
تحریر: محمد یوسف بلوچ
ہم نے کئی پدرشاہی سماجی و تاریخی کتابوں میں پڑھا ہے اور رِندی و کلاسیکی شاعری سے سینہ بہ سینہ سنا ہوگا کہ جب کسی محکوم قوم کی خواتین باشعور بن کر فرسودہ سماجی بندشوں سے بغاوت کو اپنا قومی فریضہ سمجھتی ہیں، اور قومی بقا، غلامی کے خلاف اپنی مادرِ وطن اور شناخت کے دفاع میں ڈھاڈری بندوق، تلواریں اور گھوڑوں کی رکاب تھام کر اٹھ کھڑی ہوتی ہیں، تو وہ مسلح مزاحمتی اور شعوری سیاسی جدوجہد میں مردوں کے شانہ بشانہ برسرِ پیکار ہوتی ہیں۔
ایسی جدوجہد میں خواتین اپنے قومی فرائض نبھاتے ہوئے اپنی جانیں نچھاور کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہی ہیں۔ تاریخِ عالم اس بات کی گواہ ہے کہ جب تک خواتین کسی تحریکی جدوجہد کا حصہ نہ بنیں، وہ جدوجہد اپنی منزل تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ خواتین پدرشاہی سماج میں محکوم اقوام کی آبادی کا پچاس فیصد سے بھی زیادہ حصہ ہیں۔ اگر اتنی بڑی تعداد قومی جدوجہد میں اپنا کردار اور فرائض نبھانے کے لیے عملی میدان میں قدم نہ رکھے، تو مردوں کو منزل پانے میں بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور بے پناہ قربانیوں کے باوجود مقاصد کا حصول ناممکن ہو جاتا ہے۔
غلامی کے خلاف لڑنا اور جدوجہد کرنا غلام قوموں کے ہر باشعور فرد پر ایک اجتماعی فریضہ ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ صرف مرد حضرات میدانِ جنگ میں قربانیاں دیں اور خواتین گھروں میں بیٹھ کر چار دیواری کے اندر اپنے پیاروں کی یاد میں ماتم کرتی رہیں۔ تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ دنیا کی تحریکوں میں خواتین نے جدوجہدِ آزادی کے سفر میں ہمیشہ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر پدرانہ سماج میں یلغار کرنے والوں کے خلاف نہ صرف مزاحمت کی بلکہ شکست خوردہ لشکروں کا حوصلہ بن کر قیادت بھی کی ہے۔
بلوچ قوم کی شیر زالوں نے بھی اسی پدرانہ سماج میں رہتے ہوئے زمانۂ قدیم سے اپنی چوڑیاں توڑ کر ڈھاڈری بندوق اور شمشیری تلواروں کو ہاتھوں کا زیور بنایا، اور غلامی کے خلاف اپنے سے کئی گنا زیادہ طاقتور دشمنوں سے بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا۔ انہوں نے تاریخ میں اپنے لہو سے وہ مقام پایا کہ دنیا بھر میں سرخرو ہوئیں، اور یہ ثابت کر دکھایا کہ بلوچ زالبوال ایک جنگجو کی طرح اپنی بقا اور شناخت کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر دشمن کو شکستِ فاش دے سکتی ہیں۔
جن بلوچ زالبوں نے میدانِ جنگ میں دشمنوں کے ساتھ بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا، اُن میں بانک گل بی بی، بانک بانڑی، بانک بیبو یا بانک نانی بی بی، بانک حانی اور کئی گمنام شیرزالیں شامل ہیں۔ انہوں نے دو بدو لڑ کر قابض اور یلغار کرنے والی طاقتور افواج کو شکست دی۔ دشمن بھی ان کی جنگی داستانوں اور بہادری کی تعریف کرنے پر مجبور ہوئے، مگر بے رحم اور درباری مورخوں نے بلوچ تاریخ کو مسخ کر کے ان شیرزالوں کے کردار اور جنگی صلاحیتوں کو پردۂ خفا میں ڈال کر گمنام اندھیروں میں دفن کر دیا۔
