آٹھ مختلف کارروائیوں میں 8 فوجی اہلکار ہلاک، فوجی راشن ضبط اور ناکہ بندیوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ بی ایل ایف 

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے 19 جنوری کو بلیدہ کے علاقے زیردان میں پاکستانی فوجی چوکی میں پکٹ پر جانے والے موٹر سائیکل سوار اہلکار کو سنائپر حملے میں نشانہ بنایا۔ سنائپر حملے میں ایک اہلکار ہلاک ہوگیا۔ بعدازاں بھاری ہتھیاروں سے حملہ کرکے قابض فوج کو جانی اور مالی نقصان سے دوچار کیا۔ ترجمان نے کہا کہ سرمچاروں نے 18 جنوری کی شام تمپ کے علاقے میرآباد میں پاکستانی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر نصب نگرانی کے کیمروں کو نشانہ بنا کر ناکارہ بنایا۔ جبکہ سرمچاروں نے 18 جنوری کو ناصرآباد اور نودز کے درمیانی علاقے میں فوج کو راشن فراہم کرنے والی ایک زمیاد گاڑی کو تحویل میں لے کر اس کا سامان ضبط کر لیا۔ انہوں نے کہا کہ سرمچاروں نے 17 جنوری کو پنجگور کے علاقے رخشان کور میں سی پیک شاہراہ پر سہ پہر چار بجے سے رات آٹھ بجے تک ناکہ بندی کرکے اسنیپ چیکنگ کی گئی، تاہم اس دوران کسی ادارے یا ریاستی اہلکار کی آمد و رفت نہیں ہوئی۔ ترجمان نے کہا کہ سرمچاروں نے 17 جنوری کی صبح چار بجے تمپ کے علاقے گومازی میں آپریشن کی غرض سے داخل ہونے والے ایک فوجی قافلے کو گھات لگا کر انتہائی قریب سے نشانہ بنایا۔ اس حملے میں 6 فوجی اہلکار ہلاک اور 4 زخمی ہوئے، جبکہ دو گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا۔ بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کی ذیلی یونٹ، اسنائپر ٹیکٹیکل ٹیم (STT)، کے سرمچاروں نے 16 جنوری کو کولواہ کے علاقے آشال میں قائم پاکستانی فوج کے کیمپ کی حفاظتی چوکی پر تعینات ایک اہلکار کو نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا۔ اس حملے کی ویڈیو جلد تنظیم کے میڈیا چینل ’’آشوب‘‘ پر شائع کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سرمچاروں نے 16 جنوری کو سہ پہر تقریباً چار بجے کولواہ کے علاقے گیشکور بازار میں پاکستانی فوج کے مرکزی کیمپ کو دو اطراف سے گھیر کر حملہ کیا۔ اس حملے میں جدید اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں فوج کو جانی و مالی نقصان پہنچا۔ اس کارروائی کی بھی ویڈیو جو جلد میڈیا چینل ’’آشوب‘‘ پر شائع کی جائے گی۔ بیان میں کہا گیا کہ دریں اثناء گومازی میں فوجی قافلہ 6 گاڑیوں پر مشتمل تھا، جو علاقے میں گھروں کی تلاشی کے لیے جا رہا تھا۔ خفیہ اطلاع کی بنیاد پر سرمچاروں نے پہلے سے گھات لگا کر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں فوج کو شدید جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ سرمچاروں نے 10 جنوری کو تربت کے علاقے ناصرآباد میں شاہراہ پر ناکہ بندی کر کے گاڑیوں کی تلاشی لی۔ اس دوران پاکستانی فوج کے لیے رسد لے جانے والی ایک گاڑی کو ڈرائیور سمیت تحویل میں لیا، تاہم بعد ازاں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ڈرائیور کو رہا کر دیا۔ ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ ان مختلف کارروائیوں میں 8 فوجی اہلکاروں کی ہلاکت، 4 کے زخمی ہونے، فوجی راشن کی ضبط کرنے اور ناکہ بندیوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔

مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

ڈیرہ بگٹی میں گیس اور نصیر آباد میں ریلوے ٹریک کو تباہ کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ بی آر جی

منگل جنوری 20 , 2026
بلوچ ریپبلکن گارڈز کے ترجمان دوستین بلوچ نے کہا ہے کہ گزشتہ شب سرمچاروں نے ڈیرہ بکٹی کے علاقے سوئی میں محمد اور مندوانی کالونی کے درمیان سوئی تا ڈیرہ بگٹی روڈ جیلا پل کے قریب 24 انچ گیس پائپ لائن کو دھماکہ خیز مواد نصب کر کے تباہ کر […]

توجہ فرمائیں

زرمبش اردو

زرمبش آزادی کا راستہ

زرمبش اردو ، زرمبش براڈ کاسٹنگ کی طرف سے اردو زبان میں رپورٹس اور خبری شائع کرتا ہے۔ یہ خبریں تحریر، آڈیوز اور ویڈیوز کی شکل میں شائع کی جاتی ہیں۔

آسان مشاہدہ