
جئے سندھ فریڈم موومنٹ (JSFM) کے زیرِ اہتمام برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں پہلی جی۔ ایم۔ سید انٹرنیشنل کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں سائیں جی۔ ایم۔ سید کو اُن کی 122ویں یومِ پیدائش کے موقع پر شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ مقررین نے سائیں جی۔ ایم۔ سید کو محکوم اقوام کے اتحاد کا علمبردار اور قومی آزادی کی جدوجہد کا عظیم رہنما قرار دیا۔
کانفرنس میں برطانیہ کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے سندھی، بلوچ، پشتون اور کشمیری نمائندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پروگرام کا آغاز قومی ترانے سندھو دیش سے ہوا، جس کے بعد سائیں جی۔ ایم۔ سید کی سالگرہ کے موقع پر کیک کاٹا گیا۔ کانفرنس کی نظامت طاہر خان نے انجام دی۔
جئے سندھ فریڈم موومنٹ کے چیئرمین سہیل ابڑو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سائیں جی۔ ایم۔ سید نے ہمیشہ سندھی، بلوچ، پشتون اور سرائیکی اقوام کے درمیان اتحاد کی بات کی۔ انہوں نے برطانیہ میں محکوم اقوام کے اتحاد کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم بنانے کی تجویز پیش کی، جسے شرکاء نے متفقہ طور پر منظور کیا۔
بلوچ نیشنل موومنٹ کے فارن سیکریٹری فہیم بلوچ نے سائیں جی۔ ایم۔ سید کو شہید قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھی نواب نوروز خان کی طرح نظر بندی کے دوران انتقال کر گئے۔
کشمیر، گلگت اور بلتستان تحریک کے رہنما ایوب مرزا نے کہا کہ تقسیمِ برصغیر کے بعد پاکستان نے کشمیر، گلگت اور بلتستان پر غیرقانونی قبضہ کیا، جسے ختم ہونا چاہیے۔
بلوچ ایڈووکیسی اینڈ ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر خورشید بلوچ نے کہا کہ بلوچ عوام قیامِ پاکستان سے اب تک مسلسل جبر کا شکار ہیں اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کو بھی روکا جا رہا ہے، تاہم یہ مظالم بالآخر آزادی پر منتج ہوں گے۔
ایم کیو ایم لندن کے نمائندے مؤن خان نے کہا کہ الطاف حسین کی سائیں جی۔ ایم۔ سید سے ملاقاتیں رہی ہیں اور سندھ کے بہتر مستقبل کے لیے تمام فریقین کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔
جئے سندھ فریڈم موومنٹ کے مرکزی ترجمان منصور علی حب نے کہا کہ وفاقی نظام نے محکوم اقوام کو ان کے حقوق سے محروم رکھا ہے اور آزادی کے بغیر کوئی راستہ موجود نہیں۔
ریڈیو وائس آف سندھ لندن کے ڈائریکٹر امداد علی اُدھو نے سائیں جی۔ ایم۔ سید کے ساتھ اپنی یادیں تازہ کرتے ہوئے انہیں ایک عظیم اور عوامی رہنما قرار دیا۔
پشتون تحفظ موومنٹ (PTM) کے نمائندے شاہد خان کاکڑ نے کہا کہ پاکستان میں محکوم اقوام کے بنیادی حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق 80 ہزار پشتون قتل، 6,700 لاپتہ اور 5,700 پی ٹی ایم کارکن قید ہیں۔
پی ٹی ایم لندن کی خاتون رہنما بی بی شربانو نے کہا کہ پشتون بزرگوں کو قرآن پر جھوٹی قسمیں دے کر دھوکہ دیا گیا، اب احتساب کا وقت آ چکا ہے۔
وائس فار مسنگ پرسنز سندھ کے نمائندے سارنگ سندھی نے کہا کہ سندھ میں انسانی حقوق کی صورتحال نہایت تشویشناک ہے اور سائیں جی۔ ایم۔ سید کے 100 سے زائد کارکن لاپتہ ہیں۔
کنول اوڈھو نے روزنامہ عوامی آواز (17 جنوری 1991) میں شائع ہونے والا سائیں جی۔ ایم۔ سید کا تاریخی انٹرویو پڑھ کر سنایا۔
جرمنی سے جئے سندھ فریڈم موومنٹ کے کوآرڈینیٹر محمد علی نوناری نے کہا کہ وہ سائیں جی۔ ایم۔ سید، باچا خان اور نواب خیر بخش مری کا پیغام نئی نسل تک پہنچا رہے ہیں۔
ریفریشمنٹ کے انتظامات جئے سندھ فریڈم موومنٹ کے یو کے کوآرڈینیٹر محمد اسامہ سومرو کی نگرانی میں کیے گئے۔
اختتام پر متفقہ قراردادیں منظور کی گئیں، جن میں
محکوم خطوں کے لیے حقِ خودارادیت، فوجی آپریشنز کے خاتمے، لاپتہ افراد کی بازیابی، وسائل پر مقامی اقوام کے حق اور اقوامِ متحدہ سے مداخلت کا مطالبہ شامل تھا۔
کانفرنس کا اختتام سائیں جی۔ ایم۔ سید کی جدوجہد کو آگے بڑھانے کے عزم کے ۔