اگرچہ ان کی مدِ مقابل قوتیں نسبتاً باضمیر اور جرات مند دشمن تھیں، جنہوں نے اپنے مقابل جنگجوؤں کے کردار اور بہادری کی داستانیں سرسری ہی سہی، مگر قلم بند کر کے بلوچ نسل کو ان سے آشنا ضرور کیا۔ مگر افسوس کے ساتھ آج مجھے قلم اٹھاتے ہوئے یہ کہنا پڑتا ہے کہ آج ہمارا سامنا ایک ایسی سفاک، بزدل، مردہ ضمیر، مکار اور غیر مہذب دشمن سے ہے، جس کی فطرت میں انسانیت نام کی کسی شے کا کوئی وجود نہیں۔
آج جب بلوچ بہادر بیٹیوں نے اپنی قومی غلامی کے خلاف شعوری و فکری جدوجہد میں قومی تحریک کو اپنے بہتے ہوئے لہو سے سرسبز و شاداب سمت بخشی ہے، اُن میں لمہ بانک کریمہ، بانک شاری، بانک ماہل، بانک صیمیہ، بانک ترانگ ماہو اور دیگر شیرزالوں اور نوجوانوں کی جندری نے قومی تحریک کو نئے سرے سے منظم کر کے جلا بخشی ہے۔ جن کا جنگی اور سیاسی کردار ڈاکٹر جلال بلوچ نے اپنی تحریر کردہ کتاب (عورت اور سماج) میں حرف بہ حرف خوبصورت انداز میں قلم بند کر کے بیان کیا ہے۔
غیر مہذب پنجابی ریاست اور اس کے کاسہ لیس ہلکار اپنی سفاکیت اور جبر کی تلوار سے بلوچ نسل کشی، مسخ شدہ لاشوں، جبری گمشدگیوں اور قید و بند کے خوف کے ذریعے بلوچ شیرزال بیٹیوں کو زیر کرنے کے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں، اور اپنی ایٹمی قوت کے سہارے سفاکیت آزما رہے ہیں۔ لیکن بلوچ شیرزال بیٹیاں اپنی قومی بقا اور شناخت کے دفاع کے لیے جدوجہدِ آزادی میں فکر و شعور سے سرشار ہو کر ایک قدم بھی پیچھے ہٹنے سے گریزاں ہیں، اور اپنے آباؤ اجداد کے تاریخی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے دشمن کو ناخن چھبنے پر مجبور کر رہی ہیں۔
حالیہ بلوچ تحریکِ آزادی نظریاتی اور شعوری بنیادوں پر ایک مضبوط تنظیمی و ادارہ جاتی ڈھانچے میں ڈھل کر سیاسی اور مسلح مزاحمتی میدان میں نئی حکمتِ عملی کے ساتھ شدت سے اپنی منزل کی جانب گامزن ہے۔ اس جدوجہد میں بلوچ شیرزالوں کے کلیدی کردار سے انکار کرنا صریح ناانصافی ہوگی۔ اس تحریکی جدوجہد میں بلوچ شیرزالوں کی جرات مندانہ اور سیاسی و مزاحمتی داستانوں نے تحریک میں نئی روح پھونک دی ہے، جس کے باعث دشمن ظلم و جبر میں وحشیانہ حد تک جا پہنچا ہے۔
اب جبکہ بلوچ شیرزالیں اپنے قومی مقاصد کے حصول کے لیے نئی مزاحمتی راہیں تلاش کر چکی ہیں، دشمن کی نظروں میں بلوچ کا ہر دس سالہ بچہ اور بچی، پیر و کماش اور خواتین بھی بمبارمنٹ اور سرمچار کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ دشمن کو اپنی غیر فطری ریاستی جابرانہ قوت اور قبضہ گیر نظام کی موت اسی متحرک نظریاتی اور شعوری جدوجہد میں نظر آنا ایک فطری عمل ہے۔ ایسی جدوجہد جس میں بلوچ زالبوں، پیر و کماش اور نوجوانوں کے لہو کی سرخی شامل ہو، دشمن کے لیے اپنی موت کو ناگزیر بنا دیتی ہے۔
