کو منظر عام پر لا کر انہیں قانونی حقوق فراہم کیے جائیں۔
نصراللہ بلوچ کا کہنا تھا کہ گزشتہ 16 سال کے دوران تنظیم نے انصاف کی فراہمی کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے دروازے کھٹکھٹائے اور مختلف وفاقی و صوبائی حکومتوں سے متعدد ملاقاتیں کیں، تاہم ہر بار یقین دہانیوں کے باوجود عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ملکی سلامتی کو جواز بنا کر ادارے قوانین اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہے ہیں اور جبری گمشدگیوں میں تیزی آ چکی ہے۔ ان کے مطابق اب بلوچ خواتین کو بھی جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو ایک غیر جمہوری عمل اور بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
وی بی ایم پی کے چیئرمین نے حکومت اور ملکی اداروں کے سربراہوں سے مطالبہ کیا کہ جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دیکھا جائے، کیونکہ ایک فرد کی گمشدگی پورے خاندان کو ذہنی اذیت اور کرب میں مبتلا کر دیتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس سنگین انسانی مسئلے کے حل کے لیے فوری اور عملی اقدامات کیے جائیں۔
