
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام احتجاجی کیمپ، تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کی قیادت میں، کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 6056 دن مکمل کرچکا ہے۔ شدید سردی اور برف باری کے باوجود احتجاج کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
احتجاجی کیمپ کے دوران مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے کیمپ کا دورہ کیا اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے یکجہتی کا اظہار کیا۔
اس موقع پر جبری لاپتہ افراد سراج احمد اور شاہ زیب کے لواحقین نے بھی احتجاج میں شرکت کی اور اپنی شکایات ریکارڈ کروائیں۔ لواحقین نے بتایا کہ سراج احمد ولد محمد انور اور شاہ زیب ولد الٰہی بخش کو گزشتہ سال 29 دسمبر کو سریاب کسٹم کے علاقے سے مبینہ طور پر ملکی اداروں کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کردیا۔
لواحقین کے مطابق جب انہوں نے متعلقہ تھانے میں ایف آئی آر کے اندراج کے لیے رابطہ کیا تو ایس ایچ او نے مقدمہ درج کرنے سے انکار کردیا۔ اس کے علاوہ اعلیٰ حکام سے رجوع کرنے کے باوجود بھی انہیں سراج احمد اور شاہ زیب کے بارے میں کسی قسم کی معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں، جس کے باعث خاندان شدید ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔
وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے لواحقین کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ سراج احمد اور شاہ زیب کے کیسز کو کمیشن اور صوبائی حکومت کے سامنے پیش کیا جائے گا اور ان کی باحفاظت بازیابی کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کی جائے گی۔
نصراللہ بلوچ نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ دونوں افراد کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں منظرِ عام پر لا کر عدالت میں پیش کیا جائے، تاکہ قانون کے مطابق کارروائی ہوسکے۔