بدقسمتی سے اس انقلابی دور میں، جب باشعور بلوچ شیرزال بیٹیاں مسلح اور سیاسی جدوجہد میں کلیدی کردار ادا کرنے میں سب سے آگے ہیں، ہماری دانشور لکھاری، ادیب، انقلابی سیاسی پارٹیوں کی قیادت اور جہدکار بلوچ بیٹیوں کے جرات مندانہ کردار کو پسِ پشت ڈال کر اپنی بالادستی اور پدرشاہی بدبودار حیثیت کو برقرار رکھنے میں مصروف ہیں۔ یہ طرزِ عمل تحریک کی دیمک بن کر بلوچ بیٹیوں کے فعال کردار کو مسخ کرنے کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔
تاریخ یہ ثابت کر چکی ہے کہ انقلابی حضرات ہمیشہ انقلاب کا آغاز اپنے گھروں سے کرتے ہیں اور سماجی دائرے کو انقلابی اقدار مہیا کرتے ہیں۔ مگر ہم دیکھ رہے ہیں کہ بلوچ انقلابی لیڈرشپ اور جہدکار انقلابی سوچ کو اپنے آنگن سے دور دیکھنے کی آرزو رکھتے ہوئے خود کو انقلابی تصور کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں اور تاریخی حقائق سے چشم پوشی اختیار کرتے ہیں۔ اکثر ہماری تحریک میں لیڈرشپ اور انقلابی جہدکاروں کے گھروں میں انقلابی سوچ اور تحریک میں عملی کردار نہ ہونے کے برابر ہے، جو صرف چند باشعور انقلابی گھرانوں میں ہی نظر آتا ہے۔
ان گھرانوں کا تذکرہ ڈاکٹر جلال بلوچ اپنی کتاب عورت اور سماج میں بارہا کر چکے ہیں۔ میں ڈاکٹر صاحب کے نظریات سے اتفاق کرتے ہوئے یہ لکھنے سے عار محسوس نہیں کرتا کہ بلوچ ذمہ دار لیڈرشپ نے اپنی شخصیات سنوارنے کو ہی کامیابی سمجھ لیا ہے اور بلوچ قوم کو سبز باغ دکھانے میں مصروف ہے۔ اپنی کمزوریوں کا بوجھ ہمیشہ زالبولوں اور سماج کے فرسودہ نظام پر ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار دیا جاتا ہے، مگر تاریخ کی بے رحم تلوار کی نوک سے کوئی نہیں بچ سکتا۔
بلوچ قومی تحریک میں ہمیشہ پارٹی لیڈروں نے خواتین کو ہڑتالوں اور جلسہ جلوسوں کی رونق بنا کر اپنی قیادت نما چہرے چمکانے کے لیے استعمال کیا، مگر بلوچ بیٹیوں کو اس قومی جدوجہد میں مرکزی حیثیت دینے سے غفلت برتی گئی۔ یہ غفلت مرکز سے لے کر زون، ریجن اور علاقائی یونٹوں کی لیڈرشپ میں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔
میرے لکھنے کا مقصد صرف مرکزی لیڈرشپ پر تنقید نہیں، بلکہ مرکز سے لے کر زون، ریجن، علاقائی یونٹوں کی قیادت، برسرِ پیکار جہدکاروں اور ہم سب کی قومی ذمہ داریوں کی نشاندہی کرنا ہے۔ قومی تحریک اور انقلابی سوچ کا آغاز ہمیشہ اپنے اندر اور اپنے گھر کی چار دیواری سے ہونا چاہیے، تاکہ سماج کو اس تحریکی سفر میں ہمسفر بنایا جا سکے۔
