
کوئٹہ: بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ 6058ویں روز میں داخل ہوگیا۔ اس موقع پر مستونگ میں مبینہ فیک انکاونٹر میں قتل کیے گئے نوجوانوں کے لواحقین نے احتجاجی کیمپ میں شرکت کی اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔
لواحقین نے وی بی ایم پی کو بتایا کہ مستونگ کے علاقے دشت میں 19 جنوری کو سی ٹی ڈی کی جانب سے پانچ افراد کو مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا، تاہم ان میں شامل تین لاشوں کی شناخت ضلع قلات کے علاقے جوہان، نرمک کے رہائشی اسلم ولد کنڑ خان لہڑی، غلام حسین لہڑی اور شاہ مراد ولد نوکر خان لہڑی کے نام سے ہوئی، جنہیں ایک سال قبل سیکورٹی فورسز نے حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کیا تھا۔
وی بی ایم پی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ اور مرکزی سیکرٹری حوران بلوچ نے دو روزہ کوششوں کے بعد بلوچ نوجوانوں کی لاشیں سی ٹی ڈی سے وصول کیں اور لواحقین کے حوالے کرکے تدفین کے لیے ان کے آبائی علاقے جوہان، نرمک روانہ کردیا، تاکہ انہیں عزت و احترام کے ساتھ سپرد خاک کیا جاسکے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ مستونگ میں قتل ہونے والے چوتھے شخص کی شناخت بھی پہلے سے جبری لاپتہ عبدالمطلب کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ ایک لاش تاحال سول ہسپتال میں موجود ہے، جس کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ وہ بھی پہلے جبری لاپتہ تھا اور بعد میں فیک انکاونٹر میں قتل کیا گیا۔
وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ سیکورٹی فورسز کا مقابلے میں ہلاکتوں کا دعویٰ حقائق کے برعکس ہے۔ ان کے مطابق پہلے سے جبری لاپتہ بلوچ نوجوانوں کو ماورائے قانون قتل کرکے لاشیں پھینک دی گئیں، جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی فرد کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہے تو اسے عدالت میں پیش کرکے قانون کے مطابق سزا دی جائے، نہ کہ فیک انکاونٹرز میں قتل کیا جائے۔
نصراللہ بلوچ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مستونگ فیک انکاونٹر کا فوری نوٹس لیا جائے، ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور واقعے کی اصل حقیقت عوام کے سامنے لائی جائے تاکہ آئینی ذمہ داریاں پوری کی جاسکیں۔
