
بلوچستان کے علاقوں کوئٹہ اور پنجگور سے دو بھائیوں سمیت چار نوجوانوں کے جبری طور پر جبری لاپتہ ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق نوجوانوں کو پاکستانی فورسز نے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کیا، جس کے بعد ان کے بارے میں کوئی اطلاع دستیاب نہیں۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے مطابق عبدالقہار اور مصور قمبرانی کے اہلِ خانہ نے تنظیم سے رابطہ کر کے بتایا کہ 16 جنوری کی رات تقریباً 12 بجے کو کوئٹہ کے علاقے کلی قمبرانی میں چھاپوں کے دوران عبدالقہار ولد عبدالجبار قمبرانی اور مصور قمبرانی ولد افضل قمبرانی کو حراست میں لے لیا گیا اور بعد ازاں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
وی بی ایم پی کا کہنا ہے کہ اہلِ خانہ نے انتظامیہ سے متعدد بار رابطہ کیا، تاہم نہ تو گرفتاری کی وجہ بتائی جا رہی ہے اور نہ ہی نوجوانوں کی سلامتی کے حوالے سے کوئی معلومات فراہم کی گئی ہیں، جس کے باعث خاندان شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہے۔
دوسری جانب ضلع پنجگور کے علاقے تسپ سے بھی دو بھائیوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق گزشتہ شب سیکیورٹی فورسز نے گھر پر چھاپہ مار کر محمد عمران اکرم اور رضوان اکرم ولد محمد اکرم کو حراست میں لیا، جس کے بعد وہ لاپتہ ہیں۔