میں نے اپنے طویل سیاسی سفر میں پہلی بار شہید چیئرمین غلام محمد بلوچ کی قیادت میں 30 اپریل تا 2 مئی 2004 کو منعقدہ بی این ایم کے انقلابی نئے سفر کے آغاز میں یک قومی کونسل سیشن کے دوران بلوچ خواتین کونسلران کی کثیر تعداد دیکھ کر انقلاب کی خوشبو محسوس کی۔ اسی سیشن میں پہلی بار بلوچ قومی تحریک میں کئی بلوچ شیرزالبول کونسلران کی موجودگی میں بانک نازیہ بلوچ کو مرکزی کمیٹی کی رکن منتخب کیا گیا، جس کی گواہی اس سیشن میں موجود کونسلران دے سکتے ہیں۔
بعد ازاں 2014 کے منعقدہ سیشن میں بھی چیئرمین خلیل بلوچ کی رہنمائی میں آواران اور کیچ ریجنز سے تقریباً 50 سے 60 زالبول کونسلران کی موجودگی، اور بانک ماہگنج بلوچ اور بانک حانی بلوچ کا مرکزی کمیٹی کی رکن منتخب ہونا، بلوچ شیرزالوں کے قومی تحریک میں فعال اور کلیدی کردار کا واضح ثبوت ہے۔
جس کا تسلسل بلوچ نیشنل موومنٹ نے برقرار رکھتے ہوئے کٹھن حالات کے باوجود 2022 کا کونسل سیشن منعقد کیا، جس میں بانک ماہ گنج اور بانک بامسار بلوچ کو مرکزی کمیٹی کی ممبر منتخب کیا گیا۔ یقیناً جب پارٹیوں میں انقلابی سوچ اور مضبوط ادارہ موجود ہو تو بلوچ شیرزالوں کا کردار قومی تحریک میں نمایاں ہو جاتا ہے۔ لیکن افسوس، پارٹی رہنماؤں کی عدم دلچسپی اور اداروں کی کمزوری کی وجہ سے یہ اکثریتی کونسلران اور ورکرز کی تعداد آج ناپید ہوتی جا رہی ہے۔
آج بھی وہ بلوچ زالبول اپنی قومی تحریک سے نظریاتی طور پر وابستہ رہتے ہوئے تحریکِ آزادی کے اصولوں کے لیے ہر وقت تیار ہیں، مگر پارٹی کی عدم توجہ اور پدرشاہی رجحانات نے ان اکثریتی جہدکاروں سے ان کے حقوق چھین کر انہیں مایوسی کی اندھی نگری میں دھکیل دیا ہے۔ جیسا کہ ڈاکٹر جلال بلوچ نے، جو بی این ایم جیسی آزادی پسند پارٹی کے وائس چیئرمین رہ چکے ہیں، اپنی تحریر کردہ کتاب عورت اور سماج میں لیڈرشپ کی کمزوریوں اور عدم دلچسپی کا بارہا اظہار کیا ہے۔
میں ڈاکٹر صاحب کی رائے سے اتفاق کرتا ہوں کہ اس کی اصلاح ناگزیر ہے، مگر شرط یہ ہے کہ ہم پدرشاہی اور انا پرستی کے خول سے نکل کر اجتماعی مساوات اور جمہوری سوچ کو اپنائیں، اور شیرزالوں کو اپنی انقلابی صلاحیتیں دکھانے کا موقع دے کر ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ آزادی پسند پارٹیوں اور تنظیموں کی لیڈرشپ اور ذمہ داران کو چاہیے کہ وہ اپنے اندر انقلابی رجحان پیدا کر کے عملی کردار ادا کریں، کیونکہ یہی غفلت، عدم مساوات اور پدرشاہی رویے ماضی میں ہمیشہ بلوچ قومی تحریک کو منزل تک پہنچنے سے پہلے زمین بوس کرتے رہے ہیں۔
لہٰذا میری التجا ہے کہ قومی یکجہتی اور بلوچ راجی آجوئی کے اس پُرآشوب سفر کے لیے (بلوچ عورت اور سماج) جیسی انمول کتاب کو اپنے پارٹی سرکلز کا زیور بنایا جائے، اور آنے والے جہدکاروں اور بلوچ نسل کے لیے اسے ایک درسگاہ کی حیثیت دی جائے۔ یہ قومی تحریک میں ایک مثبت پیش رفت ثابت ہوگی اور فرسودہ نظامِ سیاست کی حوصلہ شکنی کا باعث بنے گی، جو بالآخر قومی تحریکِ آزادی کی کامیابی کی ضامن ہو سکتی ہے۔
بلوچ اور تمام محکوم اقوام کو اپنی آزادی کے سفر میں کامیابی و کامرانی نصیب ہو۔
