
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے قائم احتجاجی کیمپ آج کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 6055ویں روز بھی کوئٹہ پریس کلب کے سامنے جاری رہا۔
اس دوران مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا، اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔
اس موقع پر جبری لاپتہ محمد شفاء اور علاوالدین کے لواحقین نے احتجاج میں شرکت کی، اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا، اور اپنے لاپتہ پیاروں کی جبری گمشدگی کی تفصلات وی بی ایم پی کے پاس جمع کرادیئے، انہوں نے کہا کہ ان کے احتجاج ریکارڈ کرانے کا مقصد یہ ہے، اعلی حکام ان کی التجا کو سنیں، اور انہیں ملکی قوانین کے تحت انصاف فراہم کرنے میں اپنی کردار ادا کرے۔
محمد رقیق نے کہا کہ ان کے بھائی محمد شفاء ولد سفر خان جو ایک پولیس اہلکار ہے، جنہیں ان کے ایک دوست عبیداللہ کے ہمراہ گزشتہ سال 22 نومبر کو ملکی اداروں کے اہلکاروں نے شمس آباد، جنگل کراس مستونگ سے حراست میں لینے کے بعد جبری لاپتہ کردیا، اور عبیداللہ کو 31 دسمبر 2025 کو چھوڑ دیا، لیکن محمد شفاء تاحال لاپتہ ہے۔
انہوں نے تنظیم سے یہ بھی شکایت کی، کہ وہ محمد شفاء کی جبری گمشدگی کی ایف آئی آر درج کرنے کے لیے متعلقہ تھانہ سے کئی بار رابطہ کیا، لیکن ایس ایچ او نے ان کا ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کیا۔
زوہیب احمد نے تنظیم سے شکایت کی، کہ ان کے بھائی علاوالدین ولد عبدالجیل کو سیکورٹی فورسز نے 25 مئی 2019 میں بٹو بازار نوشکی سے حراست میں لینے کے بعد جبری لاپتہ کیا، انہوں نے کئی بار اعلی حکام سے رابطہ کرکے اپنے بھائی کی بازیابی کی اپیل کرتے آرہے ہیں، نہ ان کے بھائی کی ایف آئی آر درج کیا جارہا، اور نہ ہی انہیں ان کے بھائی کی سلامتی کے حوالے سے معلومات فراہم کیا جارہا ہے، جس کی وجہ سے ان کے خاندان شدید دباو کے شکار ہے۔
وی بی ایم پی کے چیرمین نصراللہ بلوچ نے اس موقع پر محمد شفاء اور علاوالدین کے لواحقین کو یقین دھانی کرائی، کہ تنظیمی سطح پر دونوں نوجوانوں کے کیس کو کمیشن اور صوبائی حکومت کو فراہم کیا جائے گا، اور ان کی باحفاظت بازیابی کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کیا جائے گا۔
نصراللہ بلوچ نے اعلی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ محمد شفاء اور علاوالدین کی بازیابی کو یقینی بنائے، اور اگر دونوں نوجوانوں پر کوئی الزام ہے تو انہیں منظر عام پر لاکر عدالت میں پیش کیا جائے۔
