
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز ( وی بی ایم پی ) کے زیر اہتمام احتجاجی کیمپ کو تنظیم کے چیرمین نصراللہ بلوچ کی قیادت میں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 6054 دن مکمل ہوگئے۔
جبری لاپتہ مٹھا خان مری اور نسرینہ کے لواحقین نے احتجاج میں شرکت کیا، اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا، انہوں نے اعلی حکام سے اپیل کی، کہ وہ نسرینہ بلوچ اور مٹھا خان مری کی بازیابی کو یقینی بنائے، اگر ان پر کوئی الزام ہے تو ان کو منظر عام پر لاکر عدالت میں پیش کیا جائے، تاکہ انہیں کرب و اذیت سے نجات مل جائے۔
اسی دوران مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والےافراد نے بھی احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا، اور اظہار یکجہتی کی،انہون جبری گمشدگیوں کا فوری خاتمہ اور لاپتہ افراد بلخصوص بلوچ خواتین کی بازیابی کامطالبہ کیا۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیرمین نصراللہ بلوچ نے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جبری گمشدگیاں انسانی حقوق اور ملکی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے، ایک شخص کی جبری گمشدگی کی وجہ سے ان کے پورا خاندان ذہنی دباو کی کرب و اذیت کے شکار ہوجاتا ہے، جس کی وجہ سے ان کی زندگی مفلوج ہوکر رہ جاتی ہے۔
انہوں نے اعلی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو انسانی ہمدردی کے بنیاد پر دیکھے، جبری گمشدگیوں اور ماورائے قتل کرنے کے سلسلے کا فوری خاتمہ کیا جائے، اور تمام جبری لاپتہ افراد کو منظر عام پر لاکر انہیں قانونی چارہ جوئی کا حق دیا جائے، تاکہ ان کے خاندان زندگی بھر کی کرب و اذیت سے نجات مل سکے۔
